مرزاغالب پر اشعار

غالب کی عظمت کا اعتراف کس نے نہیں کیا ۔ نہ صرف ہندوستانی ادبیات بلکہ عالمی ادب میں غالب کی عظمت اور اس کے شعری مرتبے کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ غالب کے ہم عصر اور ان کے بعد کے شاعروں نے بھی ان کو ان کی استادی کا خراج پیش کیا ہے ۔ ایسے بہت سے شعر ہیں جن میں غالب کے فنی و تخلیقی کمال کے تذکرے ملتے ہیں ۔ ہم ایک چھوٹا سا انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔

ہم خود بھی ہوئے نادم جب حرف دعا نکلا

سمجھے تھے جسے پتھر وہ شخص خدا نکلا

ہلال فرید

قسمت کے بازار سے بس اک چیز ہی تو لے سکتے تھے

تم نے تاج اٹھایا میں نے غالبؔ کا دیوان لیا

سید نصیر شاہ

تم کو دعویٰ ہے سخن فہمی کا

جاؤ غالبؔ کے طرف دار بنو

عادل منصوری

حالیؔ سخن میں شیفتہؔ سے مستفید ہے

غالبؔ کا معتقد ہے مقلد ہے میرؔ کا

الطاف حسین حالی

وہ تبسم ہے کہ غالبؔ کی طرح دار غزل

دیر تک اس کی بلاغت کو پڑھا کرتے ہیں

آل احمد سرور

اریبؔ دیکھو نہ اتراؤ چند شعروں پر

غزل وہ فن ہے کہ غالبؔ کو تم سلام کرو

سلیمان اریب

غالب اور میرزا یگانہؔ کا

آج کیا فیصلہ کرے کوئی

یگانہ چنگیزی

حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے

ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے

افتخار عارف

سازؔ جب کھلا ہم پر شعر کوئی غالبؔ کا

ہم نے گویا باطن کا اک سراغ سا پایا

عبد الاحد ساز

غالبؔ وہ شخص تھا ہمہ داں جس کے فیض سے

ہم سے ہزار ہیچ مداں نامور ہوئے

ہرگوپال تفتہ

متعلقہ موضوعات