ADVERTISEMENT

افسانے پرمسٹری

عزت کے لیے

سعادت حسن منٹو

چونی لال کو بڑے آدمیوں سے تعلق پیدا کرنے میں ایک عجیب قسم کا سکون ملتا تھا۔ اس کا گھر بھی ہر قسم کی تفریح  اور سہولت کے لیے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ ہربنس ایک بڑے افسر کا بیٹا تھا۔ فسادات کے زمانے میں اس نے چونی لال کی بہن روپا کی عصمت دری کی تھی۔ جب خون بہنا بند نہیں ہوا تو اس نے چونی لال سے مدد مانگی تھی۔ چونی لال نے اپنی بہن کو دیکھا لیکن اس پر بے حسی طاری رہی اور وہ یہ سوچنے میں  مصروف رہا کہ کس طرح ایک بڑے آدمی کی عزت بچائی جائے۔ اس کے برعکس ہربنس پر جنون طاری ہو جاتا ہے اور وہ چونی لال کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔ اخباروں میں خبر چھپتی ہے کہ چونی لال نے اپنی بہن سے منہ کالا کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

باسط

سعادت حسن منٹو

مختلف وجہوں سے باسط اس لڑکی سے شادی پر رضامند نہیں تھا جس لڑکی سے اس کی ماں اس کی شادی کرانا چاہتی تھیں۔ بالآخر اس نے ہتھیار ڈال دیے۔ شادی کے بعد باسط کی بیوی سعیدہ ہر وقت خوفزدہ اور چپ چپ سی رہتی تھی جسے ابتدا میں باسط نے نیے ماحول اور سسرال کی جھجھک پر محمول کیا۔ لیکن ایک دن غسل خانہ میں جب سعیدہ کا حمل ضائع ہوا تب باسط کو صحیح صورت حال کا اندازہ ہوا۔ باسط نے سعیدہ کو معاف کر دیا لیکن باسط کی ماں نامکمل بچہ دیکھ کر برداشت نہ کر سکی اور دنیا سے چل بسی۔

چور

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک قرضدار شرابی شخص کی کہانی ہے۔ وہ شراب کے نشہ میں ہوتا ہے، جب اسے اپنے قرض اور ان کے وصول کرنے والوں کا خیال آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اسے اگر کہیں سے پیسے مل جایں تو وہ اپنا قرض اتار دے۔ حالانکہ ایک زمانہ میں وہ اعلیٰ قسم کا تکنیشین تھا اور اب وہ قرضدار تھا۔ جب قرض اتارنے کی اسے کوئی صورت نظر نہیں آئی تو اس نے چوری کرنے کی سوچی۔ چوری کے ارادے سے وہ دو گھروں میں گیا بھی، مگر وہاں بھی اس کے ساتھ کچھ ایسا حادثہ ہوا کہ وہ چاہ کر بھی چوری نہیں کر سکا۔ پھر ایک دن اسے ایک شخص پچاس ہزار روپیے دے گیا۔ ان روپیوں سے جب اس نے اپنے ایک قرضدار کو کچھ روپیے دینے چاہے تو تکیے کے نیچے سے روپیوں کا لفافہ غائب تھا۔‘‘

سراج

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسی نوجوان طوائف کی کہانی ہے، جو کسی بھی گراہک کو خود کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی۔ حالانکہ جب اس کا دلال اس کا سودا کسی سے کرتا ہے، تو وہ خوشی خوشی اس کے ساتھ چلی جاتی ہے، لیکن جیسے ہی گراہک اسے کہیں ہاتھ لگاتا ہے کہ اچانک اس سے جھگڑنے لگتی ہے۔ دلال اس کی اس حرکت سے بہت پریشان رہتا ہے، پر وہ اسے خود سے الگ بھی نہیں کر پاتا ہے، کیونکہ وہ اس سے محبت کرنے لگا ہے۔ ایک روز وہ دلال کے ساتھ لاہور چلی جاتی ہے۔ وہاں وہ اس نوجوان سے ملتی ہے، جو اسے گھر سے بھگا کر ایک سرائے میں تنہا چھوڑ گیا تھا۔‘‘

ADVERTISEMENT

پالی ہل کی ایک رات

قرۃ العین حیدر

ڈرامے کی شکل مٰیں لکھا گیا ایک ایسا افسانہ ہے جس کے سارے کردار علامتی ہیں۔ افراد خانہ جب عبادت کی تیاری میں مصروف تھا جبھی بارش میں بھیگتا ہوا ایک غیر ملکی جوڑا دروازے پر دستک دیتا ہے اور اندر چلا آتا ہے۔ بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ نو وارد کا تعلق ایران سے ہے۔ اس کے بعد واقعات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو سب کچھ بدل کر رکھ دیتا ہے۔

موج دین

سعادت حسن منٹو

یہ کہانی مذہبی مساوات کے باوجود معاشرے میں رائج ثقافتی تقسیم کو بہت ہی واضح طور سے بیان کرتی ہے۔ موج دین ایک بنگالی نوجوان ہے، جو مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور آیا ہوا ہے۔ وہاں سے اسے چندہ جمع کرنے کے لیے کشمیر بھیجا جاتا ہے۔ وہاں جا کر جب اسے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر میں جنگ ہونے والی ہے تو وہ بھی اس میں شامل ہونے کے لیے واپس لوٹ جانے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ مدرسے کے سربراہ کو بنگالی زبان میں ایک خط لکھتا ہے، جسے خفیہ محکمہ کے لوگ کوڈ زبان سمجھ کر اسے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیتے ہیں۔ گرفتاری کے دوران اسے اس قدر ٹارچر کیا جاتا ہے کہ وہ جیل میں ہی پھانسی لگاکر مر جاتا ہے۔

شاداں

سعادت حسن منٹو

امیر گھروں میں کام کرنے والی غریب، مظلوم اور کمسن لڑکیوں کی اس گھر کے مردوں کے ذریعہ ہونے والی جنسی استحصال کی کہانی ہے۔ خان بہادر محمد اسلم خان بہت مطمئن اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے تین بچے تھے، جو اسکول کے بعد سارا دن گھر میں شور غل مچاتے رہتے تھے۔ انہیں دنوں ایک عیسائی لڑکی شاداں ان کے گھر میں کام کرنے آنے لگی۔ وہ بھی بچی تھی، لیکن اچانک ہی اس میں جوانی کے رنگ ڈھنگ دکھنے لگے۔ ایک روز خان صاحب کو شاداں کے زنا کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ شاداں تو اسی روز مر گئی تھی اور خان صاحب بھی ثبوت نہ ہونے کی بنا پر بری ہو گئے تھے۔

مس ٹین والا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک نفسیاتی مریض کی ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں پر مبنی کہانی ہے۔ زیدی صاحب ایک تعلیم یافتہ شخص ہیں اور بمبئی میں رہتے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے وہ ایک بلے کی اپنے گھر میں آمد ورفت سے پریشان ہیں۔ وہ بلا اتنا ڈھیٹ ہے کہ ڈرانے، دھمکانے یا پھر مارنے کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ کھانے کے بعد بھی وہ اسی طرح اکڑ کے ساتھ زیدی صاحب کو گھورتا ہوا گھر سے باہر چلا جاتا ہے۔ اس کے اس رویئے سے زیدی صاحب اتنے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مصنف دوست سے ملنے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے دوست کی اپنی کیفیت اور اس بلے کی شرارتوں کی پوری داستان سناتے ہیں تو پھر دوست کے یاد دلانے پر انہیں یاد آتا ہے کہ بچپن میں اسکول کے باہر مس ٹین والا آیا کرتا تھا، جو مسٹر زیدی پر عاشق تھا۔ وہ بھی اس بلے کی ہی طرح ضدی، اکڑ والا اور ہر طرح کے زد و کوب سے بے اثر رہا کرتا تھا۔

ADVERTISEMENT

وقفہ

نیر مسعود

ماضی کی یادوں کے سہارے بے رنگ زندگی میں تازگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ افسانہ کا واحد متکلم اپنے مرحوم باپ کے ساتھ گزارے ہوے وقت کو یاد کر کے اپنی شکستہ زندگی کو آگے بڑھانے کی جد و جہد کر رہا ہے جس طرح اس کا باپ اپنی عمارت سازی کے ہنر سے پرانی اور اجاڑ عمارتوں کی مرمت کر کے قابل قبول بنا دیتا تھا۔ نیر مسعود کے دوسرے افسانوں کی طرح اس میں بھی خاندانی نشان اور ایسی مخصوص چیزوں کا ذکر ہے جو کسی کی شناخت برقرار رکھتی ہیں۔

موم بتی کے آنسو

سعادت حسن منٹو

یہ غربت کی زندگی گزارتی ایک ایسی ویشیا کی کہانی ہے جس کے گھر میں اندھیرا ہے۔ طاق میں رکھی موم بتی موم کے آنسو بہاتی ہوئی جل رہی ہے۔ اس کی چھوٹی بچی موتیوں کا ہار مانگتی ہے تو وہ فرش پر جمے موم کو دھاگے میں پرو کر مالا بناکر اس کے گلے میں پہنا دیتی ہے۔ رات میں اس کا گاہک آتا ہے۔ اس سے الگ ہونے پر وہ تھک جاتی ہے، تبھی اسے اپنی بچی کا خیال آتا ہے اور وہ اس کے چھوٹے پلنگ کے پاس جاکر اسے اپنی بانہوں میں بھر لیتی ہے۔

بیمار

سعادت حسن منٹو

یہ ایک تجسس آمیز رومانی کہانی ہے جس میں ایک عورت مصنف کو مسلسل خط لکھ کر اس کے افسانوں کی تعریف کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بیماری کا ذکر بھی کرتی جاتی ہے جو مسلسل شدید ہوتی جا رہی ہے۔ ایک دن وہ عورت مصنف کے گھر آ جاتی ہے۔ مصنف اس کے حسن پر فریفتہ ہو جاتا ہے اور تبھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی ہے جس سے ڈیڑھ برس پہلے اس نے نکاح کیا تھا۔

شیدا

سعادت حسن منٹو

’’یہ امرتسر کے ایک مشہور غنڈے کی اپنی غیرت کے لیے ایک پولیس والے کا قتل کر دینے کی کہانی ہے۔ شیدا کا اصول تھا کہ جب بھی لڑو دشمن کے علاقے میں جاکر لڑو۔ وہ لڑائی بھی اس نے پٹرنگوں کے محلے میں جاکر کی تھی، جس کے لیے اسے دو سال کی سزا ہوئی تھی۔ اس لڑائی میں پٹرنگوں کی ایک لڑکی اس پر فدا ہو گئی تھی۔ جیل سے چھوٹنے پر جب وہ اس سے شادی کی تیاری کر رہا تھا تو ایک پولس والے نے اس لڑکی کا ریپ کرکے اس کا خون کر دیا۔ بدلے میں شیدا نے اس پولیس والے کا سر کلہاڑی سے کاٹ کر دھڑ سے الگ کر دیا۔‘‘

ADVERTISEMENT

تیسری جنس

چودھری محمد علی ردولوی

اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ایک غریب ماں باپ کی بیٹی کی کہانی جو ایک بہتر زندگی کی تلاش میں تھی۔ وہ تحصیلدار صاحب کے زیر سایہ پلی بڑھی تھی۔ جوانی کے ابتدائی ایام میں اس کی شادی ہوئی تو کچھ عرصہ شوہر کے ساتھ رہنے کے بعد اس نے اسے بھی چھوڑ دیا، پھر تحصیلدار صاحب کی موت ہو گئی ۔ بعد میں ایک مردوں جیسی قدوقامت کی عورت اس کے گھر میں رہنے لگی اور لوگوں کے درمیان ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔

موچنا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کے چہرے اور جسم پر مردوں کی طرح بال اگ آتے تھے، جنھیں اکھاڑنے کے لیے وہ اپنے ساتھ ایک موچنا رکھا کرتی تھی۔ حالانکہ دیکھنے میں وہ کوئی زیادہ خوبصورت نہیں تھی پھر بھی اس میں کوئی تو ایسی بات تھی کہ جو مرد اسے دیکھتا اس پر عاشق ہو جاتا۔ اس طرح اس نے بہت سے مرد بدلے۔ جس مرد کے بھی پاس بھی وہ گئی اپنا موچنا ساتھ لیتی گئی۔ اگر کبھی وہ پرانے مرد کے پاس چھوٹ گیا تو اس نے خط لکھ کر اسے منگوا لیا۔ جب وہ ایک شاعر کو چھوڑ کر گئی تو اس نے اس کا موچنا دینے سے انکار کر دیا تاکہ رشتہ کی ایک وجہ تو بنی رہے۔

صدائے جرس

مسز عبدالقادر

’’یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے، جسے مصر سے آئی ہزاروں سال پرانی ممی سے محبت ہو جاتی ہے۔ اس ممی کو دکھانے کے لیے وہ اپنے ایک خاص دوست کو بھی بلاتا ہے۔ دوست کے ساتھ اس کی بیوی بھی آتی ہے۔ وہ جب اپنے دوست کو ممی دکھاتا ہے تو وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ اس کی طرح اس ممی سے اپنی محبت کا اظہار کرے۔ مگر دوست اپنی بیوی کی موجودگی میں اس سے اظہار محبت نہیں کر پاتا۔ اس کے بعد وہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس اپنے گھر چلا آتا ہے۔ پھر کچھ ایسے واقعات ہونے شروع ہوتے ہیں کہ اس کی زندگی کا پہیہ اسی کے خلاف گھومنا شروع ہو جاتا ہے۔‘‘

ساسان پنجم

نیر مسعود

یہ افسانہ فرض ناشناس اقوام کے زوال کا نوحہ ہے۔ ساسان پنجم کے زمانے کی عمارت پر کندہ عبارت پڑھنے اور اسے سمجھنے کے لیے آثار قدیمہ کے ماہرین بلاے جاتے ہیں وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود عبارت پڑھنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ تحقیق کے بعد یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ساسان پنجم کا وجود فرضی ہے۔

ADVERTISEMENT

اس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا

حجاب امتیاز علی

یہ ایک ایسے ہوٹل کی کہانی ہے جس میں ایک مخصوص تاریخ کو ایک عورت کا بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ ہر سال اس مخصوص تاریخ کو ہوٹل والے ہوٹل خالی کر دیتے ہیں کہ انھیں شبہ ہے کہ اس عورت کا بھوت انتقام لینے وہاں آتا ہے۔ سوئے اتفاق اس مخصوص تاریخ کو ہوٹل میں دو فوجیوں کا قیام ہوتا ہے اور انھوں نے اس عورت اور اس کے قتل کی پوری حقیقت سامنے رکھ دی۔

ممی خانے میں ایک رات

حجاب امتیاز علی

یہ ایک تجرباتی کہانی ہے۔ ایک ڈاکٹر نے اپنے پوسٹ مارٹم ہائوس کا نام ممی خانہ رکھا ہے۔ اس علاقے میں ہیضے کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ سارا دن ہنستا کھیلتا انسان شام ہوتے ہوتے موت کی گود میں پناہ لے لیتا تھا۔ ممی خانے میں لاشوں کا انبار لگا ہوا ہے اور ان لاشوں کے ساتھ ڈاکٹر اپنا تجربہ کرتا ہے۔

بن بست

نیر مسعود

افسانہ میں دو زمانے اور دو الگ طرح کے رویوں کا تصادم نظر آتا ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار اپنے بے فکری کے زمانے کا ذکر کرتا ہے جب شہر کا ماحول پر سکون تھا دن نکلنے سے لے کر شام ڈھلنے تک وہ شہر میں گھومتا پھرتا تھا لیکن ایک زمانہ ایسا آیا کہ خوف کے سایے منڈلانے لگے فسادات ہونے لگے۔ ایک دن وہ بلوائیوں سے جان بچا کر بھاگتا ہوا ایک تنگ گلی کے تنگ مکان میں داخل ہوتا ہے تو اسے وہ مکان پراسرار اور اس میں موجود عورت خوف زدہ معلوم ہوتی ہے اس کے باوجود اس کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے لیکن یہ اس کے خوف کی پروا کیے بغیر دروازہ کھول کر واپس لوٹ آتا ہے۔

تم میرے ہو

مجنوں گورکھپوری

یہ سایرہ نام کی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے، جو شادی شدہ ہونے کے باوجود اپنے چچا زاد بھائی جمیل سے محبت کرتی ہے۔ جمیل بھی اسے بہت چاہتا ہے۔ جب اس کی چاہت کا علم اس کے رشتہ داروں کوہوتا ہے تو وہ جمیل کی شادی کر دینے کی سوچتے ہیں۔ سایرہ کی وجہ سے جمیل شادی کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور شہر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ جمیل کے چلے جانے بعد سایرہ اس کی جدائی میں تڑپ کر مر جاتی ہے۔

ADVERTISEMENT

گلنار

مسز عبدالقادر

کہانی لوگوں کے اندھے عقاید اور اسے حقیقت میں پیش کرنے کی داستان کو بیان کرتی ہے۔ وہ دونوں اپنی زندگی سے بے حد خوش تھے۔ لیکن اولاد نہ ہونے کی وجہ سے مایوس بھی تھے۔ دل بہلانے کے لیے اس کی بیوی نے گلنار نام کی بلی پال رکھی تھی، جسے وہ بہت چاہتی تھی۔ اولاد کے لیے شوہر دوسری شادی کر لیتا ہے۔ لیکن دوسری شادی اس کی زندگی کے رخ کو ایک ایسا موڑ دیتی ہے کہ اسے خود اس پر یقین نہیں آتا۔

کونٹ الیاس کی موت

حجاب امتیاز علی

یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو سیر کے لیے پہاڑی علاقے میں گئی ہوئی ہے کہ اسے اپنے چچا کی بیماری کا خط ملتا ہے۔ اس کے گھر پہنچنے کے اگلے ہی دن چچا کی موت ہو جاتی ہے۔ چچا کی موت کے بعد گھر والوں کے سامنے کچھ ایسے عجیب و غریب واقعات پیش آتے ہیں جو ان کے لیے منحوس اور ڈراؤنے ثابت ہوتے ہیں۔