غزل میں انشائیہ اور خبریہ اندازِ بیان کی اہمیت
کلاسیکی غزل میں انشائیہ (استفہامیہ) انداز کو خبریہ انداز پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ یہ شعر میں معنی کے لامحدود امکانات پیدا کرتا ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
کلاسیکی غزل میں انشائیہ (استفہامیہ) انداز کو خبریہ انداز پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ یہ شعر میں معنی کے لامحدود امکانات پیدا کرتا ہے۔
اس مضمون میں ساختیاتی تنقید کے حوالے سے اردو شاعری کی تین معنیاتی سطحوں (عاشقانہ، متصوفانہ، اور سیاسی) کا جائزہ لیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ فیض نے کس طرح روایتی علائم کو انقلابی مفاہیم دیے۔