شاہد انور کے دوہے
سندرتا کی بات ہو تیرا ذکر نہ آئے
مولیٰ! ایسی پریت کو دیمک ہی لگ جائے
تجھ کو ڈھونڈا چار سو جانی یہ حق بات
تجھ کو مجھ میں کھوجتی خود ہی میری ذات
آنکھوں کے در بند تھے قید تھے سب لمحات
اس کے دل کے شہر میں گزری پھر اک رات
روپ الگ ہر شہر کا الگ ہے بود و باش
لیکن دنیا گھوم لی وہی رہا آکاش
مول چکایا جل لیا بجھی نہ من کی پیاس
دھن دولت کب پا سکے پریمی کا وشواس
ہر چہرہ ہے مختلف سب میں ترا جمال
کیسے لاؤں ڈھونڈ کر تری کوئی مثال
دو پل رکنے کے لیے کیسی آن اور بان
بنجاروں کو ایک ہے بستی اور شمشان
صحبت آخر کر گئی کام تھا جو دشوار
شیشے جیسا ہو گیا پتھر کا کردار
دنیا کی اس بھیڑ میں کیسا ہے سنجوگ
زنجیروں میں قید ہیں سوچے سمجھے لوگ