نذیر فتح پوری کے دوہے
بیتے جس کی چھاؤں میں موسم کے دن رات
اپنے من کی آس کا ٹوٹ گیا وہ پات
دھرتی کو دھڑکن ملی ملا سمے کو گیان
میرے جب جب لب کھلے اٹھا کوئی طوفان
کاغذ کو میں نے دیا شبدوں کا وردان
گیت غزل کے روپ میں مجھے ملا سمان
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere