ADVERTISEMENT

افسانے پرتصوف

سمے کا بندھن

ممتاز مفتی

ایک طوائف کی روحانی زندگی کے گرد گھومتی کہانی، جو کوٹھے پر مجرا کیا کرتی تھی۔ مگر ایک روز جب وہ ٹھاکر کے یہاں بیٹھک کے لیے گئی تو اس نے وہاں خواجہ پیا موری رنگ دے چنریا گیت گایا۔ اس گیت کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے اس کی پوری زندگی کو ہی بدل دیا۔ وہ بےقرار رہنے لگی۔ اس بیقراری سے نجات پانے کے لیے اس نے ٹھاکر سے شادی کر لی۔ مگر اس کے بعد بھی اسے سکون نہیں ملا اور وہ خود کی تلاش میں نکل گئی۔

ADVERTISEMENT

دو مونہی

ممتاز مفتی

’’کہانی دوہرے کردار سے جوجھتی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی ہے، جو ظاہری طور پر تو کچھ اور دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر کچھ اور ہی چل رہا ہوتا ہے۔ اپنی اس شخصیت سے پریشان وہ بہت سے ڈاکٹروں سے علاج کراتی ہے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پھر اس کی ایک سہیلی اسے تیاگ کلینک کے بارے میں بتاتی ہے اور وہ اپنے شوہر سے ہل اسٹیشن پر گھومنے کا کہہ کر اکیلے ہی تیاگ کلینک میں علاج کرانے کے لیے نکل پڑتی ہے۔‘‘