noImage

مفتی صدرالدین آزردہ

1789 - 1868 | دلی, ہندوستان

پیدائش :دلی

مفتی صدرالدین آزردہ غالب کے عہد کی ایک ممتاز ومعزز شخصیت تھے۔ملک پر انگریزوں کے تسلط سے پہلے وہ دہلی اور آس پاس کے علاقوں کے مفتی تھے اور برطانوی دور حکومت میں انھیں صدرالصدور کے عہدہ سے نوازا گیا،جو  اس زمانہ میں انگریزوں کی طرف سے کسی ہندوستانی کو دیا جانےے والا سب سے بڑا عدالتی عہدہ تھا۔اپنے سرکاری فرائض کے علاوہ مفتی صاحب درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہو ئے تھے۔اور ان کے نامور شاگردوں میں سر سید احمد خاں،یوسف علی خاں ناظم(نواب رامپور)،مولانا ابواکلام آزاد کے والد مولانا خیرالدین،نواب صدیق حسن خان(بھوپال) اور مولانا فیض الحسن خان جیسے لوگ شامل تھے۔وہ غالب کے دوست ہونے کے باوجود غالب کے کلام کو، ان کی مشکل پسندی کی وجہ سے، پسند نہیں کرتے تھے۔دونوں میں اکثر دلچسپ نوک جھونک ہوتی رہتی تھی لیکن دونوں ایک دوسرے سے محبت بھی کرتے تھے۔غالب  پر جب قرض خواہوں نے  ان کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تو انہوں نے خود غالب کا قرض ادا کیا اور ان کو نجات دلائی۔اسی طرح جب شیفتہ  کے تذکرہ میں آزردہ  کا نام شامل ہونے سے رہ گیا تو غالب نے شیفتہ کو اس کی طرف توجہ دلائی اور ان کا نام شامل کرایا۔ آزردہ کی شخصیت اوصاف  و محاسن کا مجموعہ تھی۔وہ  جیّد عالم،صرف و نحو،منطق،فلسفہ،ریاضیات اور اقلیدس،معانی و بیان،ادب اور انشاء میں یگانۂ روزگار تھے۔وہ علماء کی مجلس میں صدر نشیں،شعراء کی محفل میں میر مجلس،حکام کے جلسوں میں مؤقر و ممتاز اوربیکسوں کے حاجت رواتھے۔وہ اپنے طلبا کے استاد ہی نہیں سرپرست بھی تھے۔سبھی تذکرہ نویسوں نے ان کا نام احترام سے لیا ہے۔

آزردہ کا نام محمد صدرالدین تھا۔ان کے والد مولی لطف اللہ تھے۔  آزردہ 1789ء میں دہلی میں پیدا ہوے فقہ،اصول وغیرہ دینی علوم کی تعلیم شاہ  و لی اللہ کے فرزند مولانا رفیع الدین سے حاصل کی جبکہ باقی علوم کی کتابیں مولانا فضل امام خیرآبادی سے پڑھیں۔اس علمی فضیلت اور افتاء میں ان کی شہرت کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت نے 1827ء میں ان کوصدرالصدور کا عہدہ دیا۔دہلی اور آس پاس کے علاقوں کے شرعی امور کا فیصلہ،اسکولوں کے امتحانات اور عدالت دیوانی کی صدارت ان کے ذمہ تھی۔اس کے ساتھ ہی وہ اپنے مکان پر طلبا کو صرف و نحو،منطق،ادب،ریاضیات فقہ اور تفسیر کی تعلیم بھی دیتے تھے۔جامع مسجد کے نیچے مدرسہ دار البقا کے طالب علموں کو مفتی صاحب وظائف دیتے تھےاور ان کی ضروریات کی کفالت کرتے تھے۔تحریر و تقریر کی فضیلت اور متانت کے ساتھ ساتھ مروّت ،اخلاق اور احسان ان کی خوبیاں تھیں۔ہر قسم کے فضلاء اور شعراء کی محفل ان کے یہاں جمتی تھی۔اردو و فارسی اور کبھی کبھی عربی میں شعر کہتے تھے۔مشاعروں میں باقاعدگی سے  شریک ہوتے تھے۔ مولانا حالی سمیت ان کا کلام سننے والوں کا بیان ہے کہ وہ بہت دل شگاف لحن،غمناک اور درد انگیز آواز  سے شعر پڑھتے تھے۔ان کا اپنا بیان ہے کہ" کثرت مشاغل  شعر گوئی کی فرصت نہیں دیتی لیکن کبھی کبھی شعر کہے بغیر نیںح رہ سکتا"۔ دیوان مکمل نہیں ہو سکا یا 1857ء کے ہنگامہ میں ضائع ہو گیا یہ کہنا مشکل ہے لیکن تذکروں کے انتخاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر  حروف کی ردیفٖ میں اردو اور فارسی کی غزلیں لکھیں۔ایک چھوٹا سا مسدس بھی ان کی یادگار ہے جس میں انہوں نے 1857 کے واقعہ کے بعد بے گناہ قتل کئے جانے والوں کے غم میں آنسو بہائے ہیں۔1857 کی جنگ میں علماء سے جہاد کا فتوی لیا گیا تو  آزردہ کو بھی دستخط کرنے پڑے۔اس بناء پر انگریزوں نے،فتح پانے کے بعد ان کو گرفتار کر کے ساری املاک ضبط کر لی۔چند ماہ جیل میں رہے۔پھر پنجاب کے چیف کمشنر جان لارنس نے، جو دہلی میں مفتی صاحب پر مہربان تھا ،ان کو جرم سے بری کر دیا۔کہا جاتا ہے کہ جہاد کے فتوے پراپنے دستخط   کے نیچے انہوں نے "کتبت بالجبر" اس طرح لکھا تھا کہ نقطے نہیں لگائے تھے۔جسے" خیر" بھی پڑھا جا سکتا تھا اور" جبر" بھی۔بررحال ان کا سامان اور بیش بہا کتب خانہ غارت ہو  چکا تھا۔غیر منقولہ جائداد واگزار ہو گئی۔کچھ دن بستی نظام الدین میں رہ کر پرانی دہلی کے اپنے مکان میں واپس آگئے۔واپسی پر انو۔ں نے درس تدریس کا سلسلہ  جاری رکھا۔ اس زمانہ میں بہت زیادہ مالی پریشانیوں کے شکار رہے  کیونکہ طلبہ کے علاوہ بہت سے دوسرے لوگوں کی کفالت اپنے ذمّہ لے  رکھی تھی۔ آخری عمر میں فالج کا حملہ ہوا اور ایک دو سال تک اسی حالت میں رہنے  کے بعد 1868 میں 81 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔لا ولد تھے۔اپنے ایک بھانجے کو گود لے لیا تھا۔

جیّد عالم ہونے کے ساتھ ساتھ آزردہ اک بلند پایہ شاعر بھی تھے۔انہوں نے جوانی میں ہی شاعری شروع کر دی تھی اور شاہ نصیر کے شاگرد ہو گئے تھے۔کبھی کبھی نظام الدین ممنون اور مجرم مراد آبادی سے بھی مشورۂ سخن کرتے تھے۔آزردہ کا کوئی مرتّب دیوان موجود نہ ہونے کے باوجود مختلف تذکروں میں ان کے جو اشعار ملتے ہیں ،وہ ان کا شاعرانہ مرتبہ متعیّن کرنے کے لئے کافی ہیں۔آزردہ نے عام فہم اور سادہ زبان کو اپنے شعری اظہار کا ذریعہ بنایا۔وہ اعلی مضامین کو،فارسی ،عربی کی  تراکیب اور مشکل الفاظ کا سہارا لئے بغیر،پر لطف انداز میں بیان کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔آزردہ  کا شعری اصول ان کے ہی الفاظ میں یہ تھا۔"ریختہ یہ ہے کہ جوں آیت محکم ہے صاف*معنی ٔ دُور نہیں لفظ بھی مہجور نہیں"۔ان کے اشعار میں درد،خیال کی بلندی،زبان کی صفائی اور جذبہ کی صداقت نمایاں ہے۔ "آزردہ نے پڑھی غزل اک میکدہ میں کل**وہ صاف تر کہ سینہء پیرِمغاں نہیں"۔آرزو کے کلام کا سوز و گداز اس  سماجی اور تمدّنی انقلاب کی عکاسی کرتا ہے جس سے اُس زمانہ کی زندگی دوچار تھی۔اس حوالہ سے انہوں نے ایک دردناک شہر آشوب بھی لکھا ہے۔آزردہ کے یہاں مضامین عموماً روایتی ہیں جن میں وہ اپنی فنکاری سے نئی روح پھونک دیتے ہیں۔  "کامل اس فرقہء زہّاد سے کوئی نہ اُٹھا*کچھ ہوئے تو یہی رندانِ قدح خوار ہوئے"۔ان کے کلام میں شگفتگی  و شادابی بھی ہے اور روانی  و برجستگی بھی،طرز دلبری بھی ہے اور انداز دلربائی بھی۔آزردہ کے اشعار خاص و عام سب کے لئے دلکش اور دلچسپ ہیں۔ان کا جو بھی کلام دستیاب ہے سب کا سب انتخاب ہے۔ " جوں سراپاے یار آزردہ* تیرے دیواں کا انتخاب نہیں"