خاور اعجاز کا تعارف
بدل لیا ہے ذرا خواب کے علاقے کو
مکاں کو چھوڑ کے اب لا مکاں میں رہتا ہوں
خاور اعجاز اردو کے شاعر، نقاد، محقق اور متعدد شعری و نثری کتابوں کے مصنف ہیں۔ 24 ستمبر 1950ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کے تعلیمی کوائف میں تاریخِ پیدائش 24 ستمبر 1951ء درج ہے، جب کہ اصل تاریخِ پیدائش 24 ستمبر 1950ء ہے۔ ان کے والد کو شاعری سے گہری دل چسپی تھی اور ان کی ذاتی کتب خانے میں دیوانِ غالب کا مرصع چغتائی نسخہ خاور اعجاز کے شعری ذوق کی تشکیل میں اہم ثابت ہوا۔ انہوں نے 1974ء میں گورنمنٹ ڈگری کالج، اصغر مال، راولپنڈی سے ریاضی میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز وزارتِ اطلاعات و نشریات، حکومتِ پاکستان سے کیا اور بعد ازاں حبیب بینک لمیٹڈ سے وابستہ ہوئے، جہاں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد 2011ء میں وائس پریذیڈنٹ/ڈپٹی جنرل مینیجر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔
خاور اعجاز کی ادبی شناخت بنیادی طور پر غزل اور ہائیکو سے وابستہ ہے، تاہم ان کی تخلیقی و تنقیدی کاوشوں کا دائرہ حمد، نعت، سلام، نظم، رباعی، قطعہ، ماہیا، ثلاثی، تنقید، تبصرہ، تراجم اور کالم نگاری تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ 2001ء سے 2014ء تک پاکستان ہائیکو سوسائٹی، راولپنڈی/اسلام آباد کے صدر رہے۔ اس کے علاوہ ادبی تحریک، راولپنڈی اور لٹریری کلب، ملتان/اسلام آباد کی صدارت کے فرائض بھی انجام دیے۔ ان کی شعری تصانیف میں "شیشے کے کنول"، "ارتقاء"، "آنکھیں، رنگ اور خواب"، "زرد پتّوں پر شبنم"، "دھیان"، "آہٹ"، "اختصار"، "حوالہ"، "اذکار" اور "صحرائے گماں" شامل ہیں، جب کہ تحقیقی و تنقیدی کتب میں "نئی پاکستانی اردو غزل" اور "انفرادی مطالعے" قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے "نیرنگِ غزل" سمیت متعدد شعری انتخاب بھی مرتب کیے ہیں۔
خاور اعجاز کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف ادبی اعزازات سے نوازا گیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد کے ایم اے نصاب میں بطور نمائندہ ہائیکو شاعر ان کا خصوصی ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ان کی شعری و تنقیدی خدمات پر مختلف جامعات میں ایم اے اور ایم فل کی سطح پر تحقیقی مقالات بھی تحریر کیے گئے ہیں۔