رائیگاں

اصغر شمیم

رائیگاں

اصغر شمیم

MORE BYاصغر شمیم

    اس کی حیثیت بھی بارش کے ایک قطرے کی طرح تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ جس طرح بارش کے قطرے متحد ہو کر دھرتی کو سیراب کرتے ہیں اس قوم کے لوگ بھی اسی طرح مل جل کر مخالف طاقتوں کا سامنا کریں ۔ اس نے بہت کوشش کی مگر سب بے سود ۔۔۔ کیونکہ وہ سب انفرادی طور پر دشمنوں کا سامنا کرنا چاہتے تھے۔

    اس نے بھی بارش کے پہلے قطرے کی طرح ہمت کی اور تن تنہا ہی نکل پڑا ۔

    وہ خود سے مطمئن تھا اور بعد از موت بھی وہ یہ ہی اطمینان ساتھ لے جانا چاہتا تھا کہ رخت سفر کچھ تو ہو بھلے امید کی پھانس ہی ہو ۔

    اس یقین کے ساتھ کہ سب اس کے پیچھے پیچھے ضرور آئیں گے مگر ایسا نہیں ہوا اور ہمیشہ کی طرح آج وہ بھی تنہا ہی قربان ہو گیا۔۔۔

    سید تحسین گیلانی اور مصنف کے شکریہ کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY