محمد شہزاد کے طنز و مزاح
اگر فیض صاحب کو ماہواری آتی!
ہمارا ملک عجیب سرزمین ہے۔ یہاں گندم، کپاس اور گنا تو موسموں کے تابع اگتے ہیں، مگر نابغے سارا سال پھوٹتے رہتے ہیں۔ ہر چند برس بعد افق پر ایک نیا ستارہ نمودار ہوتا ہے اور قوم اس کے گرد اس عقیدت سے طواف کرنے لگتی ہے جیسے صدیوں سے کسی معجزے کی منتظر ہو۔
زمینی جنت کا انجام!
ایک دور اندیش رئیس۔۔۔ جو اس قدر خدا ترس تھا کہ غریبوں کا خون چوس کر بنائی گئی دولت کو ہمیشہ انسانیت کی فلاح پر بےدریغ لٹاتا تھا۔۔۔ کے نورانی دماغ میں ایک تجارتی اور روحانی خیال کوندا۔ اس نے سوچا کیوں نہ اپنی اس ان گنت، بلا حساب (اور شاید بے نامی) دولت
ادارۂ خانم بربادی کا ایک اہم سیمینار!
صبح سے ہی ادارہ خانم بربادی کے دفتر میں بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ ”کرسیاں سیدھی رکھو، سامنے والی قطار خالی نہیں نظر آنی چاہیے۔ پہلے تم لوگ بیٹھنا۔ جب اصلی مہمان آئیں گے تو آہستہ سے اٹھ جانا۔“ اتنے میں ادارے کی سربراہ مس تباہ گل دفتر میں داخل ہوئیں۔ ”حاضری
یولیسس سے زلیخائی، امامُ المترجمین کا معجزہ!
جب انور سن رائے صاحب نے اعلان کیا کہ وہ ”یولیسس“ اردو میں ترجمہ کر رہے ہیں تو ہمیں وہ بقراط یاد آیا جو بالٹی سے بحر او قیانوس خالی کر رہا تھا۔ احباب نے انہیں سمجھانے کی ہر ”بےسود کوشش“ کی، لیکن یہ ٹس سے مس نہ ہوئے! یولیسس کا اردو ترجمہ کرنا ایسا ہی
دائی اماں کا ادبی زچہ خانہ اور للیاتس کا تماشہ!
ہماری ہر دلعزیز فیمی نسٹ، مابعد جدیدیت کی خود ساختہ علمبردار، بقراطِ عصر اور یگانۂ روزگار دانشور ’دائی اماں‘ نے حال ہی میں ایک ایسا معجزہ کر دکھایا ہے کہ تاریخِ ادب دنگ اور نقاد ششدر رہ گئے۔ انہوں نے اپنے اسّی سالہ وجود کی فکری کوکھ سے ایک ادبی بچے
حقِ ادبی تعریف!
صبح سویرے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں سمجھا گوالا ہوگا۔ دروازہ کھولا تو عدالتی اہلکار تھا۔ اس نے ایک کاغذ میری طرف بڑھایا اور بولا، ”مبارک ہو۔“ میں نے حیرت سے پوچھا، ”کس بات کی؟“ کہنے لگا، ”آپ کے خلاف مقدمہ ہو گیا ہے۔“ میں نے سمن کھول کر پڑھا تو واقعی