محمد یاسر مصطفوی کے اشعار
اداسی انگنت یادیں نہ جانے کتنے بچھڑے خواب
کبھی دیکھی ہے یارو تم نے وہ آنکھیں دسمبر کی
ہم سے بچھڑے ہیں کئی لوگ ہمارے اپنے
ہم نے ہر عید پہ قربان کیا ہے کچھ کچھ
ہم تو شاعر ہیں ہمیں وصل کی پرواہ نہیں
ہم تجھے اپنے خیالات میں چھو لیتے ہیں
خودکشی کرنے کو دریا کی طرف جاتا ہوں
اور مل جاتا ہے ہر روز کنارے کوئی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ثمر کا چاہنا ہی صرف بے جا ہے درختوں سے
برابر ان درختوں کی حفاظت بھی ضروری ہے
ابھی تو خون بہا ہے فراق میں تیرے
ابھی یہ جان مری جاں گنوانا باقی ہے