Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یاسر ملک کے اشعار

چھوٹے سے اک آئینے میں چہرہ قید ہے ویسے ہی

جیسے اک کردار کے اندر ایک کہانی ہوتی ہے

موت نے آ کر بچایا پھر مجھے

درد نے جب زندگی سے بات کی

وہم ہوتا ہے مر گیا ہوں میں

ایسے خدشات سے لڑائی ہے

تم نے چھوا تو دل یہ دھڑکا مرا وگرنہ

پتھر کا ہو گیا تھا خاموش بیٹھے بیٹھے

مرے سپنے مری پلکوں کی حد میں رہ گئے دیکھو

نکل پایا نہیں میں ان دریچوں سے کبھی آگے

Recitation

بولیے