تخیل اور قوتِ ممیزہ: اعتدال کے بغیر شاعری گمراہی ہے
تخیل کی بلند پروازی کو عقل اور قوتِ ممیزہ کی لگام درکار ہوتی ہے، بصورتِ دیگر بے لگام تخیل شاعر کو مہمل گوئی اور گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تخیل کی بلند پروازی کو عقل اور قوتِ ممیزہ کی لگام درکار ہوتی ہے، بصورتِ دیگر بے لگام تخیل شاعر کو مہمل گوئی اور گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔
خیالات کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں، اگر شاعر کو الفاظ کے انتخاب اور ان کی ترتیب پر کامل عبور حاصل نہیں، تو اس کی شاعری بے اثر اور ناقص رہتی ہے۔
غالب نے میر سے جو استفادہ کیا وہ محض تقلید نہیں، بلکہ یہ دونوں عظیم شاعروں کی ذہنی ساخت اور طرزِ فکر کی گہری مماثلت کا ثبوت ہے۔
غزل کی شعریات میں 'کیفیت' فوری جذباتی اثر پیدا کرتی ہے جبکہ 'معنی آفرینی' فکری گہرائی کی غماز ہے، اور ان دونوں کا توازن ہی بڑے شاعر کی پہچان ہے۔