ورون آنند
غزل 19
اشعار 19
مجھے کریدنے والو میں ایک صحرا ہوں
کہ مجھ سے ریت ہی نکلے گی آبشار نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اس گاؤں سے پوچھو قطرے کی قیمت
جس گاؤں میں سوکھے دریا ہوتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
آیا کوئی سیلاب کہانی میں اچانک
اور گھل گئے پانی میں وہ کردار نمک کے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں
کہ میں وہ قیس نہیں ہوں جو مار کھا جائے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
یقین کر وہ ترے پاس لوٹ آئے گا
جب اس کا اٹھنے لگے گا یقین لوگوں سے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے