ADVERTISEMENT

افسانے پرشناخت

برقعے

سعادت حسن منٹو

کہانی میں برقعے کی وجہ سے پیدا ہونے والی مضحکہ خیز صورت حال کو بیان کیا گیا ہے۔ ظہیر نامی نوجوان کو اپنے پڑوس میں رہنے والی لڑکی سے عشق ہو جاتا ہے۔ لیکن اس گھر میں تین لڑکیاں ہیں اور تینوں برقعہ پہنتی ہیں۔ ظہیر خط کسی اور کو لکھتا ہے اور ہاتھ کسی اور کا پکڑتا ہے۔ اسی چکر میں اس کی ایک دن پٹائی ہو جاتی ہے اور پٹائی کے فوراً بعد اسے ایک رقعہ ملتا ہے کہ تم اپنی ماں کو میرے گھر کیوں نہیں بھیجتے۔ آج تین بجے سنیما میں ملنا۔

انقلاب پسند

سعادت حسن منٹو

اس کہانی کا مرکزی کردار سلیم ایک فطری انقلاب پسند واقع ہوا ہے۔ وہ کائنات کی ہر شے حتی کہ اپنے کمرے کی ترتیب میں بھی انقلاب دیکھنا پسند کرتا ہے۔ وہ دنیا سے غربت، بے روزگاری، ناانصافی اور استحصالی نظام کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ بازاروں میں تقریریں کرتا ہے لیکن اسے پاگل سمجھ کر پاگل خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

ADVERTISEMENT

مسٹر معین الدین

سعادت حسن منٹو

’’سماجی رسوخ اور ساکھ کے گرد گھومتی یہ کہانی معین نامی ایک شخص کی شادی شدہ زندگی پر مبنی ہے۔ معین نے زہرہ سے اس کے ماں باپ کے خلاف جاکر شادی کی تھی اور پھر کراچی میں آ ن بسا تھا۔ کراچی میں اس کی بیوی کا ایک ادھیڑ عمر کے شخص کے ساتھ تعلقات قائم ہو جاتے ہیں۔ معین کو یہ بات معلوم ہے۔ لیکن اپنی محبت اور معاشرتی ذمہ داری کا پاس رکھنے کے لیے وہ بیوی کو طلاق نہیں دیتا اور اسے اس کے عاشق کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دیتا ہے۔ کچھ عرصے بعد جب عاشق کی موت ہو جاتی ہے تو معین اسے طلاق دے دیتا ہے۔‘‘

نیا سال

سعادت حسن منٹو

یہ زندگی سے جدوجہد کرتے ایک اخبار کے ایڈٹر کی کہانی ہے۔ حالانکہ اسے اس اخبار سے دولت مل رہی تھی اور نہ ہی شہرت۔ پھر بھی وہ اپنے کام سے خوش تھا۔ اس کے مخالف اس کے خلاف کیا کہتے ہیں؟ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ یا پھر دنیا اس کی راہ میں کتنی مشکلیں پیدا کر رہی ہے، اس سے اسے کوئی مطلب نہیں تھا۔ اسے تو بس مطلب ہے اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنے سے۔ یہی کام وہ گزشتہ چار سال سے کرتا آ رہا تھا اور اب جب نئے سال کا آغاز ہونے والا ہے تو وہ اس سے بھی مقابلے کے لیے تیار ہے۔

اودھ کی شام

قرۃ العین حیدر

افسانے میں اودھ یعنی لکھنؤ کی ایک شام کا ذکر ہے جس میں ایک انگریز لڑکا ایک ہندوستانی لڑکی کو ساتھ ناچنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ لڑکی اس کے ساتھ رقص کرتی ہے اور تحریک آزادی، اودھ کی سلطنت اور اسکے رسم و رواج اور رونق کی داستان بیان کرتی ہے۔

ADVERTISEMENT

ساسان پنجم

نیر مسعود

یہ افسانہ فرض ناشناس اقوام کے زوال کا نوحہ ہے۔ ساسان پنجم کے زمانے کی عمارت پر کندہ عبارت پڑھنے اور اسے سمجھنے کے لیے آثار قدیمہ کے ماہرین بلاے جاتے ہیں وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود عبارت پڑھنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ تحقیق کے بعد یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ساسان پنجم کا وجود فرضی ہے۔

قید خانہ

احمد علی

ایک ایسے شخص کی کہانی جو تنہا ہے اور وقت گزارنے کے لیے ہر روز شام کو شراب خانے میں جاتا ہے۔ وہاں روز کے ساتھیوں سے اس کی بات چیت ہوتی ہے اور پھر وہ درختوں کے جھرمٹ میں چھپے اپنے گھر میں آ جاتا ہے۔ گھر اسے کسی قید خانے کی طرح لگتا ہے۔ وہ گھر سے نکل پڑتا ہے، قبرستان، پہاڑیوں اور دوسری جگہوں سے گزرتے، لوگوں سے میل ملاقات کرتے، ان کے ساتھ وقت گزارتے وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ زندگی ایک قید خانہ ہے۔

وقار محل کا سایہ

ممتاز مفتی

وقار محل کے معرفت ایک گھر اور اس میں رہنے والے لوگوں کے ٹوٹتے بنتے رشتوں کی داستان کو بیان کیا گیا ہے۔ وقار محل کالونی کے وسط میں واقع ہے۔ ہر کالونی والا اس سے نفرت بھی کرتا ہے اور ایک طرح سے اس پر فخر بھی۔ مگر وقار محل کو پچھلے کئی سالوں سے گرایا جا رہا ہے اور وہ اب بھی ویسے کا ویسا کھڑا ہے۔ مزدور دن رات کام میں لگے ٹھک ٹھک کرتے رہتے ہیں۔ ان کی ٹھک ٹھک کی اس آواز سے ماڈرن خیال کی ماڈرن لڑکی زفی کے بدن میں سہرن سی ہونے لگتی ہے۔ اور یہی سہرن اسے کئی لوگوں کے پاس لے جاتی ہے اور ان سے دور بھی کرتی ہے۔