ذکیہ مشہدی کے ذریعے کیے گئے تراجم
ایک کلرک کی کہانی
دلیپ کمار
گھڑی کی سوئیاں 06:30 کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ تمہارا نام محبوب خان ہے۔ تم ابھی تک سوئے ہوئے ہو۔ کووائی صبح کے سکون میں ڈوبا ہوا ہے۔ ویرائٹی ہال روڈ پر ایک خستہ حال بلڈنگ کے دو بڑے چبوتروں کے درمیان ایستادہ ایک چھوٹے سے دروازے کو کھولیں تو ایک
ذہن ایک کشتی ہے متلاطم لہروں کے درمیاں
دلیپ کمار
وہ سمندر کے کنارے بیٹھا ہوا ہے۔ آج اس کی زندگی کا آخری دن ہے۔ اس نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جی ہاں آپ صحیح سمجھے۔ وہ ایک شاعر ہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ بڑے شاعر بیماری سے نہیں مرتے۔ عموماً وہ خود اپنے آپ کو مارنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس
ایک بڑا قبرستان
پدومائی پتن
شام پڑے پورا شہر ایسی بھیڑ بھاڑ والی شاہراہ میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں یا تو آپ کسی کو دھکا دے رہے ہوتے ہیں یا کوئی دوسرا آپ کو دھکیل رہا ہوتا ہے۔ اخلاق و تہذیب بس اتنے ہی رہ جاتے ہیں اور اگر آپ کسی ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں چارپانچ سڑکیں آکر ملتی
کرسی
کرشنا راجا نرائن
کہیں بغیر کرسی کے بھی کوئی گھر ہوتا ہے؟ اچانک جیسے کنبے کا ہر فرد یہی سوچنے لگا تھا۔ آخر کرسی کو فیملی ایجنڈا میں شامل کر لیا گیا اور اس پر گفتگو ہونے لگی۔ پرسوں کنبے کے ایک پرانے شناسا ملنے آئے۔ وہ سب جج تھے۔ اب کیا وہ ہم لوگوں کی طرح لنگی