حیرت
دو دن سے ایک ہی منظر کو میں بار بار دیکھ رہا ہوں، زندگی کے ایام ایسے تاروں کی مانند لگ رہے ہیں جوایک کھمبے سے دوسرے کھمبے تک پھیلے ہوئے تو ہیں مگر ان میں کرنٹ نہیں ہے۔ ان تاروں پر ایک کوا بڑی دیر سے چپ چاپ بیٹھا ہوا ہے۔ وہ کوا ہل ڈل نہیں رہا ہے اور نہ ہی کائیں کائیں کی صدا بلند کر رہا ہے۔ کہیں دور دراز سے کسی پرسوز ساز کے بجنے کی صدا آ رہی ہے وہ ساز جو اکثر کسی رنج وغم میں سانسوں کے سہارے سے چلتا ہے مگر آس پاس تو کوئی بستی، گھر، آدمی کا تصور ہی نہیں ہے پھر یہ صدا کیسی ہے جو دل میں گداز پیدا کر رہی ہے۔ میں نے زور سے آواز دے کر کہا کون ہے؟ ادھر سے آواز آنا بند ہو گئی۔ ایک دم ہی ایک ٹرک مال سے لدا ہوا ہارن بجاتا ہوا گزرا جس پر گنے رکھے ہوئے تھے ان گنوں کے نیچے انسان لیٹے ہوئے تھے بڑے پُرسکون حالت میں۔
یہ کون سی جگہ ہے یہ کیسی راہ ہے جو تاریکیوں کا غلاف اوڑھے ہوئے ہے۔ میں اپنے آپ کو اس راستے پر تن تنہا تصور کرتا ہوا زمین پر پیر پٹکتے ہوئے مسلسل چلتا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔
راستے پر چاندنی بکھری ہوئی تھی، ایک گھر نظر آیا جس پر مکڑی نے جالے بنا رکھے تھے۔ گھر کے سامنے ایک بجلی کا کھمبا لگا ہوا تھا اور اس کے ارد گرد کچھ درخت قطار در قطار کھڑے تھے درختوں سے خاموشی کی بو آ رہی تھی اور کھمبوں پر ایک میلی سی چادر جو کئی جگہ سے پھٹی ہوئی تھی، پڑی ہوئی تھی۔ چادر کے ان سوراخوں سے کسی دوشیزہ کا چہرہ جھلک رہا تھا جو کسی روشنی کی مانند قریب آ رہی تھی۔ میں نے گھر کے اندر دیکھنے کی کوشش کی تو حیران ہو گیا گھر کے ایک کمرہ میں لڑکی بیٹھی ہوئی رو رہی تھی جس کی آنکھ میں آنسو نہیں تھے مگر گالوں پر سیلن نظر آ رہی تھی جس پرخوف کی لکیریں بنی ہوئی تھیں۔ گھر میں دروازہ نہیں تھا مگر دیوار پر بیل لگی ہوئی تھی، اس بیل کے سوئچ کو پش کرنے سے خون ٹپکنے لگتا تھا۔ دوسرے کمرے میں گھپ اندھیرا تھا مگر کسی کے ہونے کا احساس بار بار مجھے اس کمرے کی جانب دیکھنے پر مجبور کر رہا تھا۔ وہ عکس کمرے میں کبھی رینگتا تو کبھی اسی کمرے میں کھڑے ہو کر چلنے لگتا تھا۔ اس کا چہرہ تو نہیں تھا مگر لبوں پر سگار تھی جس سے کچھ دھواں سا نکل رہا تھا ایک آدمی بیڈ پر بیہوش ساکت پڑا ہوا تھا جو کوئی حرکت نہیں کر رہا تھا۔ بیڈ کے قریب میں ایک الماری رکھی ہوئی تھی جس میں کوئلہ بھرا ہوا تھا جس کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میز پر ایک قلم رکھا ہوا تھا جس کا ڈھکن زمین پر پڑا ہوا تھا۔ کمرے میں ایک بلب جو تار سے لٹکا ہوا تھا وہ خراب تھا۔ الماری کے نزدیک ایک فریج تھا جس کے دوازے کھلے ہوئے تھے جس میں کئی دنوں کا پکا ہوا کھانا رکھا تھا جسے چوہے بڑے آرام سے مزے لے کر کھا رہے تھے۔ وہ عکس ان سب منظروں سے بے خبر ہو کر چپ چاپ گشت کر رہا تھا۔
میں گھر کے اندر تو کھڑی کے سہارے تو ہو گیا تھا مگر میں اس کمرے سے باہر جانا چاہتا تھا جس کمرے میں کبھی گیا ہی نہیں تھا میں اس منظر کو بھولنا چاہتا تھا جس منظر کو میں نے تصور ہی نہیں کیا تھا۔
دن رات کی گود میں آرام سے سو رہا تھا۔ ٹیبل پر فون رکھا ہوا تھا جس کے ریسیور کو کوئی جلد بازی میں رکھنا بھول گیا تھا اس ریسیور سے مسلسل رونے کی آواز آ رہی تھی میں نے زور سے ریسیور فون پر پٹکا مگر آہ و گریہ کی صدا بند نہیں ہوئی۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.