سلمیٰ جیلانی کے افسانے
چاند کو چھونے کی خواہش
‘’بائے دی وے۔۔۔ آپ لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے ٹیچر کہہ کر نہ بلائے، میں نے رول کال کرتے ہوئے اپنے طالب علموں کو تنبیہ کی’’ سب میرا نام لیں یعنی صباحت۔۔۔ یہی یہاں کی روایت ہے، لڑکیوں لڑکوں میں چہ میں گوئیاں شروع ہو گئیں، ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ
عشق پیچاں
عشق پیچاں یعنی انگلش آئی وی کی ننھی سی کونپل کو سامنے لگے ہوئے پام کے درخت پر سر اٹھاتے دیکھا تو میں نے کیاریوں کی صفائی کرتے ہوئے ناگواری سے اسے کاٹنے کے لئے قینچی بڑھائی۔ ‘’ہفتہ دو ہفتے تک نہ دیکھو تو خود رو پودوں سے سارا باغیچہ جنگل بن جاتا ہے
درد لا دوا کا دوا ہوجانا!
عجیب درد تھا۔۔۔ کسی آکاس بیل کی طرح فراز کو نچوڑتا چلا جا رہا تھا۔ دنوں میں ہی ان کی حالت برسوں کے مریض جیسی ہو چلی تھی۔ ٹانگ میں کرنٹ کی طرح پھیلنے والے درد کی شکایت تو وہ گزشتہ کئی دن سے کر رہے تھے مگر وائے ری میری مصروفیت بس آرتھو پیڈک ماہر کے
بڑے میاں
انسانوں کی کہانیاں ہر وقت ہواؤں میں تیرتی پھرتی ہیں یہ ان کی روحوں کی طرح ہوتی ہیں کچھ کی ہلکی شفاف پانیوں جیسی اور کچھ کی گہری ، کثیف اور سیاہی سے بھری ہوئی - کبھی کوئی دلدار لمحہ ایسا بھی ہوتا ہے جب ان میں سے کوئی پاس آ کر بیٹھ جاتی ہے اور کہتی ہے
پندرہ منٹ کا تہوار
موسم گرم اور خشک ہو چلا تھا۔ وہ ایک مجزوبانه خاموشی کے ساتھ جھیل کے اطراف دائرہ بنائے بیٹھے تھے، میلوں پر پھیلی ہوئ جھیل جو اب گدلے پانی کے وسیع و عریض جوہڑ کی مانند دکھائی دیتی تھی ان کی موجودگی سے جیسے پھر سے جی اٹھی تھی، ان کے سیاہ چمکیلے بدن دھوپ