یوسف تقی کا تعارف
تخلص : 'Taqi'
اصلی نام : یوسف رئیس تقی
پیدائش : 15 Aug 1943 | کولکاتا, مغربی بنگال
وفات : 03 Sep 2017 | کولکاتا, مغربی بنگال
LCCN :n81136136
پورا نام رئیس یوسف تقی جب کہ قلمی نام یوسف تقی اور تخلص تقی ہے۔ ان کی ولادت 15 اگست 1943ء کو کولکاتا میں محمدرئیس الدین صاحب کے دولت کدے پر ہوئی۔ یوسف تقی نے کلکتہ یونیورسٹی سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی۔ ان کا پیشہ درس و تدرس تھا۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں پروفیسر تھے۔ بحیثیت مصنف اور مرتب ان کی تصنیفات درج ذیل ہیں۔ (1)ترقی پسند تحریک اور اردو نظم - 1980ء، (2)مرشدآباد کے چار کلاسیکی شعراء- 1989ء، (3)خشک ٹہنی زدر پتے (شعری مجموعہ) -2003، (4)بدر الزماں بدر کلکتوی:حیات و خدمات- 2004ء، (5)تمحیص وتجزیہ، (6)ل۔ احمد اکبرآبادی (حیات و خدمات)-2015ء، (6) مثنوی جہاں شاہ و جہاں بانو- 1998ء، (7)کلیاتِ بدر(بدر الزماں بدر کلکتوی)-2012، (8)غزلیاتِ طپش (مرزا جان طپش)-2013
ممتاز ناقد، ادیب اور مدیر پروفیسر ابوالکلام قاسمی یوسف تقی کے شعری مجموعہ ”خشک ٹہنی زرد پتے“ پر اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”یوسف تقی کی نظموں اور غزلوں کا یہ انتخاب بہت پہلے منظرِ عام پر آجانا چاہیے تھا مگر کیا کیا جائے کہ بعض خوش گو شعراء کو بھی خود تنقیدی عرصے تک متعارف نہیں ہونے دیتی۔ یوسف تقی نے متعدد تحقیقی و تنقیدی کارنامے انجام دیئے ہیں اور وہ شعر و ادب کے ہر کوچے سے آگاہ ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنا مجموعۂ کلام چھاپنے میں اس قدر تاخیر کی۔ اس مجموعۂ کلام میں شامل نظموں اور غزلوں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاعر کا بنیادی رجحان نظم کی طرف ہے۔ نظم گوئی میں جس نوع کے انضباط اور انہماک کی ضرورت ہوتی ہے، وہ یوسف تقی کی نظموں میں واضح طور پر منعکس ہے۔ انھوں نے آزاد ہئیت میں بھی نظمیں کہی ہیں اور نثری نظم کی ہئیت کو بھی آزمایا ہے۔ واضح رہے کہ نثری نظم کی ہئیت محض منہ کا مزہ بدلنے کی خاطر اختیار نہیں کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یوسف تقی کے یہاں ہئیت کا انتخاب ان کی تخلیقی ضرورتوں کا تابع معلوم ہوتا ہے۔ موضوعات کی سطح پر ردِ عمل کی شدت اور احساس کی انفرادیت ان کے یہاں نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی نظموں میں ”خود شناسی“، ”انتباہ“ اور ”خودفریبی“ جیسی تخلیقات کو کسی بھی عمدہ انتخاب میں جگہ مل سکتی ہے۔“
یوسف تقی کا انتقال 03 ستمبر 2017ء کو ہوا۔
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n81136136