طارق مرزا کے افسانے
کنوئیں کا مینڈک
ایک چھوٹے مگر گہرے کنوئیں میں ایک مینڈک رہتا تھا۔ وہ اس کنوئیں کے اندر کی دنیا کے علاوہ کچھ نہیں جانتا تھا۔ یہ کنواں اور اس میں سے نظر آنے والآسمان اس کے لئے کل کائنات تھا۔ ایک دن اس کی ملاقات ایک دوسرے مینڈک سے ہو گئی جو کنوئیں کے باہر کی دنیا میں
مکافات عمل
وہ اتوار کی روشن اور خوشگوار صبح تھی۔ میں ہفتے میں ایک دن تسلی سے اور جی بھر کر ناشتہ کرنے کے سنہری موقع سے فائدہ اٹھا کر ابھی ابھی فارغ ہوا تھا۔ ابھی بھی چائے کا کپ میرے ہاتھ میں تھا۔ میں کھانے والے کمرے سے نکل کربیک یارڈ میں رکھی ہوئی کرسیوں میں
جرم محبت
ٹیکسی ڈرائیور چند منٹ تک خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا پھراچانک گویا ہوا، ”آپ کا تعلق کس ملک سے ہے؟“ لب ولہجے اور رنگت سے وہ بھی ایشیائی نظر آرہا تھا۔ لہذا میں نے آسٹریلیا کے بجائے اسے پاکستان بتایا۔ اس نے اُردو میں کہا، ”میرا تعلق بھی پاکستان
تلاش راہ
چاروں جانب حد نظر تک صحرا ہی صحرا تھا۔ جدھر نظر اٹھتی ریت اور پتھروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ سورج جیسے ہمارے سروں کو چھو رہا تھا۔ سورج کی شعاعیں اتنی تیز تھیں کہ نظر اوپر نہیں اٹھتی تھی۔ اگر سرجھکا کر چلتے تو بھی سورج سے مفر ممکن نہیں تھا۔ ریت
روشنی کی کرن
انور یوں تو سند یافتہ ٹیچر ہے لیکن آسٹریلیا میں اسے سیکیورٹی گارڈ کا کام کرنا پڑا۔ پڑھانا انور کا شوق ہی نہیں جنون ہے۔ ہوش سنبھالنے سے جوانی کے سفر میں انور نے اپنے لیے صرف ایک ہی خواب دیکھا تھا۔ وہ خواب یہی تھا کہ وہ علم کی روشنی اپنے دل اپنے دماغ
سونامی
میں سکول سے نکلی تو بہت خوش تھی۔ سکول سے واپسی پر میں ہمیشہ خوش ہوتی ہوں لیکن جمعے والے دن میری خوشی دوبالا ہو جاتی ہے۔ آج جمعہ تھا۔ آج میری خوشی دیدنی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلے دو دن میرے بابا گھر میں ہوتے ہیں۔ جب بابا گھر میں ہوتے ہیں تو ہم سب
چاچا ٹیکسی
اس کا اصل نام محمد صدیق بہت کم لوگوں کو معلوم تھا۔ سڈنی میں وہ چاچا ٹیکسی کے نا م سے مشہور تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی اس کے دن اور رات کا زیادہ حصہ ٹیکسی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہی گزرتا تھا۔ ویسے تو چاچا نے ریڈفرن کی ایک قدیم اور خستہ سی عمارت میں ایک کمرہ
پکا مکان
زینب نے آٹا گوندھ کر رکھا۔ صحن کے ایک کونے میں چار فٹ کی کچی دیواروں کے مختصر احاطے میں بنے مٹی کے چولہے میں اُپلے توڑ کر رکھے۔ ان کے بیچ میں چند سوکھے تنکے رکھ کر آگ لگائی تو اُپلوں میں سے دھواں اٹھ کر پہلے زینب کی سانسوں میں سمایا اور پھر چولہے
دو گز زمنر
لِز کو مرے ہوئے پورے دو ماہ ہو گئے ہیں لیکن اس کی لاش ابھی تک بے گورو کفن ہے۔ اسپتال والے کہتے ہیں اگر کسی نے لاش کو دفنانے کا بندوبست نہیں کیا تو مجبوراََ اسے جلانا پڑے گا۔ لیکن اس کے لئے بھی دفنانے کی نسبت کم سہی رقم تو درکار ہے۔ وہ کون ادا کرے؟
واپسی
ضلع جہلم کے ایک چھوٹے سے گاؤں نور پور کے قبرستان میں ایک قبر کھودی گئی۔ کھدائی کے بعد اس کے اِرد گرد مختصر سی چاردیواری بنا کر عارضی طور پر اُسے اوپر سے بند کردیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس قبر کا مکین ابھی حیات تھا اور اپنی نگرانی میں اپنی آخری