تجلی طور / برقِ طور

    کوہ طورپرحضرت موسی دو مرتبہ گئے تھے۔ پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب موسی وادی مقدس میں آگ کی تلاش میں تھے اوروادی میں چمکنے والا شعلہ دراصل خدا کے وجود کا نشان تھا۔ اس وقت موسی کو خدا سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا اورانہیں خدا کی طرف سے معجزات عطا کیے گیے۔ اس واقعے کا تلمیحی استعمال ان مرکبات سے ہوا ہے۔ وادیِ ایمن ، شجرایمن ، آگ ، وادیِ مقدس ، شعلۂ سینا وغیرہ ۔ دوسرا واقعہ اس وقت پیش آیا جب موسی نے اپنی قوم کو فرعون کے قہر سے نجات دلا کر وادیِ سینا میں قیام کیا۔ اس وقت موسی کو بنواسرائیل کی ہدایت ورہنمائی کے لئے شریعت عطا کرنے کے لیے کوہ طورپربلایا گیا۔ شروع میں انہیں تیس راتوں کے لیے بلایا گیا تھا بعد میں دس راتوں کا اوراضافہ کردیا گیا ۔ جب موسی کے چالیس دن پورے ہوئے توانہیں شریعت عطا کی گئی اور اللہ تعالی سے براہ راست باتیں کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ موسی کواللہ تعالی کے دیدارکا شوق ہوا،انہوں نے درخواست کی’’ رب ارنی انظر الیک‘‘اے میرے رب اپنا دیدار مجھ کو کروا دیجئے تاکہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں ۔ موسی کے جواب میں اللہ تعالی نے کہا ’’لن ترانی‘‘ تم مجھ کو ہر گز نہیں دیکھ سکتے۔ جب موسی نے اللہ تعالی کے دیدار کی ضد کی توارشاد ہوا’’ہم اپنی تجلی کا ظہور اس پہاڑ پر کریں گے اگر یہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے‘‘چناچہ اللہ تعالی نے کوہِ طورپراپنی تجلی کا ظہورکیا وہ پہاڑ تجلی کوبرداشت نہ کرسکا اورپارہ پارہ ہوگیا۔ موسی بھی بے ہوش ہوکر گر پڑے اور اپنی عاجزی کا اعتراف کیا۔ اس واقعہ کا تلمیحی استعمال شعروادب میں اس کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے کثرت سے ہوا ہے۔ کچھ تلمیحی مرکبات یہ ہیں ۔برق طور، ارنی ، لن ترانی۔ ان واقعات کے تلمیحی اشارات کو ان شعروں میں برتا گیا ہے۔

    کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب

    آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی

    غالب

    گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلی نہ طور پر

    دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر

    غالب

    ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

    موسی نہیں جو سیر کروں کوہِ طور کا

    سودا

    یار کے دیدار کا طالب ہے موسی ہر زماں

    اے ولی! دربار اس کا اس کوں کوہ طور ہے

    ولی دکنی

    طور تو ہے رب ارنی کہنے والا چاہیے

    لن ترانی ہے مگر نا آشنائے گوش ہے

    فانی بدایونی

    دیکھ سکتا جو تجلی رخ جاناں کو

    لن ترانی کا سزا وار نہ موسی ہوتا

    ذوق

    دل ہی نگاہِ ناز کا ایک ادا شناس تھا

    جلوۂ برقِ طور نے طور کو کیوں جلا دیا

    فانی بدایونی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY