دتا تریہ کیفی کے مضامین
تذکیر و تانیث
آج کل دیکھنے میں آتا ہے کہ عورتیں جنہیں ہر مہذب اور متمدن سوسائٹی میں صنف نازک جیسے نام دیے جاتے ہیں، اپنی کانفرنسیں کرتی ہیں جن میں حقوق کی مساوات کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ کیا اچھا ہوتا کہ یہ محذرات سیاسی اور اجتماعی معاملوں سے ذرا آگے بڑھتیں اور یہ
تشبیہ
ادبیات کا ماخذ ہے ادب۔ ادب عربی کا ایک لغت ہے جس کے معنی ہیں ہر چیز کی حد اور اندازہ کا لحاظ رکھنا۔ علمائے علوم لسان و انشا ادب یا آداب کی ذیل میں ان علموں کو شمار کرتے ہیں۔ (1) علم لغت، (2) علم صرف، (3) علم اشتقاق، (4) علم نحو، (5) علم معانی، (6)
اردو لسانیات
زبان اصل میں انسان کے تعینات یا اداروں میں سے ہے۔ وہ ان کی معمول ہے جن کی کار بر آری اس سے ہوتی ہے۔ وہی اس کے محافظ و مختار ہیں۔ انہیں نے عوارض اور ضروریات کے مطابق اس کو پنے ڈھب کا بنایا ہے۔ ہمیشہ ہر کہیں ایسا ہی ہوتا ہے۔ زبان کا ہر جز و ترکیبی مسلسل
متروکات
طب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ چند برسوں کے بعد انسان کا گوشت اور پوست نیا بن جاتا ہے۔ زیادہ تر اس وجہ سے کہ وہ اپنی غذا کے لئے بے شمار بیرونی اشیا کا محتاج ہے۔ اس پر بھی جراح نے جو کبھی کسی انسان کے جسم پر نشتر چلایا تھا اس کا نشان مرتے دم تک باقی رہتا