اگرسین نارنگ کے ذریعے کیے گئے تراجم
گرمیوں کے دن
معاشرے میں بڑھتی ہوئی صارفیت اور آیوروید یعنی قدیم طریقہ علاج کے زوال کا نوحہ ہے۔ وید جی دن بھر بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایک بھی مریض ان کے پاس نہیں آتا۔ بھولے بھٹکے کوئی سرکاری ملازم جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوانے آتا بھی ہے توپیسوں پر سمجھوتہ نہیں ہو پاتا۔ وید جی اپنا پیٹ پالنے کے لیے تحصیل کے پٹواریوں کا رجسٹر بناتے ہیں کیونکہ نئے پٹواریوں کو رجسٹر بنانا آتا نہیں ہے۔
تیسری قَسم: عرف مارے گئے گلفام
گاؤں کے لوگوں کی سادہ لوحی اور ان کے جذبات کی ترجمانی کرنے والی عمدہ کہانی ہے۔ ہیرا من بیل گاڑی چلاتا ہے، ایک دن وہ نوٹنکی کمپنی کی اداکارہ ہیرا بائی کو بیٹھا کر میلے تک لے جاتا ہے اور پھر اس کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ میلہ ختم ہوتے ہی جب ہیرا بائی ٹرین سے واپس چلی جاتی ہے تو ہیرا من بھی اپنے گاؤں چلا جاتا ہے اور وہ قسم کھاتا ہے کہ اب کبھی نوٹنکی کی سواری کو نہیں بٹھائے گا۔ اس کہانی میں جزئیات نگاری کے ذریعے کہانی کار نے گاؤں کے لوگوں کی سادگی، چھوٹی چھوٹی آرزوؤں، تمناؤں، خواہشوں اور ان کی سوچ کو بہت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے۔