راہ فرار

عمار نعیمی

راہ فرار

عمار نعیمی

MORE BYعمار نعیمی

    ’’سارا نظام ٹھیک چل رہا ہے۔ اب مجھے تھوڑی دیر کے لیے سو جانا چاہیے‘‘

    جوں ہی وہ سویا ؛ سورج چاند ستارے سمندر وغیرہ سب نے دیکھا کہ ان کا خالق سوگیا ہے لہذا انھوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ سارا نظام درھم برھم ہوگیا۔ دنیا فنا ہوگئی۔ صرف ایک انسان بچا جو زمین کی کشش ثقل ختم ہونے سے زمین سے باہر خلا میں اڑنے لگا۔

    اڑتا اڑتا وہ ایک نئی دنیا میں چلا گیا۔ وہاں عجیب ہی منظر تھا۔ زمین اس کے سر پہ جبکہ آسمان اس کے قدموں تلے تھا۔ اس نے خود کو جھنجوڑا کہ شاید وہ الٹا لٹکا ہے لیکن نہیں یہ حقیقت تھی۔ وہ ایک بادل پر سوار ہوکر وہاں گھومنے لگا۔ گھومتا ہوا ایک جگہ پر رکا جہاں ایک انسان نما مخلوق اپنے ہی ساتھ جنسی تولید کا عمل کر رہی تھی اور چند ہی لمحوں میں اسی کے منھ سے اسی کے جیسی ایک مخلوق نے جنم لیا۔ وہ یہ دیکھ کر اتنا ڈر گیا کہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ اس کے پسینے کا ایک قطرہ جب آسمان پر گرا تو اس میں چھید ہوگیا۔ اسے فرار کا ایک راستہ نظر آیا۔ اس نے کافی پسینہ گرایا اور وہاں سے نکل گیا۔

    وہاں سے نکل کر اسے بہت بھوک لگی جس پر وہ تمام سیاروں کو نگل گیا اور خلا میں تیرتا ہوا ایک ایسی جگہ پہنچا جہاں آسمان دس رنگی اور زمین پل پل رنگ بدل رہی تھی۔ پریاں برہنہ رقص کر رہی تھیں۔ ایک نہر جس کا رنگ دودھیا تھا ان میں ایسی مچھلیاں انسانوں کی طرح رقص کر رہی تھیں جن کا منھ ہی نہیں تھا۔ کچھ ہونٹ فضا میں اڑ رہے تھے اور سُر بکھیر رہے تھے۔ اس نے دیکھا کہ وہاں کوئی سو رہا تھا۔ اس نے خود کو محسوس کیا وہ کافی تھک چکا ہے لہذا وہ اس کے اوپر جا کر لیٹ گیا۔

    جونہی وہ اس پر لیٹا ، شش جہت آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنی پھیل گئی۔

    سید تحسین گیلانی اور مصنف کے شکریہ کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY