رضیہ کاظمی کے افسانے
ماضی کے جھروکے سے
سنہ۱۹۴۔ کی دہائ کا زمانہ تھا۔ مدن پورشہر سے دور افتادہ مختصر آبادی پر مشتمل ایک گاؤں تھا۔ ابھی نمازی یہاں کی اکلوتی مسجد سے نماز فجر پڑھ کےنکل ہی رہے تھےکہ تیز تیز ڈرم بجنے کی آوازاور اس کے بعد ایک منادی نے سبھوں کو چونکا دیا۔ اس گاؤں کا دستور
سپنوں کا محل
ہفتہ بھر کی تھکن کے بعد میں دلھن کے ڈولےکے ساتھ جوں ہی گھرکے دروازے پر پہنچا تو میرے کچھ بےتکلف دوستوں کی ایک ٹولی نےمجھے گھیر لیا۔ دروازہ پر کچھ رسمیں ہوئیں اور دلھن اندر پہنچا دی گئی۔ اندر جانے کے لئے میں نے بھی کئی بار ان کے چنگل سے نکلنے کی کوشش