ADVERTISEMENT

افسانے پرانتقام

1919 کی ایک بات

سعادت حسن منٹو

جدوجہد آزادی میں انگریز کی گولی سے شہید ہونے والے ایک طوائف زادے کی کہانی ہے۔ طفیل عرف تھیلا کنجر کی دوبہنیں بھی طوائف تھیں۔ طفیل ایک انگریز کو موت کے گھاٹ اتار کر خود شہید ہو گیا تھا۔ انگریزوں نے بدلہ لینے کی غرض سے دونوں بہنوں کو بلا کر مجرا کرایا اور ان کی عزت کو تار تار کیا۔

آخری سلیوٹ

سعادت حسن منٹو

آزادی ہند کے بعد کشمیر کے لیے دونوں ملکوں میں ہونے والی پہلی جنگ کے مناظر کو پیش کیا گیا ہے۔ کہ کس طرح دونوں ملک کے فوجی جذباتی طور ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں لیکن اپنے اپنے ملک کے آئین اور قانون کے پابند ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ کرنے پر مجبور ہیں۔ وہی لوگ جو جنگ عظیم میں متحد ہو کر لڑے تھے وہ اس وقت الگ الگ ملک میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔

وہ لڑکی

سعادت حسن منٹو

کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے فسادات کے دوران چار مسلمانوں کا قتل کیا تھا۔ ایک دن وہ گھر میں تنہا تھا تو اس نے باہر درخت کے نیچے ایک لڑکی کو بیٹھے دیکھا۔ اشاروں سے اسے بلانے میں ناکام رہنے کے بعد وہ اس کے پاس گیا اور زبردستی اسے اپنے گھر لے آیا۔ جلدی ہی اس نے اسے قابو میں کر لیا اور چومنے لگا۔ بستر پر جانے سے پہلے لڑکی نے اس سے پستول دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے اپنی پستول لاکر اسے دے دی۔ لڑکی نے پستول ہاتھ میں لیتے ہی چلا دی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ جب اس نے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو لڑکی نے بتایا کہ اس نے جن چار مسلمانوں کا قتل کیا تھا ان میں ایک اس لڑکی کا باپ بھی تھا۔

انار کلی

سعادت حسن منٹو

سلیم نام کے ایک ایسے نوجوان کی کہانی جو خود کو شہزادہ سلیم سمجھنے لگتا ہے۔ اسے کالج کی ایک خوبصورت لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے، لیکن وہ لڑکی اسے قابل توجہ نہیں سمجھتی۔ اس کی محبت میں دیوانہ ہو کر وہ اسے انارکلی کا نام دیتا ہے۔ ایک دن اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے والدین نے اسی نام کی لڑکی سے اس کی شادی طے کر دی ہے۔ شادی کی خبر سن کر وہ دیوانہ ہو جاتا ہے اور طرح طرح کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ سہاگ رات کو جب وہ دلہن کا گھونگھٹ ہٹاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ اسی نام کی کوئی دوسری لڑکی تھی۔

ADVERTISEMENT

ہتک

سعادت حسن منٹو

پیار کے دو بول کے لیے ترستی ہوئی ایک ایسی بے بس و بے سہارا طوائف کی کہانی ہے جو ذلت کی انتہا پر پہنچ کر خود آگہی سے دو چار ہوتی ہے۔ سوگندھی ایک پیشہ ور طوائف ہے، رات کے دو بجے جب ایک سیٹھ اسے ٹھکرا کر چلا جاتا ہے تو اس کے اندر کی عورت جاگتی ہے اور پھر ایک شدید قسم کی نفسیاتی کیفیت میں مبتلا ہو کر وہ پیار کا ڈھونگ رچانے والے مادھو لال کو بھی دھتکار کر بھگا دیتی ہے اور اپنے خارش زدہ کتے کو پہلو میں لٹا کر سو جاتی ہے۔

ADVERTISEMENT

عزت کے لیے

سعادت حسن منٹو

چونی لال کو بڑے آدمیوں سے تعلق پیدا کرنے میں ایک عجیب قسم کا سکون ملتا تھا۔ اس کا گھر بھی ہر قسم کی تفریح  اور سہولت کے لیے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ ہربنس ایک بڑے افسر کا بیٹا تھا۔ فسادات کے زمانے میں اس نے چونی لال کی بہن روپا کی عصمت دری کی تھی۔ جب خون بہنا بند نہیں ہوا تو اس نے چونی لال سے مدد مانگی تھی۔ چونی لال نے اپنی بہن کو دیکھا لیکن اس پر بے حسی طاری رہی اور وہ یہ سوچنے میں  مصروف رہا کہ کس طرح ایک بڑے آدمی کی عزت بچائی جائے۔ اس کے برعکس ہربنس پر جنون طاری ہو جاتا ہے اور وہ چونی لال کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔ اخباروں میں خبر چھپتی ہے کہ چونی لال نے اپنی بہن سے منہ کالا کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

انجام بخیر

سعادت حسن منٹو

تقسیم کے دوران ہوئے فسادات میں دہلی میں پھنسی ایک نوجوان طوائف کی کہانی ہے۔ فساد میں قتل ہونے سے بچنے کے لیے وہ پاکستان جانا چاہتی ہے، لیکن اسکی بوڑھی ماں دہلی چھوڑنا نہیں چاہتی۔ آخر میں وہ اپنے ایک پرانے استاد کے ساتھ خاموشی سے پاکستان چلی جاتی ہے۔ وہاں پہنچ کر وہ شرافت کی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ مگر جس عورت پر بھروسہ کرکے وہ اپنا نیا گھر آباد کرنا چاہتی تھی، وہی اس کا سودا کسی اور سے کر دیتی ہے۔ طوائف کو جب اس بات کا پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے گھنگھرو اٹھاکر واپس اپنے استاد کے پاس چلی جاتی ہے۔

ممد بھائی

سعادت حسن منٹو

ممد بھائی بمبئی میں اپنے علاقے کے لوگوں کے خیرخواہ ہیں۔ انھیں اپنے پورے علاقے کی خبر ہوتی ہے اور جہاں کوئی ضرورت مند ہوتا ہے، وہ اس کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ کسی عورت کے اکسانے پر ممد بھائی ایک شخص کا خون کر دیتا ہے۔ حالانکہ اس خون کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے پھر بھی اسے اپنی مونچھوں کی وجہ سے شناخت ہو جانے کا ڈر ہے۔ اسے صلاح دی جاتی ہے کہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے وہ اپنی مونچھیں صاف کرادے۔ ممد بھائی ایسا ہی کرتا ہے پھر بھی عدالت اسے قتل کرنے کے جرم میں سزا دیتی ہے۔

ADVERTISEMENT

دیوانہ شاعر

سعادت حسن منٹو

یہ امرتسر کے جلیانوالا باغ میں ہوئے قتل عام پر مبنی افسانہ ہے۔ اس قتل عام کے بعد شہر میں بہت کچھ بدلا تھا۔ اس سے کئی انقلابی پیدا ہوئے تھے اور بہتوں نے انتقام کے لیے اپنی جانیں قربان کی تھیں۔ انہیں لوگوں میں ایک انقلابی شاعر بھی تھا، جس کی شاعری دل چیر دینے والی تھی۔ ایک روز شام کو ادیب کو وہ دیوانہ شاعر باغ کے ایک کنویں کے پاس ملا تھا، جہاں اس نے اس سے اپنے انقلابی ہو جانے کی داستان بیان کی تھی۔

شریفن

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسی کہانی ہے جو صرف کہانی نہ ہو کر ہمارے معاشرے کی جیتی جاگتی تصویر معلوم ہوتی ہے۔ کہانی میں شریفن کے کردار کے ذریعے اس تصویر کو پیش کیا گیا ہے جہاں سماج کے لیے لڑکی کوئی انسان نہیں، بلکہ گوشت کا وہ لوتھڑا ہے، جس سے شریف زادے اپنی ہوس کو آسودہ کرتے ہیں۔‘‘

سو کینڈل پاور کا بلب

سعادت حسن منٹو

اس افسانہ میں انسان کی جبلی اور جذباتی پہلووں کو گرفت میں لیا گیا ہے جن کے تحت ان سے اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ افسانے کی مرکزی کردار ایک طوائف ہے جسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کس کے ساتھ رات گزارنے جا رہی ہے اور اسے کتنا معاوضہ ملے گا بلکہ وہ دلال کے اشارے پر عمل کرنے اور کسی طرح کام ختم کرنے کے بعد اپنی نیند پوری کرنا چاہتی ہے۔ آخر کار تنگ آکر انجام کی پروا کیے بغیر وہ دلال کا خون کر دیتی ہے اور گہری نیند سو جاتی ہے۔

ADVERTISEMENT

سراج

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسی نوجوان طوائف کی کہانی ہے، جو کسی بھی گراہک کو خود کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی۔ حالانکہ جب اس کا دلال اس کا سودا کسی سے کرتا ہے، تو وہ خوشی خوشی اس کے ساتھ چلی جاتی ہے، لیکن جیسے ہی گراہک اسے کہیں ہاتھ لگاتا ہے کہ اچانک اس سے جھگڑنے لگتی ہے۔ دلال اس کی اس حرکت سے بہت پریشان رہتا ہے، پر وہ اسے خود سے الگ بھی نہیں کر پاتا ہے، کیونکہ وہ اس سے محبت کرنے لگا ہے۔ ایک روز وہ دلال کے ساتھ لاہور چلی جاتی ہے۔ وہاں وہ اس نوجوان سے ملتی ہے، جو اسے گھر سے بھگا کر ایک سرائے میں تنہا چھوڑ گیا تھا۔‘‘

مس فریا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے فرد کی کہانی ہے جو شادی کے ایک مہینے بعد ہی اپنی بیوی کے حاملہ ہو جانے سے پریشان ہو جاتا ہے۔ اس سے نجات پانے کے لیے وہ کئی ترکیبیں سوچتا ہے، لیکن کوئی سازگار نہیں ہوتی۔ آخر میں اسے وہ لیڈی ڈاکٹر مس فریا یاد آتی ہے، جو اس کی بہن کے بچہ ہونے پر ان کے گھر آئی تھی۔ جب وہ اسے اس کے دواخانے پر چھوڑنے گیا تھا تو اس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ پھر معافی مانگتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ اب جب اسے پھر اس واقعہ کی یاد آئی تو وہ ہنس پڑا اور اس نے حالات کو قبول کر لیا۔

خوشیا

سعادت حسن منٹو

ایک شخص کی مردانگی کو چیلنج کرنے کی کہانی ہے۔ ایک طوائف جو اپنے دلال کو محض گاہک فراہم کرنے والا ایک بے ضرر پرزہ سمجھتی ہے اور اس کے سامنے عریاں رہنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتی وہی ایک دن جوش میں آکر دلال کے بجائے خود ہی گاہک بن بیٹھتا ہے۔

ADVERTISEMENT

میرا اور اس کا انتقام

سعادت حسن منٹو

یہ ایک شوخ، چنچل اور چلبلی لڑکی کی کہانی ہے، جو پورے محلے میں ہر کسی سے مذاق کرتی رہتی ہے۔ ایک دن جب وہ اپنی سہیلی بملا سے ملنے گئی تو وہاں بملا کے بھائی نے اس سے انتقام لینے کے لیے جھوٹ بول کر گھر میں بند کر لیا اور اس کے نم ہونٹوں کو چوم لیا۔ وہاں وہ شام تک بند رہی۔ کچھ دنوں بعد جب بملا کو موقع ملا تو وہ بھی اپنا انتقام لینے سے پیچھے نہیں رہی۔

ملاوٹ

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے ایماندار اور خوش اخلاق شخص کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کو دھوکا نہیں دیا۔ وہ اپنی زندگی سے خوش تھا۔ اس نے اپنی شادی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن شادی میں اس کے ساتھ فریب کیا گیا۔ وہ جہاں بھی گیا اس کے ساتھ دھوکا اور فریب ہوتا رہا۔ پھر اس نے بھی لوگوں کو دھوکا دینے کا ارادہ کر لیا۔ آخر میں زندگی سے تنگ آکر اس نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کیا۔ خودکشی کے لیے اس نے جو زہر خریدا تھا اس میں بھی ملاوٹ تھی، جس کی وجہ سے اس کی وہ حسرت پوری نہ ہو سکی۔

شیدا

سعادت حسن منٹو

’’یہ امرتسر کے ایک مشہور غنڈے کی اپنی غیرت کے لیے ایک پولیس والے کا قتل کر دینے کی کہانی ہے۔ شیدا کا اصول تھا کہ جب بھی لڑو دشمن کے علاقے میں جاکر لڑو۔ وہ لڑائی بھی اس نے پٹرنگوں کے محلے میں جاکر کی تھی، جس کے لیے اسے دو سال کی سزا ہوئی تھی۔ اس لڑائی میں پٹرنگوں کی ایک لڑکی اس پر فدا ہو گئی تھی۔ جیل سے چھوٹنے پر جب وہ اس سے شادی کی تیاری کر رہا تھا تو ایک پولس والے نے اس لڑکی کا ریپ کرکے اس کا خون کر دیا۔ بدلے میں شیدا نے اس پولیس والے کا سر کلہاڑی سے کاٹ کر دھڑ سے الگ کر دیا۔‘‘

جوتا

سعادت حسن منٹو

کہانی ایک ایسے ہجوم کی ہے جو سر گنگا رام کے بت پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ اسی ہجوم میں ایک شخص جوتوں کی مالا بناکر بت کو پہنانا چاہتا ہے، لیکن اس سے پہلے ہی وہ پولس کی گولی سے زخمی ہو جاتا ہے۔ بعد میں اسے سر گنگا رام اسپتال میں علاج کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

ADVERTISEMENT

آبشار

بلونت سنگھ

’’دو ایسے افراد کی کہانی ہے جو ایک ہی لڑکی سے باری باری محبت کرتے ہیں، لیکن دونوں میں سے کوئی بھی اسے حاصل نہیں کر پاتا۔ وہ لڑکی ایک پٹھان کے ساتھ گھر سے بھاگ کر آئی تھی۔ پٹھان اسے جھرنے کے پاس بنے اس بنگلے میں ٹھہراتا ہے اور خود پیسوں کا انتظام کرنے چلا جاتا ہے۔ کئی ہفتے گزر جانے کے بعد بھی وہ لوٹ کر نہیں آتا۔ اسی درمیان وہاں کالج کا ایک نوجوان آتا ہے اور لڑکی اس میں دلچسپی لینے لگتی ہے وہ نوجوان بھی اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو لڑکی جھرنے میں کود کر جان دے دیتی ہے۔‘‘

استاد شمو خاں

احمد علی

یہ کہانی استاد شمو خاں کی ہے۔ کسی زمانے میں وہ پہلوان ہوا کرتا تھا۔ پہلوانی سے اس نے کافی شہرت پائی اور اب زندگی کے باقی دن کبوتر بازی کا شوق پورا کرکے گزار رہا ہے۔ پاس ہی رہنے والے شیخ جی بھی کبوتر بازی کا شوق رکھتے تھے۔ کبوتر بازی کے مشترکہ شوق میں دونوں کے درمیان کس کس طرح کے داوں پینچ ہوتے ہیں، جاننے کے لیے یہ کہانی پڑھیں۔

ہولی

اعظم کریوی

یہ دو چچازاد بھائیوں کی کہانی ہے، جو ہمیشہ خلوص اور محبت کے ساتھ رہتے تھے۔ اپنے سبھی مسئلے آپس میں مل بیٹھ کر سلجھا لیتے تھے۔ جب پرانے دشمن اہیروں کے سردار کا ان کے یہاں آنا جانا ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ ہو گیا اور دونوں بھائی ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن گئے۔