آدم شیر کے افسانے
اک چپ سو دکھ
(یہ افسانہ صائمہ شاہ کی نذر ہے جن سے مکالمہ اس افسانے کا محرک بنا) ایک وقت آتا ہے جب کچھ بھی ٹھیک ٹھیک یاد نہیں رہتا اگرچہ کچھ نہ کچھ ہمیشہ یاد رہتا ہے اور وہ وقت مجھے ہمیشہ یاد رہا جب اس نے مجھ سے کلام کیا تھا۔ یہ ایک تپتے دن کی تپش بھری شام تھی
انسان نما
رفیق پڑھائی مکمل کر کے نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا لیکن کہیں بات نہ بنی۔ جہاں امید نظر آتی وہاں تنخواہ اتنی کم بتائی جاتی کہ وہ صحیح طرح کوشش بھی نہ کرتا۔ رفیق کے والد نے، جو پرچون فروش تھے، ایک سال بیٹے کی نوکری لگنے کا انتظار کیا اور دوسرے
خوش بخت نوحہ
یہ افسانہ ذکاء الرحمن کی نذر ہے۔ (ذ ر ) سے مراد ذکاء الرحمن کے افسانوں کے اقتباسات ہیں۔ وہ میرے سامنے صوفے پر بیٹھا ہے۔ رنگ گندمی، قد بوٹا، بال خضاب سے سیاہ اور چمکدار، دو رنگی مونچھیں، استرا رگڑ رگڑ کی ہوئی شیو، نیلاہٹ میں ڈوبی کالی شلوار قمیص اور
ہیولا
یہ کہانی ہے ایک خرادیے کی جو رام کے بیٹے سے منسوب شہرکا باسی تھا۔ وہ اس شہر کی عظمت کے گیت گاتا تھا جو ہمیشہ سے راج گڑھ رہا ہے، راجہ چاہے کوئی ہو۔ افغان ہو یا ترک، سکھ ہو کہ ہندو، گورے اور بھورے، کوئی بھی اسے نظر انداز نہیں کر سکا۔ اس کے ایک کنارے