ADVERTISEMENT

افسانے پرسماجی ناانصافی

نیا قانون

سعادت حسن منٹو

آزادی کے دیوانے منگو کوچوان کی کہانی ہے۔ وہ ناخواندہ ہے پھر بھی اسے ساری دنیا کی معلومات ہے جنھیں وہ اپنی سواریوں سے سن کر معلوم کرتا رہتا ہے۔ ایک دن اسے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں نیا قانون آنے والا ہے جس سے ہندوستان کی انگریزی حکومت ختم ہو جائے گی۔ اسی خوشی میں وہ قانون لاگو ہونے والی تاریخ کو ایک انگریز سے جھگڑا کر بیٹھتا ہے اور جیل پہنچ جاتا ہے۔

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں

سعادت حسن منٹو

مناسب اجرت لیکر دوسروں کی جگہ جیل کی سزا کاٹنے والے ایک ایسے شخص کی کہانی جو لوگوں سے پیسے لے کر ان کے کئے جرم کو اپنے سر لے لیتا ہے اور جیل کی سزا کاٹتا ہے۔ ان دنوں جب وہ جیل کی سزا کاٹ کر آیا تھا تو کچھ ہی دنوں بعد اس کی ماں کی موت ہو گئی تھی۔ اس وقت اس کے پاس اتنے بھی پیسے نہیں تھے کہ وہ اپنی ماں کے کفن دفن کا انتظام کر سکے۔ تبھی اسے ایک سیٹھ کا بلاوا آتا ہے، پر وہ جیل جانے سے پہلے اپنی ماں کو تجہیز و تکفین کرنا چاہتا ہے۔ سیٹھ اس کے لیے اسے منع کرتا ہے۔ جب وہ سیٹھ سے بات طے کرکے اپنے گھر لوٹتا ہے تو سیٹھ کی بیٹی اس کے آنے سے قبل اس کی ماں کے کفن دفن کا انتظام کر چکی ہوتی ہے۔

ADVERTISEMENT

گرم کوٹ

راجندر سنگھ بیدی

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے ایک گرم کوٹ کی شدید ضرورت ہے۔ پرانے کوٹ پر پیوند لگاتے ہوئے وہ اور اسکی بیوی دونوں تھک گیے ہیں۔ بیوی بچوں کی ضرورتوں کے آگے وہ ہمیشہ اپنی اس ضرورت کو ٹالتا رہتا ہے۔ ایک روز گھر کی ضروریات کی فہرست بنا کر وہ بازار جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جیب میں رکھا دس کا نوٹ کہیں گم ہو گیا ہے، مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ نوٹ کوٹ کی پھٹی جیب میں سے کھسک کر دوسری طرف چلا گیا تھا۔ اگلی بار وہ اپنی بیوی کو بازار بھیجتا ہے۔ بیوی اپنا اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے بجائے شوہر کے لیے گرم کوٹ کا کپڑا لے آتی ہے۔

بیگو

سعادت حسن منٹو

’’کشمیر کی سیر کے لیے گئے ایک ایسے نوجوان کی کہانی جسے وہاں ایک مقامی لڑکی بیگو سے محبت ہو جاتی ہے۔ وہ بیگو پر پوری طرح مر مٹتا ہے کہ تبھی اس نوجوان کا دوست بیگو کے کردار کے بارے میں کئی طرح کی باتیں اسے بتاتا ہے۔ ویسی ہی باتیں وہ دوسرے لوگوں سے بھی سنتا ہے۔ یہ سب باتیں سننے کے بعد اسے بیگو سے نفرت ہو جاتی ہے، مگر بیگو اس کی جدائی میں اپنی جان دے دیتی ہے۔ بیگو کی موت کے بعد وہ نوجوان بھی عشق کی لگی آگ میں جل کر مر جاتا ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT

نعرہ

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ ایک متوسط طبقہ کے آدمی کی انا کو ٹھیس پہنچنے سے ہونے والی درد کو بیاں کرتا ہے۔ بیوی کی بیماری اور بچوں کے اخراجات کی وجہ سے وہ مکان مالک کو پچھلے دو مہینے کا کرایہ نہیں دے پایا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ مالک مکان اسے ایک مہینے کی اور مہلت دے دے۔ اس درخواست کے ساتھ جب وہ مالک مکان کے پاس گیا تو اس نے اس کی بات سنے بغیر ہی اسے دو گندی گالیاں دیں۔ ان گالیوں کو سن کر اسے بہت تکلیف ہوئی اور وہ مختلف خیالوں میں گم شہر کے دوسرے سرے پر جا پہنچا۔ وہاں اس نے اپنی پوری قوت سے ایک ’نعرہ‘ لگایا اور خود کو بہت ہلکا محسوس کرنے لگا۔

ADVERTISEMENT

سرکنڈوں کے پیچھے

سعادت حسن منٹو

عورت کے متضاد رویوں کو بیان کرتی ہوئی کہانی ہے۔ اس میں ایک طرف نواب ہے جو اس قدر سادہ لوح ہے کہ جب سردار اس سے پیشہ کراتی ہے تو وہ سوچتی ہے کہ جوان ہونے کے بعد ہر عورت کا یہی کام ہوتا ہے۔ دوسری طرف شاہینہ ہے جو نواب کا قتل کرکے اس کا گوشت پکا ڈالتی ہے، صرف اس بنا پر کہ ہیبت خان نے اس سے بے وفائی کی تھی اور نواب کے یہاں آنے جانے لگا تھا۔

شاداں

سعادت حسن منٹو

امیر گھروں میں کام کرنے والی غریب، مظلوم اور کمسن لڑکیوں کی اس گھر کے مردوں کے ذریعہ ہونے والی جنسی استحصال کی کہانی ہے۔ خان بہادر محمد اسلم خان بہت مطمئن اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے تین بچے تھے، جو اسکول کے بعد سارا دن گھر میں شور غل مچاتے رہتے تھے۔ انہیں دنوں ایک عیسائی لڑکی شاداں ان کے گھر میں کام کرنے آنے لگی۔ وہ بھی بچی تھی، لیکن اچانک ہی اس میں جوانی کے رنگ ڈھنگ دکھنے لگے۔ ایک روز خان صاحب کو شاداں کے زنا کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ شاداں تو اسی روز مر گئی تھی اور خان صاحب بھی ثبوت نہ ہونے کی بنا پر بری ہو گئے تھے۔

ADVERTISEMENT

گرہن

راجندر سنگھ بیدی

یہ ایک ایسی حاملہ عورت کی کہانی ہے جس کے حمل کے دوران چاند گرہن لگتا ہے۔ وہ ایک اچھے خاندان کی لڑکی تھی مگر کائستھوں میں شادی ہونے کے بعد لڑکی کو فقط بچہ جننے کی مشین سمجھ لیا جاتا ہے۔ حاملہ ہونے اور وہ بھی گرہن کے اوقات میں بھی گھریلو ذمہ داریاں نباہنی پڑتی ہیں۔ ایسے میں اسے اپنے میکے کی یاد آتی ہے کہ گرہن کے اوقات میں کیسے دان کیا جاتا تھا اور حاملہ کے لیے بہت سارے کاموں کو کرنے کی ممانعت تھی، یہ سب سوچتے ہوئے اچانک سب کچھ چھوڑ کر بھاگ جانے کا فیصلہ کرتی ہے۔

رحمن کے جوتے

راجندر سنگھ بیدی

جوتے کے اوپر جوتے چڑھ جانے کو سفر سے جوڑ کر توہم پرستی کو بیان کرتی خوبصورت کہانی۔ کھانا کھاتے وقت رحمان کا جوتا دوسرے جوتے پر چڑھا تو اس کی بیوی نے کہا کہ اسے اپنی بیٹی جینا سے ملنے جانا ہے۔ جینا سے ملنے جانےکے لیے اس کی ماں نے بہت سارے ساز و سامان تیار کر رکھے تھے۔ دوران سفر اسکے سامان کی گٹھری کہیں گم ہو جاتی ہے جس کے لیے وہ پولیس کے ایک کانسٹیبل سے الجھ جاتا ہے۔ زخمی حالت میں اسے ہسپتال میں داخل کیا جاتا ہے، وہاں بھی اس کا جوتا دوسرے جوتے پر چڑھا ہوا ہے جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ اب ایک لمبے سفر پر جانے والا ہے۔

شغل

سعادت حسن منٹو

’’یہ کہانی امیروں کے شوق اور ان کی دلچسپیوں کے گرد گھومتی ہے۔ ایک پہاڑی علاقے میں کچھ مزدور پتھر صاف کرنے کا کام کیا کرتے تھے۔ وہاں سڑک سے گزر نے والی طرح طرح کی لاریاں ہی ان کے تفریح کا ذریعہ تھیں۔ ایک روز وہاں ایک نئی گاڑی آکر رکی، اس میں سے دو نوجوان اترے اور ایک چمار کی بیٹی کو زبردستی اپنے ساتھ لے کر چل دیے۔ ٹھیکیدار نے ان نوجوانوں کے رسوخ کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تو اپنے شوق کے لیے اس لڑکی کو لے جا رہے ہیں۔ کچھ دیر بعد اسے چھوڑ جا ئینگے۔‘‘

ADVERTISEMENT

کالی تتری

بلونت سنگھ

’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو اپنے ساتھی ڈاکوؤں کے ساتھ ملکر اپنی ہی بہن کے گھر میں ڈاکہ ڈالتا ہے۔ جب وہ زیور چرا کر جانے لگتے ہیں تو غلطی سے ان کا ایک ساتھی گولی چلا دیتا ہے۔ اس سے پورا گاؤں جاگ جاتا ہے۔ گاؤں والوں سے باقی ڈاکو تو بچ کر نکل جاتے ہیں لیکن کالی تتری پھنس جاتا ہے۔ گاؤں کے کئی لوگ اسے پہچان لیتے ہیں اور ان میں سے ایک آگے بڑھکر ایک ہی وار میں اس کے پیٹ کی انتڑیا ں باہر کر دیتا ہے۔‘‘

بھیک

حیات اللہ انصاری

’’ایک ایسے شخص کی کہانی، جو پہاڑوں پر سیر کرنے کے لیے گیا ہے۔ وہاں اسے ایک غریب لڑکی ملتی ہے، جسے وہ اپنے یہاں نوکری کرنے کا آفر دیتا ہے۔ مگر اگلے دن امید سے لبریز جب وہ لڑکی اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ ڈاک بنگلے پر پہنچتی ہے تو ایک ساتھ اتنے بچوں کو دیکھ کر وہ اسے نوکری پر رکھنے سے منع کر دیتا ہے۔ انکار سن کر لڑکی جب واپس جانے لگتی ہے تو وہ اسے دو روپیے دے دیتا ہے۔‘‘

مزدور

احمد علی

ہمارا مہذب سماج مزدوروں کو انسان نہیں سمجھتا۔ ایک غریب مزدور طبیعت ٹھیک نہ ہونے کے باوجود مجبوری میں بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر بجلی ٹھیک کر رہا ہوتا ہے کہ اچانک اس کا توازن بگڑتا ہے اور وہ نیچے آ رہتا ہے۔ کسی طرح اسے اسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ ابھی اس کی سانسیں چل رہی ہیں کہ ڈاکٹر اسے مردہ اعلان کر دیتا ہے۔

ADVERTISEMENT

غلامی

احمد علی

سرمایہ داری نے ہر غریب انسان کو غلام بنا دیا ہے۔ ایک خوشگوار شام کو دو دوست ندی کنارے بیٹھ کر اپنی غربت کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ وہ اس بات سے افسردہ ہیں کہ غریب کتنی مصیبتوں کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے۔ دونوں دوست اب یہاں سے چلنے کی تیاری کرتے ہیں، جبھی ایک غریب عورت ان کے پاس سے گزرتی ہے۔ ان میں سے ایک اس عورت سے فصل کے بارے میں دریافت کرتا ہے کہ وہ عورت رونے لگتی ہے۔ دوسرا دوست اس کی مدد کرنا چاہتا ہے کہ پہلا دوست یہ کہہ کر اسے مدد کرنے سے روک دیتا ہے کہ غلامی تو ان کے اندر بسی ہوئی ہے۔

چیچک کے داغ

راجندر سنگھ بیدی

جے رام بی اے پاس ریلوے میں اکسٹھ روپے کا ملازم ہے۔ جے رام کے چہرے پر چیچک کے داغ ہیں، اس کی شادی سکھیا سے ہوئی ہے جو انتہائی خوبصورت ہے، سکھیا کو اول اول تو جے رام سے نفرت ہوتی ہے لیکن پھر اس کی شرافت، تعلیم اور برسر روزگار ہونے کے خیال سے اس کے چیچک کے داغ کو ایک دم فراموش کر دیتی ہے اور شدت سے اس کی آمد کی منتظر رہتی ہے، جے رام کئی بار اس کے پاس سے آکر گزر جاتا ہے، سکھیا سوچتی ہے کہ شاید وہ اپنے چیچک کے داغوں سے شرمندہ ہے اور شرمیلے پن کی وجہ سے نہیں آ رہا ہے، رات میں سکھیا کو اس کی نند بتاتی ہے کہ جے رام نے سکھیا کی ناک لمبی ہونے پر اعتراض کیا ہے اور اس کے پاس آنے سے انکار کر دیا ہے۔

ڈالن والا

قرۃ العین حیدر

یہ کہانی بچپن کی یادوں کے سہارے اپنے گھر اور گھر کے وسیلے سے ایک پورے علاقے اور اس علاقے کے ذریعے سماج کے مختلف اشخاص کی زندگی کی چلتی پھرتی تصویریں پیش کرتی ہے۔ سماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے، علاحدہ عقائد اور ایمان رکھنے والے لوگ ہیں جو اپنے مسائل اور مراتب سے بندھے ہوئے ہیں۔

مزدور

سدرشن

’’یہ سماج کے سب سے مضبوط اور بے بس ستون ایک ایسے مزدور کی کہانی ہے، جو شب و روز خون پسینہ بہاکر کام کرتا ہے۔ مگر اس کی اتنی آمدنی بھی نہیں ہو پاتی کہ اپنے بچوں کو بھر پیٹ کھانا کھلا سکے یا اپنی بیمار بیوی کی دوا خرید سکے۔ وہ فیکٹری مالک سے بھی درخواست کرتا ہے، لیکن وہاں سے بھی اسے کوئی مدد نہیں ملتی۔‘‘

ADVERTISEMENT

گلنار

مسز عبدالقادر

کہانی لوگوں کے اندھے عقاید اور اسے حقیقت میں پیش کرنے کی داستان کو بیان کرتی ہے۔ وہ دونوں اپنی زندگی سے بے حد خوش تھے۔ لیکن اولاد نہ ہونے کی وجہ سے مایوس بھی تھے۔ دل بہلانے کے لیے اس کی بیوی نے گلنار نام کی بلی پال رکھی تھی، جسے وہ بہت چاہتی تھی۔ اولاد کے لیے شوہر دوسری شادی کر لیتا ہے۔ لیکن دوسری شادی اس کی زندگی کے رخ کو ایک ایسا موڑ دیتی ہے کہ اسے خود اس پر یقین نہیں آتا۔

انقلاب

اعظم کریوی

’’یہ امریا نام کے ایک گاؤں کی کہانی ہے، جہاں ہوائی جہاز کا کارخانہ بننے کی خوشی اور امیر بننے کی چاہت میں زمیندار اپنی زمین خوشی خوشی سرکار کو دے دیتے ہیں۔ لیکن جب کارخانہ بننا شروع ہوتا ہے تو گاؤں کے نظام میں ایسی تبدیلی ہوتی ہے کہ ان زمینداروں کی حالت مزدوروں سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔‘‘

کنول

اعظم کریوی

’’ایک برہمن لڑکی کی کہانی ہے، جسے ایک مسلم لڑکے سے محبت ہو جاتی ہے۔ چونکہ لڑکا الگ مذہب اور ذات کا تھا اسلیے لڑکی اس سے شادی کرنے سے انکار تو کر دیتی ہے لیکن وہ ایک پل کے لیے بھی اسے بھول نہیں پاتی۔ اس لڑکی کی شادی کہیں اور ہو جاتی ہے تو وہ اپنے شوہر کو بھی اپنی اس محبت کے بارے میں سچ سچ بتا دیتی ہے۔ یہ سچائی جان کر اس کے شوہر کی اس صدمے سے موت ہو جاتی ہے اور وہ لڑکی اپنے عاشق کے پاس لوٹ جاتی ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT