قدوس صہبائی کے افسانچے
حمام میں سب ننگے
وہ اپنے باپ کے قدم بہ قدم چل رہا تھا۔ اور باپ خاندانی روایات کے مطابق موسیقی و حسن کا دلدادہ تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ باپ اور بیٹا دونوں خاندانی روایات پر عمل کر رہے تھے۔ بیٹا جوان ہو گیا تھا لیکن باپ کو اس کی جانب سے کوئی غلط فہمی نہ تھی۔ باپ کہتا تھا
قاتل محبت
’’تم چند دن میں اس کی بیوفائی بھول جاؤ گے۔‘‘ راج مل نے جوش سے خلوص اور ہمدردی کے ساتھ کہا۔ ’’میں اسے زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ ہر لمحہ اسی کی یاد اور اس کی بیوفائی کا خیال دماغ کو پریشان کرتا رہے گا۔‘‘ ’’تمہارا فلسفۂ زندگی غلط ہے۔ مجھے دیکھو۔‘‘ ’’کیا
شاعر کی محبت
’’آہ!طاؤس! تم نہیں جانتیں، میں نے تمہیں اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے، تم میری تسکین روح و دماغ ہو۔ تمہاری ایک نظر پر کائنات کو قربان کر سکتا ہوں۔ ’’آہ طاؤس! تم کتنی سادہ و پرکار ہو! بخدا، تمہارا یہ تبسم دو جہان میں اپنی قیمت نہیں رکھتا۔ اف! تم نے میرے
ادیب کون ہے؟
’’میں اس لئے بھوکا مرتا ہوں کہ ادیب ہوں۔‘‘ ’’تم اس لئے بھوکے مرتے ہو کہ ادیب نہیں ہو۔‘‘ ’’تم اس لئے ایسی باتیں کہتے ہو کہ بھوکے نہیں مرتے، فوج کا کوئی کپتان بھوکا نہیں مرتا۔ میں ادیب ہو اس لئے بھوکا مرتا ہوں۔‘‘ ’’آج کل نہ فوج کا کپتان بھوکا مرتا ہے
سب سے بڑا فتنہ
گھنشیام داس گپتا مشہور ساہوکار رام داس گپتا کے فرزند ارجمند اور کئی ملوں کے مالک تھے۔ نول رائے چودہری بیرسٹر، دہلی کے مشہور قانون داں اور منصف تھے۔ سیٹھ جی کے قانونی مشیر ہونے کے ساتھ ہی ساتھ وہ ان کے دوست بھی تھے اور دونوں میں بے انتہا یارانہ تھا۔ ایک
طوائف
’’ذرہ نوازی ہے۔ میں کس قابل ہوں۔ ابھی غریب الوطن ہوں۔‘‘ دہلی میں نو وارد طوائف نے ’’خان بہادر حلیم‘‘ کے ستائش گرانہ قصیدے کا جواب دیا۔ آج پہلی بار ایک شریف گھرانے میں جمنا بائی کا مجرا ہوا تھا، خان بہادر کا خیال تھا کہ جمنا بائی اخلاق، صورت سیرت میں
اڈیٹر
ایک مشہور اخبار کا مالک شالامار باغ میں ایک بینچ پر بیٹھا شام کی تازہ ہوا سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اس کا سوٹ بہت قیمتی تھا۔ اس کے داہنے ہاتھ کی انگلی میں ہیرے کی بیش قیمت انکوٹھی پڑی تھی۔ برابر ہی دو تین باتصویرماہنامے رکھے تھے جن میں سے وہ ایسے اشتہارات
خود کشی
رشید صبح اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ زہر کی ایک شیشی بستر کے بازو میں پڑی تھی۔ کل ہی اس کا دیوالہ نکل گیا تھا اور السی اورتل کامارکیٹ اس کی امید کے بالکل خلاف اتنا گر گیا تھا جس سے اسے خود اپنی زندگی کی ساری اور اپنے باپ کی کمائی ہوئی دولت تک سے ہاتھ