میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی

مرزا غالب

میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    دلچسپ معلومات

    ۱۸۶۵ء

    میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی

    تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی

    غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرت ماہ

    ہیں ہوس پیشہ بہت وہ نہ ہوا اور سہی

    تم ہو بت پھر تمہیں پندار خدائی کیوں ہے

    تم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی

    حسن میں حور سے بڑھ کر نہیں ہونے کے کبھی

    آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی

    تیرے کوچے کا ہے مائل دل مضطر میرا

    کعبہ ایک اور سہی قبلہ نما اور سہی

    کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے واعظ

    خلد بھی باغ ہے خیر آب و ہوا اور سہی

    کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملالیں یارب

    سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی

    مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں

    زہر کچھ اور سہی آب بقا اور سہی

    مجھ سے غالبؔ یہ علائی نے غزل لکھوائی

    ایک بیداد گر رنج فزا اور سہی

    مأخذ :
    • کتاب : Ghair Mutdavil Kalam-e-Ghalib (Pg. 102)
    • Author : Jamal Abdul Wahid
    • مطبع : Ghalib Academy Basti Hazrat Nizamuddin,New Delhi-13 (2016)
    • اشاعت : 2016
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib (Pg. 487)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY