ADVERTISEMENT

افسانے پرعمررسیدگی کے مسائل

اوپر نیچے اور درمیان

سعادت حسن منٹو

طبقہ اشرافیہ کے نفاق اور ان کے تکلفات پر مبنی ایک ایسی کہانی ہے جس میں عمر دراز میاں بیوی کے خواب گاہ کے معاملات کو دل چسپ پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے۔

بدتمیزی

سعادت حسن منٹو

ازدواجی زندگی میں ہونے والی نوک جھونک پر مبنی یہ ایک مزاحیہ کہانی ہے۔ جس میں بیوی اپنے شوہر سے کافی دیر تک نوک جھونک کرنے کے بعد کہتی ہے کہ آپ پتلون کے بٹن بالکنی میں کھڑے ہو کر نہ بند کیا کریں، ہمسایوں کو سخت اعتراض ہے اور یہ بہت بڑی بد تمیزی ہے۔

دیوالی کے دیے

سعادت حسن منٹو

اس کہانی میں انسان کی امیدیں اور آرزویں پوری نہ ہونے کا بیان ہے۔ چھت کی منڈیر پر دیے جل رہے ہیں۔ ایک چھوٹی بچی، ایک جوان، ایک کمہار، ایک مزدور اور ایک فوجی یکے بعد دیگرے آتے ہیں۔ سب اپنی اپنی فکروں میں غلطاں ہیں، دیے سب کو چپ چاپ دیکھتے ہیں اور پھر ایک ایک کرکے بجھ جاتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

ایک باپ بکاؤ ہے

راجندر سنگھ بیدی

کہانی اخبار میں شائع ایک اشتہار سے شروع ہوتی ہے جس میں ایک باپ کا حلیہ بتاتے ہوئے اس کے فروخت کرنے کی اطلاع ہوتی ہے۔ اشتہار شائع ہونے کے بعد کچھ لوگ اسے خریدنے پہنچتے ہیں مگر جیسے جیسے انھیں اس کی خامیوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے وہ خریدنے سے انکار کرتے جاتے ہیں۔ پھر ایک دن اچانک ایک بڑا کاروباری اسے خرید لیتا ہے اور اسے اپنے گھر لے آتا ہے۔ جب اسے پتہ چلتا ہے کہ خریدا ہوا باپ ایک زمانے میں بہت بڑا گلوکار تھا اور ایک لڑکی کے ساتھ اس کی دوستی بھی تھی تو کہانی ایک دوسرا رخ اختیار کر لیتی ہے۔

کشمکش

راجندر سنگھ بیدی

اخلاقی قدروں کے  زوال کا نوحہ ہے۔ بڈھا موہنا دو ہفتوں سے بیمار ہے، اکثر ایسا لگتا ہے کہ وہ مر جائے گا لیکن پھر جی اٹھتا ہے۔ اس کے تینوں بیٹے چاہتے ہیں کہ وہ جلد از جلد مر جائے۔ دو ہفتے بعد جب وہ مر جاتا ہے تو اس کا جلوس نکالا جاتا ہے اور اس کے جلوس سے میٹھے چنے اٹھا کر ایک عورت اپنے بیٹے کو دیتی ہے اور کہتی ہے کہ کھا لے تیری بھی عمر اتنی لمبی ہو جائے گی۔ عورت کو دیکھ کر ٹرام کا ڈرایئور، چیکر اور ایک بابو بھی دوڑ کر بوان سے چھوہارے وغیر لے کر کھاتے ہیں۔

ہمجنس با ہمجنس

حجاب امتیاز علی

یہ ایک ایسے جوڑے کی کہانی ہے جن کی شادیاں ادھیڑ عمر کے ساتھیوں کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔ اتفاق سے ایک سفر کے دوران ان دونوں کی ملاقات ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد ان کی زندگی پوری طرح سے بدل جاتی ہے۔