بوڑھوں کی کانفرنس

ہاشم عظیم آبادی

بوڑھوں کی کانفرنس

ہاشم عظیم آبادی

MORE BY ہاشم عظیم آبادی

    دفترسے واپس آرہا تھا کہ راستہ میں رکشہ، ٹم ٹم اور فٹن پر رنگ برنگ کے بوڑھے حضرات کو جوق مراد پور کی طرف جاتے دیکھ کر میں نے ایک بزرگ سے پوچھا ، ’’جناب عالی! غالباً آپ صاحبان کسی کے جنازے میں شرکت کے لئے تشریف لے جارہے ہیں۔‘‘

    انہوں نے مجھے گھورتے ہوئے جواب دیا۔۔۔’’ جی نہیں، ہم لوگ بوڑھوں کی کانفرنس میں شرکت کے لئے جارہے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اس تیزی سے آگے بڑھ گئے کہ میں مزید تحقیق نہ کرسکا۔ میں نے قیاس کر لیا کہ تبلیغ یا سیرت قسم کا جلسہ ہونے جارہا ہوگا۔ اس لیے میں بھی مراد پور کی طرف چل پڑا۔ ابھی دور ہی تھا کہ انجمن اسلامیہ ہال کے پھاٹک پر جلی حرفوں میں لکھا نظر آیا ’’بوڑھوں کی کانفرنس’’ میں نے کہا ، ’’الٰہی توبہ! کیا اب یہ بوڑھے بھی اپنی کانفرنس بلانے لگے۔‘‘

    انجمن اسلامیہ ہال کے پھاٹک پر چند بوڑھے کھڑے تھے اور کچھ عصائے پیری لئے ہوئے ادھر ادھر چہل قدمی کررہے تھے۔ میں نے بہ اطمینانِ تمام، شیروانی کے جیب میں ہاتھ ڈالے پھاٹک کے اندر قدم رکھنا چاہا، تو ایک بزرگ نے میری گردن ناپی اور دوسرے بڑے میاں نے اس بےدردی سے میری شیروانی کا دامن پکڑ کر کھینچا کہ ’چر‘ سے آواز آئی۔۔۔میں تڑپ اٹھا۔۔۔ ’’اجی حضرت! یہ کیا مذاق ہے آپ کا۔ دیکھئے تو میری شیروانی کی کیا گت بنی۔‘‘

    بوڑھے میاں آنکھوں سے شعلے برساتے ہوئے گرجے، ’’اندھے تو نہیں ہو تم۔‘‘

    ’’اندھا!‘‘ میں نے دہرایا، مگر حضور میری آنکھیں بفضلہ سلامت ہیں۔ ’’بخدا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں۔‘‘

    بوڑھے میاں غرائے، ’’اندھے نہیں ہو تو ہماری کانفرنس میں دھنسے کیوں پڑتے ہو۔ جب یہ معلوم ہے کہ اس کانفرنس میں نوجوانوں کی شرکت پر پابندی ہے۔ انہیں کسی حال میں اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ورنہ مجھے اس طرح پھاٹک پر پہرا دینے کی کیا ضرورت تھی، اچھا۔۔۔ یہ آپ الٹا مجھے آنکھیں دکھلا رہے ہیں۔ بلواؤں کیا سکریٹری صاحب کو۔‘‘

    میں نے عرض کیا ، ’’خدا شاہد ہے حضور، مجھے قطعی اس کی اطلاع نہ تھی کہ بوڑھوں کی کانفرنس میں نوجوانوں شریک نہیں ہوسکتے۔ ورنہ میں کبھی ایسی جرأت سے کام نہ لیتا لہٰذا میں یقین دلاتا ہوں کہ کانفرنس میں شرکت کا خیال تو درکنار اس طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھوں گا۔‘‘

    ان بوڑھوں سے اپنی جان سلامت لے کر نکل آیا لیکن دل میں ایک طرح کی بے چینی تھی کہ کس طرح بوڑھوں کی کانفرنس کی کاروائی اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔ کیونکہ ‘بوڑھوں کی کانفرنس’اپنی نوعیت کی ایک عجیب کانفرنس تھی۔ اس پر طرہ یہ کہ نوجوانوں کی شرکت پر پابندی۔

    سوچتے سوچتے ایک ترکیب ذہن میں آئی۔ بازار جاکر مصنوعی مونچھ اور داڑھی میں نے خریدی اور اسے لگائے ہوئے شیروانی تبدیل کرنے کے لئے گھر آیا۔ صحن میں قدم رکھا ہی تھا کہ بہنیں چیخ مار کر بھاگنے لگیں اورلطف یہ کہ میں ان کے پیچھے دوڑ رہا ہوں اس خیال کے تحت کے انہیں بیٹھے بیٹھائے یہ کیا ہوگیا۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ ان کی چیخ پکار اور بھاگ دوڑ میں اور اضافہ ہوگیا۔ تب کہیں مجھے اپنی مصنوعی داڑھی اور مونچھ کا خیال آیا اور میں نے چھٹ انہیں الگ کیا۔

    اس واقعہ سے کم از کم اتنی تسلی ضرور ہوئی کہ میں اپنی صورت تبدیل کرنے میں کامیاب رہا۔ میں نے ایک عصا لیا اور تسبیحِ ہزار دانہ ہاتھوں میں لٹکائے رکشہ پر سوار انجمن اسلامیہ ہال کے پھاٹک پر پہنچا اور عصا کے سہارے بہ مشکل رکشہ سے اتر کر اس انداز سے آہستہ آہستہ چلنے لگا جیسےمیں کسی خانقاہ کا سجادہ نشین ہوں۔ لیجئے! وہی جلاد قسم کےبوڑھے، جنہوں نے میری شیروانی کی گت بنائی تھی، مجھے دیکھتے ہی بڑے تپاک سے میرا خیر مقدم کرتے ہوئے بولے، ’’جزاک اللہ! تشریف لائیے شاہ صاحب۔‘‘ مجھے ہنسی تو ضرور آئی لیکن تسبیح کے دانوں پر جلدی جلدی ہاتھ پھیرتا ہوا ہال کے اندر داخل ہوگیا۔

    پنڈال میں پہنچ کر میں نے نگاہ دوڑائی تو اللہ کی پناہ! بوڑھوں کا ایک سیلاب ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ ایک سے ایک سن رسیدہ، ریش دراز، ریشِ مخضب اور ریشِ حنائی وغیرہ وغیرہ۔

    مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ بعد کانفرنس کی افتتاح کے لئے ایک بوڑھے میاں بہ مشکل اٹھ کر کھڑے ہوئے تھے کہ لڑکھڑا کر گر پڑے۔ دو آدمیوں نے سہارا دیا تب کہیں انہوں نے کلام مجید کی ایک سورۃ تلاوت فرما کر کانفرنس کی افتتاح کی۔ اس کے بعد ایک جوشیلے بوڑھے نےایک نظم پڑھی۔ مگر ایسی مکروہ آواز سے کہ یہی معلوم ہوتا تھا کہ فشارِ قبر کی تکلیف سے کوئی مردہ چیخ رہا ہے۔ نظم کا ایک شعر مجھے یاد ہے ،

    اٹھ اور ذرا ہمتِ مردانہ دکھادے

    بوڑھے نہیں ڈرتے ہیں کسی سے یہ بتادے

    بعدہ صدر کا انتخاب عمل میں آیا اور حضرت‘بلائے بے درماں’ بہ اتفاق رائے صدر منتخب ہوئے۔ کرسی صدارت پر جلوہ فگن ہوتے ہی انہوں نے کہا، ’’بھائیو! مجھ ذرۂ ناچیز کو جو شرفِ امتیاز بخشا گیا ہے اس کا میں کسی طرح اہل نہیں۔ لیکن مشکل یہ درپیش ہے کہ مجھ میں جرأتِ انکار نہیں اور نہ مجھے یہ گوارا ہے کہ میری ذات سے کسی کی دل شکنی ہو۔ لہذا صدارت کا یہ بارِگراں مجھے اپنے دوشِ ناتواں پر اٹھانا ہی پڑے گا۔۔۔ لیکن گستاخی معاف، میں بہت دیر سے اجابت کی خلش محسوس کر رہا تھا اور پیٹ میں کچھ مروڑ بھی۔۔۔ اگر آپ حضرات میری تھوڑی دیر کی غیر حاضری نظر انداز فرمائیں تو میں بیت الخلاء سے ہو آؤں۔۔۔ جی ہاں، حاجتِ ضروری سے فارغ ہوتے ہی جلسے کی کاروائی زور و شور سے شروع کردوں گا۔۔۔ ہاں، میری ایک گذارش یہ ہے کہ آپ حضرات تھوڑا تھوڑا اور آگے بڑھ آئیں تاکہ پیچھے والے معزز حاضرین اور ڈیلیگیٹس کو بھی بیٹھنے کا موقع مل جائے۔‘‘

    جناب صدر بیت الخلاء سے فارغ ہو کر اور وضو بنا کر آدھ گھنٹے کے بعد تشریف لائے، لیکن مائک کے سامنے کھڑے ہوتے ہی ان کو کھانسی اٹھی۔ جناب صدر کا کھانسنا تھا کہ دوسرے بوڑھوں کو بھی اپنی کھانسی یاد آگئی۔ اب کیا تھا پورے پنڈال کے بوڑھے کھانستے کھانستے بے دم ہو گئے۔ جب قدرے سکون ہوا تو جناب صدر کے بار بار پکارنے پر ایک بڑے میاں ‘حضرت ستارۂ آسمانی’ جو دری کا کونہ الٹ کر تھوک اور بلغم جمع کرنے میں منہمک تھے، رومال سے منہ پوچھتے ہوئے تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور بولے، ’’جناب صدر، میرے بوڑھے ساتھیو اور معزز حاضرین! معاف کیجئے گا، میں ذرا شکی طبیعت کا واقع ہوا ہوں۔ لہٰذا صرف دفعِ شک کے لئے یہ درخواست کروں گا کہ اس کا نفرنس کی اہمیت کے پیشِ نظر آپ صاحبان پورے پنڈال پرایک طائرانہ نگاہ ڈال کراطمینان کرلیں کہ آیا ہماری کانفرنس کی کاروائی سننے یا دیکھنے کے لئے کوئی نوجوان تو ہم میں نہیں آملا ہے۔ کیونکہ یہ نوجوان طبقہ ہم بوڑھوں کو جل دینے میں اس قدر ماہر ہے کہ کم ازکم میں ان سے پناہ مانگتا ہوں۔۔۔ تو حضرات جبکہ یہ یقین ہوگیا کہ اس کانفرنس میں ہماری قوم کے معصوم لوگ ہیں، تواب میں اپنی تقریربلا کسی خوف و خطر کے شروع کرتا ہوں۔‘‘

    امابعد۔۔۔ اس کانفرنس کے بلانے کی اشد ضرورت اس وجہ سے اور بھی ضروری اور لابدی سمجھی گئی کہ اب ہماری قومِ ضعیف کو نوجوانوں کے ہاتھوں یارائے صبر نہیں اور نہ ہم میں مزید برداشت کی صلاحیت ہے۔

    میرے دوستو! نہ جانے ہم بوڑھوں کو کیا ہوگیا تھا کہ اب تک نوجوانوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بن کر ان کی جلی کٹی باتیں سنا کئے اور اپنی زندگی کی ساری خوشیاں ان سے وابستہ کرکے ان کے دستِ نگر بنے رہے۔ لیکن اب، جب کہ ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہو چکے ہیں، ہم میں یکجہتی اور بھائی چارہ پیدا ہوگیا ہے اور ہم دوسروں کی مصیبت کو اپنی مصیبت تصور کرنے لگے ہیں، تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم نوجوانوں سے دب کر رہیں۔ (تالیاں)

    صاحبو! یہ نوجوان سپوت بھول رہے ہیں کہ ہم کیا ہیں۔ ہم کون ہیں۔ اجی ! ہم وہی ہیں کہ کچھ دن پہلے ان ہی کی طرح جوان تھے۔ جی ہاں، جوان بھی ایسے کہ جس کی مثال آج بخدا نہیں مل سکتی (آوازیں۔۔۔دریں چہ شک) لیکن یہ ہماری کمزوری اور دب کر رہنے کا نتیجہ ہے کہ نوجوان ہمیں آنکھ نہیں لگاتے۔ خدا کی قسم، یہ چار دن کے چھوکرے اسکول اور کالج میں پڑھ کر نہ جانے خود کو کیا سمجھتے ہیں کہ ہماری باتوں پر دھیان دینا تو درکنار الٹا ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ اسی پراکتفا کرتےتوہم صبرکرلیتے۔ لیکن یہ نوجوان بار بار ہمیں جولائی طبع دکھلاتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ بڈھا ٹرٹرائے جارہا ہے وغیرہ وغیرہ (آواز۔۔۔ شیم شیم)

    تو کیا آپ نے کبھی غور فرمایا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ ان کے اندر یہ جرأت و ہمت کیوں کر پیدا ہوئی۔۔۔ بات بالکل صاف اور واضح ہے، کیونکہ ہماری کوئی تنظیم نہیں، ہم میں یکجہتی اوراتفاق نہیں۔ ہم کو ہڑتال اور مرن برت کی توفیق نہیں۔۔۔ ہاں! آج بھی اگر ہمارا سنگٹھن ہو جائے اور ہم سب ایک ہی پلیٹ فارم پرآجائیں، توپھردیکھئےہماری عزت و وقعت۔ میں کہتا ہوں کہ ہمیں آنکھیں دکھلانا تو ایک طرف، بغیر ہماری خوشنودی اور اجازت کے ان نوجوانوں کو اپنے سسرال جیسے عزیز گھرانے میں قدم رکھنے کی ہمت نہ پڑے، بلکہ بغیر ہمارا تحیریری حکم حاصل کئے سنیما یا تھیٹھر چلے جائیں یا چھپ چھپ کر سگریٹ پی لیں تو میرا نام ستارۂ آسمانی نہیں۔۔۔ افسوس صد افسوس ہماری موجودہ حالت پر۔(سسکنے کی آوازیں)

    میں ایک مرتبہ پھراپنےانہیں الفاظ کودہراؤں گا کہ یہ نوجوان بھول رہے ہیں کہ ہم کیا ہیں۔۔۔ کوئی ان سر پھروں کو سمجھائے کہ ہم میں بھی وہی خون دوڑ رہا ہے، جو ان کے اندر ہے۔ ہم میں بھی غیرت و حمیت ہے۔ ہم میں بھی ان کی طرح باتوں کا جواب دوبدو دینے کی صلاحیت ہے۔ ہم بھی ان کی طرح دل رکھتے ہیں اور دل کے اندر حسرت و تمنا۔ ہاں۔ ہم میں اوران میں فرق بس اسی قدر ہے کہ وہ نوجون ہیں، ہم بوڑھے ہیں۔ وہ تن کر چلتے ہیں، ہماری کمر جھک گئی ہے، ان کی آنکھوں میں کافی بینائی ہے اور ہماری آنکھوں میں پچھترفیصد موتیابند۔ ان کے منہ میں دانت ہیں اور ہم پوپلے ہیں۔ (پوپلے کے لفظ پر وہ بوڑھے جو مصنوعی دانت لگائے ہوئے تھے، ٹٹول کر دیکھنے لگے)۔۔۔ تو اس کا مطلب تھوڑا ہی ہے کہ ہم گئے گزرے ہیں۔ ہمیں باعزت رہنےاور نوجوانوں کو اپنے قبضہ میں رکھنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔۔۔ ضرورحق حاصل ہے، خصوصاً اب، جبکہ ہم بوڑھے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے ہیں دوسرے الفاظ میں یہ سمجھئے کہ وقت انشاء اللہ آگیا ہے کہ ہم اپنے سالے پامال شدہ حقوق ان سر پھرے نوجوانوں سے ڈنڈے کے زور سے منواکر دم لیں (آواز۔۔۔ نعرہ تکبیر، اللہ اکبر)

    دوسرے صاحب، یعنی ‘کوکب زمینی’ تشریف لاتے ہیں۔ لیکن عجب اتفاق کہ مائک کے سامنے آتے ہی شدید قسم کی سرسری اٹھی۔ بہت دیر تک تلملاتے رہے، آخرش دو گلاس پانی پینے کے بعد ان کی طبیعت سنبھلی، تو تقریر کی طرف متوجہ ہوئے۔

    ’’بھائیو!میں کوئی مقررتوہوں نہیں کہ حضرت ’ستارۂ آسمانی‘ کی طرح فصاحت و بلاغت کے دریا بہادوں۔ میرا عجز اور میرا انکسار میرے نام ہی سے ظاہر ہے۔ یعنی ’کوکب زمینی‘ ہاں اتنا ٖضرور ہے کہ کچھ اظہار خیال کر لیتا ہوں اور اسی پر جتنا بھی فخر کروں کم ہے۔۔۔ تو اس کانفرنس کے انعقاد کی خبرسن کرمجھےاس قدرمسرت ہوئی ہےکہ اگرچہ میں دمہ، کھانسی، موتیابند، بواسیر، نواسیر، دردِگردہ اور ضعف ِمعدہ کا مستقل مریض ہوں پھر بھی میں نے اپنا فرض سمجھا کہ کانفرنس میں شریک ہوکراپنےحقوق منوانےمیں،اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کاہاتھ بٹاؤں۔ممکن ہےکہ یہی خدمت اس گنہگار کی بخشائش کا ذریعہ ثابت ہو۔‘‘ (آواز۔۔۔ انشاءاللہ۔ انشاءاللہ)

    تو اب، آمدم برسرِمطلب کے تحت یہ عرض کروں گا کہ ہماری بلی اور ہم ہی سے میاؤں۔ یعنی یہ نوجوان جو ہماری ہی گود میں پل کر پروان چڑھتے ہیں، وہی ہمیں آنکھیں دکھلائیں۔ وہی ہمارے کہنے میں نہ رہیں۔ وہی ہمارے سامنے اکڑکرہمیں جوانی کےعہدِرفتہ یاددلاکرآٹھ آٹھ آنسورلائیں۔ وہی ہمارے مقابلہ میں اپنی بیوی کی پاسداری کریں۔ وہی ہماری موجودگی میں من مانی کرتے پھریں اور وہی ہمیں گھر کے ایک کو نے میں کوٹھری دے کر کھانسنے اورمرنے کے لئے چھوڑدیں۔۔۔ حیف! پیری و صد عیب۔ ایک جوانی کیا گئی کہ ہم زندہ در گور ہو گئے۔۔۔ معاف کیجئے گا، ایک شعر یاد آگیا۔ بہایت ہی پھڑکتا ہوا ہے۔ آپ لوگ بے حد لطف اندوز ہوں گے۔ جی ہاں، عرض کررہا ہوں ،

    مل جائے اگر شبابِ رفتہ

    ٹھہرا کے میرا سلام کہنا

    تو میرے بھائیو!ان نوجوانوں کی بے راہ روی کا کوئی کہاں تک رونا روئےمختصریہ کہ ہم ان کےہاتھوں اس قدرنالاں ہیں کہ مارےصدمہ کےضعیفی کی حد سےآگےنہیں بڑھ سکتے۔ کاش یہ سرپھرے آج سنبھل جائیں۔ ہماری خدمت خدا اور رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق کریں اور ہمارے قبضہ میں رہ کر ہمارا دل خوش رکھیں تو پھر دیکھے کوئی ہماری ضعیفی کا شباب۔ مگر بھائیو ان کے کرتوت ہی کچھ ایسے ہیں کہ ہمارا دل ایک گھڑی کے لئے بھی خوش نہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ زیادہ تعداد ہم معصوموں کی دمہ اور کھانسی جیسے مہلک اورجان لیوا امراض میں مبتلا ہیں۔۔۔ لیجئے،ان بوڑھوں کوپھراپنی کھانسی یاد آگئی۔ ایک بڑے میاں نےبڑھ کرکھانسی کا مصرعہ طرح دیدیا اور کہنہ مشق بوڑھوں نے گرہ پر گرہ لگانی شروع کی۔ اس گرہ بازی نے اس قدر طوالت اختیار کی پندرہ منٹ کے بعد مقطع سننے میں آیا۔

    اب حضرت ‘دھرتی دھمک’ کی باری آئی۔ وضع قطع ملاحظہ ہو۔ داڑھی دو حصوں میں مساوی تقسیم ہوکردونوں کندھوں پرجلوہ فرماتھی۔ ٹوپی غالب نما پہنے ہوئے تھے اور جسمانی لحاظ سے سمجھ لیجئے سرسید احمد۔ منہ میں ایک بھی دانت نہ رہنے کے باعث دونوں طرف کے کلے میں اتنے عمیق غار تھے کہ دو مینڈک ان میں بہ آسانی سما سکیں۔ مائک کے سامنے آتے ہی انہوں نے اعلان کیا کہ میں زیادہ دیر تک تقریر نہیں کر سکتا۔ بات یہ ہے کہ ہر پانچ منٹ پر استنجے کے حاجت ہوتی ہے۔ اس مجبوری اور وقت کی نزاکت کے مدنظر صرف اسی قدرعرض کروں گا کہ حضرت ‘ستارۂ آسمانی’ اور مولانا ’کوکب زمینی‘ کی عالمانہ تقریرکےبعدکچھ کہنےکی جرأت گویاآفتابِ عالمتاب کوچراغ دکھانا ہے۔ پھربھی مجبوراً صرف اس لئےکھڑاہونا پڑا ہےکہ ہمارے دوستوں میں کسی نےابھی تک جناب صدرمولائی وآقائی حضرت ‘بلائے بے درماں‘ کی توجہ ایک نہایت اہم اور تکلیف دہ شئے کی طرف مبذول کرانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اور وہ نوجوان کی حد سےبڑھی ہوئی شرارت آمیزحرکتِ ناشائستہ یعنی ان نالائقوں کا ہمارے سامنے بلکہ ہمیں دکھلا کرایسی چیزیں کھانی، جسےہم بوڑھےنہ توچباسکتےہیں اورنہ انہیں ہضم کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔ ہائے،ایک وہ بھی دن تھےکہ ہم لوہا چبا ڈالتےتھےاورآج یہ دن ہےکہ فالودہ کھانےکوترستےہیں۔۔۔

    ’’ تومیرے بھائیو! اس روز روزکےصدمہ سےکوئی کب تک دوچارہوتا رہے۔ لہٰذا میں درخواست کروں گا کہ ہماری یہ کانفرنس جہاں اورباتوں پرغور فرمارہی ہے وہاں ان باتوں کو بھی مدنظر رکھ نوجوانوں پرسخت پابندی عائد کردے تاکہ آئندہ وہ ہمارے سامنے صرف ایسی ہی ملائم چیزیں کھایا کریں، جنہیں ہم پو پلے منہ سے چبا کر ہضم کر سکتے ہیں۔۔۔ لیجئے میں نے قبل ہی عرض کردیا تھا نا، اب میں استنجا محسوس کرنے لگا ہوں۔۔۔ زیادہ دیرہوجانے پر نمازیں قضا کرنی پڑتی ہے۔ اچھا سلام علیکم۔‘‘

    اسی طرح کی تقریر کا سلسلہ بہت دیر تک قائم رہا۔ بوڑھے مقرروں نے نوجوانوں کے خلاف دل کھول کر زہر افسشانی کی۔ اس کے بعد جناب صدر نے اٹھ کر اعلان کیا۔۔۔ ’’رات زیادہ آچکی ہے اور دوسری کے باعث ہمارے احباب جلد جلد اٹھ کراستنجا کوجارہے ہیں، اسلئے مناسب سمجھتا ہوں کہ ریزولیشن پیش کر کے جلسہ کی کاروائی ختم کردی جائے۔۔۔ باہر سے آئے ہوئے وہ حضرات مجھے معاف فرمائیں جنہیں وقت کی کمی کے باعث اظہارِ خیال کا موقع نہ مل سکا ہے۔ ساتھ ہی یہ عرض کرنے میں بے پناہ مسرت محسوس کر رہا ہوں کہ ہمارے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ہماری یہ کانفرنس اس قدر کامیاب ہوگی اور ہماری کوششیں بار آور ہوکر ہمیں ایک پلیٹ فارم پر لے آئیں گی۔ (آواز۔۔۔ انقلاب زندہ باد۔ نعرۂ تکبیر اللہ اکبر)

    توصاحبو!میری تجویزہےکہ اگر کوئی صاحب نہایت ہی اہم اور ضروری بات کہنا یا مفید مشورہ دینا چاہتے ہوں تو تشریف لا کر اپنے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمائیں۔

    میری شامتِ اعمال یا شرارت جو بھی کہئے کہ اس اعلان سے فائدہ اٹھا کر مائک کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ میری ڈیڑھ گزی داڑھی دیکھ کر لوگ اس قدر مرعوب ہوئے کہ ہر طرف خاموشی چھا گئی میں نے آواز میں تبدیلی پیدا کرکے کہنا شروع کیا،

    ’’میرے ضعیف وناتواں اورنوجوانوں کے ہاتھوں زندہ درگور بھائیو! اللہ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اب ہمارے اندر بھی اتنی بیداری پیدا ہوگئی ہے کہ ہم اپنے حقوق کی خاطر سینہ سپر ہوسکیں۔ میں اس طویل بحث میں نہ پڑ کر صرف یہ کہنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں کہ جب ہم اپنے حقوق منوانے کے لئے ریزرولیشن پاس کرنے جارہے ہیں، تو ایک ایسا ریزرویشن بھی پاس کیا جائے جس کے تحت کوئی بوڑھا کسی نوجوان لڑکی کو اپنے عقدِ نکاح میں لانے کی جرأت نہ کرسکے۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ اکثر ہمارے بوڑھے دوست اس چکر میں پڑ کر بے جوڑ شادی رچا کر ہی دم لیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی کی تمناؤں اور آرزوؤں کا خون کرکے راہی ملک ِعدم ہوتے ہیں۔ مگر کب؟ دوسرے بے قصور بوڑھوں پر کلنک کا ٹیکہ لگا کر۔۔۔ تو کیا نوجوانوں کے جذبات سے یہ کھیلنا نہیں۔کیا ان حرکاتِ ناشائستہ سے جذبۂ نفرت پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ چپ کیوں ہیں، بولئے۔ جواب دیجئے۔

    میں اسی قدر کہنے پایا تھا کہ بوڑھے میاں جو قریب ہی ڈائس پر بیٹھے تھے ہڑ بڑا کر اٹھے اور میری داڑھی پر یہ کہتے ہوئے ہاتھ مارا، ’’یہ کیا حرکت ہے شاہ صاحب! مزاج درست کردوں گا ابھی۔‘‘ الٰہی توبہ! بوڑھے میاں نے ایسا جھپٹا مارا کہ میری مصنوعی داڑھی ان کے ہاتھ میں آگئی۔ ایک بزرگ جو مجھے جانتے تھے چلا اٹھے، ’’ارے! یہ تو ہاشم عظیم آبادی ہیں۔‘‘

    یہ راز فاش ہونا تھا کہ ہرطرف سے شور اٹھا، ’’مارو مارو، پکڑو پکڑو۔‘‘

    یہ رنگ دیکھ کر میں نے اسی میں اپنی خیریت دیکھی کہ جوتا چھوڑ کر نکل بھاگوں، اور یہی میں نے کیا بھی۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY