Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shahid Anwar's Photo'

شاہد انور

1965 | دلی, انڈیا

شاہد انور کے دوہے

10
Favorite

باعتبار

سندرتا کی بات ہو تیرا ذکر نہ آئے

مولیٰ! ایسی پریت کو دیمک ہی لگ جائے

تجھ کو ڈھونڈا چار سو جانی یہ حق بات

تجھ کو مجھ میں کھوجتی خود ہی میری ذات

آنکھوں کے در بند تھے قید تھے سب لمحات

اس کے دل کے شہر میں گزری پھر اک رات

روپ الگ ہر شہر کا الگ ہے بود و باش

لیکن دنیا گھوم لی وہی رہا آکاش

مول چکایا جل لیا بجھی نہ من کی پیاس

دھن دولت کب پا سکے پریمی کا وشواس

ہر چہرہ ہے مختلف سب میں ترا جمال

کیسے لاؤں ڈھونڈ کر تری کوئی مثال

دو پل رکنے کے لیے کیسی آن اور بان

بنجاروں کو ایک ہے بستی اور شمشان

صحبت آخر کر گئی کام تھا جو دشوار

شیشے جیسا ہو گیا پتھر کا کردار

دنیا کی اس بھیڑ میں کیسا ہے سنجوگ

زنجیروں میں قید ہیں سوچے سمجھے لوگ

بھیتر اپنے جھانک کر جوگی ہوا اداس

پایا پانی ہر جگہ کھوج نہ پایا پیاس

Recitation

بولیے