فرحان حنیف وارثی کے اشعار
جس کی خاطر سبھی رشتوں سے ہوا تھا منکر
اب سنا ہے کہ وہی شخص خفا ہے مجھ سے
ابھی مجھ میں بہت ہمت ہے لیکن
کسی ہارے ہوئے لشکر میں ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ ایک موڑ جہاں وہ کبھی ملا تھا مجھے
اس ایک موڑ پر اس کو جدا بھی ہونا تھا
اور کیا دیں گے ہم تجھے جاناں
زندگی تیرے نام کرتے ہیں
مجھ سے بچھڑا ہے مگر یہ بھی نہ سوچا تو نے
اس قدر ٹوٹ کے پھر کون تجھے چاہے گا
تمہی نے راہ میں اک گھر بسا لیا ورنہ
محبتوں کا سفر تو طویل تھا جاناں
ہماری چاہتیں سچ ہیں مگر حالات کا دریا
مجھے اس پار رکھتا ہے تجھے اس پار رکھتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ثبت ہے میرے لبوں پر آج بھی تیرا وہ لمس
آج بھی ہے تیرے خوابوں کا بسیرا آنکھ میں
روز مجھ کو وہ یاد آتا ہے
روز میں خود کو بھول جاتا ہوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
یہ رستہ تو سیدھا اس کے گھر تک جا کر رکتا ہے
اے میرے آوارہ قدمو کس رخ پر لے آئے تم
مطمئن ہے یہ میری قوم بہت
تو بھی کچھ خوش گمانیاں دے جا
پرندے سو گئے جا کے گھروں میں
شجر جنگل میں پھر کیوں جاگتا ہے
وہ میرے نام کرے اپنی خوشبوئیں ارسال
میں اس کے نام کروں اپنی شاعری سوچوں
وہ آنکھوں سے اتر آیا ہے دل میں
اسی منظر کے پس منظر میں ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دلوں کے میل سے آگے لبوں کے سلسلے سارے
جو لب خاموش ہوتے ہیں تو آنکھیں بات کرتی ہیں
ورق ورق ہیں یہاں حادثات روز و شب
کتاب زیست میں منسوب اب کروں کس سے
یہ اور بات کہ بھولے گا خد و خال مگر
وہ مجھ کو یاد رکھے گا کسی کتھا کی طرح
ہر سوچتا دماغ ہر اک دیکھتی نظر
لمحوں کی بھاگ دوڑ میں شامل ہے ان دنوں
رات بھر کوئی سورج دہکتا لگے
میری آنکھوں کے یہ نور آنسو عجب
اول اول تو اس کو سب دلچسپی سے پڑھتے ہیں
جیسے میرا چہرہ بھی اخبار کا کوئی کالم ہو
میں بھی سپنے در آنے کے سب رستے مسدود کروں
تم بھی آنکھیں بند نہ کرنا وصل کا موسم آنے تک