شائستہ یوسف کا تعارف
شائستہ یوسف کی ولادت 15 جون 1951ء کو عبدالرحمٰن صاحب کے گھر ممبئی، مہارشٹر میں ہوئی تھی۔ شائستہ یوسف کا تخلص شائستہ ہے۔ انھوں نے فلاسفی اور اردو میں ایم اے کیا تھا۔ بعد مین ٹمکور یونیورسٹی سے LLDکی سند حاصل کی۔ انھوں نے 1972ء سے شعر گوئی کا آغاز کیا۔ ان کی تصانیف اس طرح ہیں۔ (1)سونی پرچھائیاں، (2)گل خودرو، (3)آبِ آئینہ، (4)یادِ رفتگاں(مونوگراف۔محمود ایاز فن و شخصیت)، (5)آنے والی کل کی کہانیاں (انگریزی سے اردو میں ترجمہ)۔ اردو کا اہم رسالہ ”سوغات“ جس کے بانی محمود ایاز تھے شائستہ یوسف اس رسالے کی مدیرہ تھیں۔
ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں کئی انعامات و اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے جیسے”گل خودرو“ پر کرناٹک اردو اکادمی انعام، کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے اعزاز برائے مجموعی اردو خدمات، بھارت جیوتی ایوارڈ، ان کی نظمیں اور غزلیں کرناٹک کے درسی نصاب میں بھی شامل کی گئی ہیں۔ انھیں ٹمکور یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا ہے۔ ان کی علمی و ادبی اداروں سے بھی وابستگی رہی ہے۔ وہ ساہتیہ اکادمی کے اردو مشاورتی بورڈ اور قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو کی ایگزیکٹو بورڈ ممبر رہ چکی ہیں ۔وہ نسائی تنظیم ”محفل نساء“ کی صدر بھی ہیں۔
دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر محمد کاظم شائستہ یوسف کے متعلق اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”آزادی کے بعد کی جن شاعرات کا ذکر کیا گیا ہے ان کی شاعری کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں نسائی مزاج کی جھلکیاں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں شائستہ یوسف کی آواز بھی ایک اہم آواز ہے۔ خواتین فنکاروں میں ایسی آواز کم کم ہی سنائی دیتی ہے جن کے یہاں عورت کے وجودی کرب کا اظہار ہو۔ عورت کی حالت بالکل زمین کی مانند ہے جو زندگی کی کھیتی کو ہمیشہ ہرا بھرا رکھتی ہے لیکن فصل کٹ جانے کے بعداس وقت تک اس جانب کم کم ہی لوگ دیکھتے ہیں جب تک کہ اگلی فصل کی بوائی کا موسم نہ آجائے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک جانب یہ زمین فصل سے لہلہاتی ہے تو دوسری جانب آتش فشاں بھی اسی زمین سے پھوٹتے ہیں۔ یہی آتش فشاں جب شاعری کا پیرایہ اختیار کرتا ہے تو کبھی سماج کے تشکیل کردہ نظام کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اور کبھی دھیمے لہجے میں اپنا احتجاج درج کراتا ہے۔ ایسے موقعے پر اکثر لہجہ اور آواز دونوں بلند ہو جاتی ہیں لیکن شائستہ یوسف کی شاعری میں یہ احتجاج اور شکایت دونوں کا لہجہ نرم ہے۔ وہ نرم لہجے میں سخت بات کہنے کے ہنرسے بخوبی واقف ہیں۔“