کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا

مرزا غالب

کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا

مرزا غالب

MORE BY مرزا غالب

    INTERESTING FACT

    ۱۸۵۲ء

    کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا

    کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا

    ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جاے

    یار کا دروازہ پاویں گر کھلا

    ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ

    دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا

    واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ

    زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا

    ہاتھ رکھ دی کب ابرو نے کماں

    کب کمر سے غمزے کی خنجر کھلا

    مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ

    رہروی میں پردۂ رہبر کھلا

    سوز دل کا کیا کرے باران اشک

    آگ بھڑکی منہ اگر دم بھر کھلا

    تامے کے ساتھ آگیا پیغام مرگ

    رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا

    دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئی

    ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا

    مآخذ:

    • کتاب : Deewan-e-Ghalib (Pg. 419)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY