Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Meem Maroof Ashraf's Photo'

میم معروف اشرف

1999 | رام پور, انڈیا

میم معروف اشرف کے اشعار

253
Favorite

باعتبار

آج تصویر اس کی دیکھی ہے

آج پھر نیند کا زیاں ہوگا

ابھی آغاز الفت ہے چلو اک کام کرتے ہیں

بچھڑ کر دیکھ لیتے ہیں بچھڑ کر کیسا لگتا ہے

بنت حوا کو بھول جائیں ہم

یہ نہیں آتا ابن آدم کو

کسی کے یاد کرنے کا اگر ہوتی سبب ہچکی

مرا محبوب ہو کر کے پریشاں مر گیا ہوتا

سوچتا ہوں کیا مرا بنتا خدا کے سامنے

گر نہ ہوتا یا رسول اللہ سہارا آپ کا

بہت آسان لفظوں میں یہ اس نے کہہ دیا ہم سے

نہیں تم سے محبت جاؤ جو کرنا ہے سو کر لو

جب بھی چوما ہے ترے ہونٹوں کو

جسم سے ان کو جدا جانا ہے

ابھی تو اور بڑھے گی یہ تشنگی دل کی

ابھی تو اور بھی زیادہ وہ یاد آئیں گے

اول اول جو دیکھتی تھیں تم

وہ ہی درکار ہے نظر ہم کو

بات آتی ہے دوستوں کی جب

مجھ کو دشمن عزیز لگتے ہیں

تمہیں کو چاہیں گے زندگی بھر کسی سے الفت نہیں کریں گے

جو کہہ دیا ہے سو کہہ دیا ہے نئی محبت نہیں کریں گے

اسے بھی تھا مجھے برباد کرنا

مجھے بھی اک فسانہ چاہیے تھا

ترے ہونٹوں کی سرخی دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے

چبایا ہے کسی عاشق کا دل ہندہ مزاجی سے

افسوس مجھ کو چھوڑ کے جانے سے پیشتر

وہ جا چکا تھا مجھ کو خبر بعد میں ہوئی

ایک بس ہم نے تجھ کو چاہا تھا

اور کیا ہم نے تجھ سے چاہا تھا

تم کو پانا نہیں مرا مقصد

اب فقط تم کو بھول جانا ہے

لڑی ہے آنکھ مری جب سے تیری آنکھوں سے

سوائے تیرے مجھے کچھ نظر نہیں آتا

ایک ہی شخص ابتدا ہے مری

ایک ہی شخص اختتام مرا

دوریاں قربتوں کا باعث ہیں

قربتیں دوریاں بڑھاتی ہیں

میں تم سے دور رہ کر کس طرح یہ تم کو سمجھاؤں

کہ مجھ سے دور رہ کر کس قدر ہو تم اکیلی

مزے جو تیری قربت کے تھے سارے بھول بیٹھے ہیں

مزا فرقت میں تیری ہم کو اتنا آ گیا جاناں

عقل کہتی ہے کہ سودا ہے زیاں کا

اور تجھے دل بے تحاشا چاہتا ہے

جتنا جاتے ہیں دور وہ مجھ سے

اور اتنا قریب ہوتے ہیں

گذشتہ سال بھی اشرفؔ یہی امید تھی ہم کو

کہ یہ جو سال آیا ہے خوشی کی گھڑیاں لائے گا

دیکھا جمال یار تو مخمور ہو گئے

بے خود ہیں بے پیے ہی یہ ایسی شراب ہے

دیکھو مرے شریر میں کچھ بھی نہیں رہا

دیکھو تمہارا عشق مرا کھا گیا بدن

مجھ سے کہتی ہے آج تم شاعر

ہو اگر تو مری بدولت ہو

سر کٹا کر ہی سرخ روئی ہے

عشق بھی کربلا کا میداں ہے

ایک ہم ہیں کہ وہیں ہیں کہ جہاں بچھڑے تھے

ایک تو ہے کہ کبھی یاں تو وہاں ہوتا ہے

وہی سب لوگ اشرفؔ آستیں کے سانپ نکلے ہیں

جنہیں شامل سمجھتے تھے تم اپنے خیر خواہوں میں

بڑھتے ہی جا رہے ہیں طوفان خواہشوں کے

ہوتی ہی جا رہی ہے مجھ میں کمی تمہاری

اور تو قاصد نہیں کچھ ان سے کہنے کے لئے

ان سے بس تو اتنا کہنا یاد آنا چھوڑ دیں

ارادہ پھر کسی سے کر لیا اس نے محبت کا

سو اب یہ دیکھنا ہے کون ہے زد میں تباہی کے

کل ابن آدم ان پہ قربان ہو نہ جائیں

توبہ وہ ان کے جلوے اللہ وہ نظارے

اول اول تو بہت عقل سے الجھے گا دل

بعد پھر آپ ہی دل آپ کو سمجھائے گا

تب جا کے کہیں ضابط و مضبوط ہوئے ہیں

ہم سال کئی آتش دوزخ میں جلے ہیں

کب خبر تھی کہ حیات اشرفؔ

تیری زلفوں میں الجھ جائے گی

یہ کس طرح کا ستم ہے خدا ترا مجھ پر

مرے نصیب کوئی حادثہ نہیں رکھا

دیں گے یہ اہل جرم کو راحت

بے قصوروں کو پھانسیاں دیں گے

Recitation

بولیے