فاطمہ تاج کے اشعار
اس شہر تمنا میں کیا چھاؤں ملے مجھ کو
ہے دھوپ کے دامن میں تپتا ہوا گھر میرا
کیا آپ زمانے کو یہ سمجھا نہیں سکتے
اب ٹوٹے کھلونے ہمیں بہلا نہیں سکتے
مانا کہ وراثت میں ملی خانہ بدوشی
لیکن یہ زمیں چھوڑ کے ہم جا نہیں سکتے
اہل خرد کو اب بھی نہیں ہے کوئی خبر
اہل جنوں بھی کرتے ہیں فکر و نظر کی بات
یہ شہر ہمارا ہے سبھی لوگ ہیں اپنے
ہم لوگ پرائے کبھی کہلا نہیں سکتے