سستا

MORE BYمبشر علی زیدی

    میں فلموں میں اکثر پیاسا رہ جاتا تھا۔

    ایک رات شو ختم ہونے کے بعد سنیما سے نکل پڑا۔

    ڈھونڈتا ڈھانڈتا ایک فاسٹ فوڈ چین کے ریسٹورنٹ پہنچا۔

    ’’کیا مجھے انسانی خون کی دو بوتلیں مل سکتی ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’جی ہاں مسٹر ڈریکولا! کون سا برانڈ چاہیے؟‘‘

    کاؤنٹر پر موجود شخص نے سوال کیا۔

    ’’مجھے کسی برانڈ کا علم نہیں۔‘‘ میں نے شرمندگی سے کہا،

    ’’میرے پاس پیسے بھی کم ہیں۔ کوئی بھی سستا سا خون دے دو۔‘‘

    ’’یہ لو، فلسطینی بچوں کا خون لے جاؤ۔‘‘ اس نے کہا،

    ’’آج کل اِن سے سستا کسی کا خون نہیں۔‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY