تاریکی

عمار نعیمی

تاریکی

عمار نعیمی

MORE BYعمار نعیمی

    اجلاس منعقد ہوا جس میں نظام شمسی کے سیاروں، زھرہ، کرہ ارض، مریخ، مشتری، یورینس اور نیپچون کے چاند شریک ہوئے۔ وقتی طور پر سیاروں کی گردش تھم گئی اور وہ سب سیارے ایک قطار میں کھڑے ہوگئے۔ سیارہ ’’پلوٹو‘‘ کو ایک عرصہ پہلے تمام سیاروں نے بڑے سیارے کی نافرمانی کی وجہ سے اپنے نظام سے خارج کردیا تھا۔ اب ’’پلوٹو‘‘ نظام شمسی کا حصہ نہیں تھا اس لیے ’’چاند‘‘ رکھنے کے باوجود اسے اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

    اب تقریر کرنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ سب سے بڑے سیارے کے چاند نے تقریر شروع کی۔

    ’’دیکھو ہمیں ، ہم کیسے چمک رہے ہیں۔ ہمارے ہی دم سے دہر میں اجالا ہے۔ ہماری چاندنی دیکھو۔ کون رکھتا ہے ہم جیسی چمک یہاں ؟ بےشک کوئی بھی نہیں۔ کھڑے اور کھوٹے کی پہچان کرنا سیکھیں‘‘۔

    کہکشاں میں شش جہت اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ پوری کہکشاں میں اسی کی آواز گونج رہی تھی۔ کہکشاں میں موجود اندھیرے پر بڑے سیارے کے چاند کی تقریر کا برابر اثر ہورہا تھا اور وہ چاند کی چاندنی سے جگمگا بھی رہا تھا۔ اسی اثناء میں بہت دور کہکشاں سے ایک سیارے ’’عطارد‘‘ کی آواز آئی جس کا کوئی چاند نہیں تھا اور اس پر چاند کی روشنی بھی نہیں پہنچ رہی تھی۔ جو حجم میں ’’کرہ ارض‘‘ کے چاند سے بھی چھوٹا تھا۔

    ’’یہ سب جھوٹ ہے۔ تم بکواس کرتے ہو ، تمھارے قول میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ تم بھی کسی اور کے توسل سے روشن ہو۔ تم خود کچھ بھی نہیں ہو جب تک سورج نہ ہو۔ ہمیں تمہاری نہیں سورج کی ضرورت ہے‘‘

    اس پر چاند نے قدر ےغصے سے کہا :

    ’’ تمھاری جرات کیسے ہوئی میری شان میں گستاخی کرنے کی اے ذلیل سیارے۔ تم شاید بھول گئے ہو کہ تم ایک سیارہ ہو اور میں ایک چاند ہوں۔ بکواس کرنے سے پہلے کم از کم اپنا حجم تو دیکھ لیتے۔ اب تمھیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    مزید بولا :

    ’’کیا سب اندھے ہوگئے ہو ؟ یہ گستاخ ہے۔ دبوچ لو اس کو‘‘

    اس پر تمام اندھیرا اس کی جانب بڑھا اور پھر تاریکی چھا گئی۔۔۔

    سید تحسین گیلانی اور مصنف کے شکریہ کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY