'پڑھے لکھے قاری' کا افسانہ اور جدید شاعری کی تفہیم
پڑھے لکھے قاری کا کوئی حتمی معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اس کی بنیاد پر کسی جدید یا مشکل شاعری کو مہمل قرار دینا غلط ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
پڑھے لکھے قاری کا کوئی حتمی معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اس کی بنیاد پر کسی جدید یا مشکل شاعری کو مہمل قرار دینا غلط ہے۔
شمس الرحمن فاروقی کے مطابق 'صاحبِ ذوق قاری' ایک فرضی تصور ہے جسے نقاد اپنی کم فہمی چھپانے اور مشکل شاعری کو مسترد کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔