aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
ابو ظہبی, متحدہ عرب امارات
بل کھاتی ندیوں کے ٹھنڈے تازہ پانی کی بہتی لہروں میں سے چھینٹے اڑاتے مجھے جس کے سنگ گزرنا تھا، کوئی تھا ایسا جس کے ساتھ میں مجھے پھولوں کی طرح کھلنا اور کلیوں کی طرح چٹکنا تھا، ستاروں کی صورت چمکنا تھا۔ بلند پہاڑوں کی خایک رنگ خاموشیوں میں، ہواؤں کے سنگ
پھولوں اور خوشبوؤں سے بھرپور ایک باغ تھا جس میں ہر طرف روپہلے، اودے، کاسنی، قرمزی، نارنگی جامنی اور گلابی پھول اوپر نیچے، دائیں بائیں بھرے ہوے تھے۔ روش کے گرد کھڑی مہرابیں، کناروں پر رکھے سینکڑوں گملے اور پرندوں کے مجسمے، طنابیں اور چھپریاں سب کی سب
وہ انیس بیس سال کی کچی کلی تھی اور میں عمر کی دہاییاں عبور کرتا چالیسویں کے آخری پیٹے میں جا پہنچا تھا مگر جوانی دل کی ہر رگ میں ڈیرہ جمان تھی۔ بچے جوان تھے اور بیوی بوڑھی۔ بالوں کے رنگ، مہنگے کپڑوں کی کریز، بےسلوٹ جوتوں کی چمک سے اور لمبی بڑی کالی کار
You have exhausted your 5 free content pages. Register and enjoy UNLIMITED access to the whole universe of Urdu Poetry, Rare Books, Language Learning, Sufi Mysticism, and more.
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books