۱۹۵۰ء کے بعد دبستا نِ میرٹھ
رام پور، کب آباد عظیم آباد امروہ کی طرح میرٹھ بھی شروع ہی سے گہوار ئہ شعر وادب رہا ہے، یہاں کی ادبی سرگرمیوں کا بہ نظر عمیق مطالعہ کرنے پر یہ بات واضح طور پر نمایاں ہوتی ہے کہ میرٹھ ایک ـ’ ’ دبستان‘‘ سے کم نہیں، بھلے ہی ہمارے ناقدین کرام کی بے اعتنائی و بے توجہی کے باعث اسے تسلیم نہ کیا گیا ہو، یہاں صف اول کے شعرا ء ہر دم اور ہر دور میں موجودر ہے ہیں، غالبؔ کو غالب بنانے والی تین عدیم المثال ہستیوں میں دو کا تعلق اسی شہر نگاراں سے رہا ہے، صہبائی اور شیفتہ جن کا خمیر اسی خطہّ ارض سے وابستہ ہے، ان کا ذہنی ارتقا اسی ارضِ یا ہنر کا ساختہ پر داختہ رہا ہے، غالب ۱۸۵۹ء اور پھر کئی مرتبہ اس سرز مین کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے سرفراز کر چکے ہیں اور ان کے شاگردوں کی ایک اچھی تعدادای سرز مین سے وابستہ رہی ہے، جنھوں نے شعر وخن کے میدان میں قلم کے جو ہر دکھا کر نہ صرف یہ کہ شاعری کے گیسوؤں کوسنوارا بلکہ اپنی عظمت کا اعتراف کراتے ہوئے اپنے فکر وفن سے اردو شعر وادب کو مالا مال کیا، میرٹھ میں ملک کے تین نامور تذ کرہ نگاروں غلام محی الدین عشق و مبتلا ’’طبقات سخن‘‘ ، نواب مصطفے خاں شیفتہ ’’ گلشن بخار‘‘ اور حکیم فصیح الدین رنج نے ’’ بہارستان ناز‘‘ تذکرے لکھ کر شعراء کو حیات جاودانی بخشی، غالب کے خطوطہ کا پہلا مجموعہ ’’ عود ہندی‘‘انکی وفات سے چار ماہ قبل مجتبائی پریس میرٹھ سے ۲۷ اکتوبر ۱۸۶۸ء کو شائع ہوا، جس نے اردو کو ایک نئی اور سلیس روش دے کر سنگ میل کی حیثیت حاصل کی،صہبائی سے استفادہ کرنے والے مرزارحیم بیگ میرٹھ جیسی شخصیت نے غالب کی علمی وادبی مخالفت میں ’’قاطع بر بان‘ ‘کے جواب میں ’’ساطع برہان‘‘ تصنیف کر کے اپنے علمی جو ہروں کو آشکارا کیا، اس کے ردعمل میں لکھے گئے جواب کو’’نامہ غالب‘‘ کا نام دیا گیا، کلام غالب کے اولین شارح شوکت میرٹھی نے غالب کے بعض اشعار کے سات سات معانی بیان کر کے اپنی علمی وادبی فوقیت کا پرچم لہرایا، انہوں نے اپنی علمی فتوحات کے علاوہ ایک ایسے ذی علم، با صلاحیت، پر وقار صاحب فرزند کو اپنے فیضان نظر سے سیراب کیا جو ندرت میرٹھی کے نام سے افق ادب پر چھا گیا، اسی وطن کے شوکت سبزواری نے اپنی غیر معمولی نگارشات سے اردو کائنات کے نظام شمشی کو اپنی کششِ تحریر سے سمت سفر بدلنے پر مجبور کر دیا، اسی شہر کے رام بابوسکسینہ کی’’ تاریخ ادب اردو‘‘ تنہا کی’’ سیر المصنفین‘‘ ڈاکٹر شاہین کی ’’اردو اسالیب نثر‘‘ اردوادب کی حسین شاہکارثا بت ہو ئیں، میرٹھ ہی میں شاہ نصیر کو یہاں کے شعراء کے بالمقابل اپنے کو اظہار فخر کرنے کے بیان پر نظر ثانی کرنے پرمجبور ہونا پڑا، ۱۸۹۶ء میں سر سید تعلیمی کانفرنس کے سلسلہ میں میرٹھ میں جلوہ گر ہوئے اور میرٹھ کے خود دار شاعر بیاں و یزدانی کی خودداری کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہو ئے انھیں مدعو نہ کئے جانے پر اظہار ندامت کی، حالی، اسماعیل میرٹھی سے بسلسلہ ملاقات میرٹھ تشریف لائے، انجمن پنجاب اور حالی کی جدید شاعری پر سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں میرٹھ کے اسماعیل، بیاں تقلق، رنج، افسر کے نام نامی اُردو ادب کا ایک حصہ بن چکے ہیں، بیاں ایسے باکمال شاعر وادیب صحافی وانشاء پرداز ہیں جو ہرفن میں یکتا ہیں، مراثی، غزل، ربا کی نظم، مثنوی نگاری بھی میں انکی قادر الکلامی عیاں ہے، انہوں نے حالی کے مسدس کا جواب بھی لکھا اور غالب کے مجموعہ عود بندی کی طرح تیغ ہندی‘ کے نام سے مکاتیب کا مجموعہ شائع کیا، بچوں کے ادب کے سب سے بڑے شاعر اسماعیل میرٹھی کو اسی خطے کی مصفی آب و ہوا نے بلندی فکر اور نئی بصیرت عطا کی، غالب کے شاگر دمولا نا عبدالسمیع بیدل اسی خطہ میں جلوہ گر رہ گرادبی وروحانی فیضان سے سیراب کرتے رہے، اُردو کے ارتقائی دور میں شاعر وتذ کرہ نگار عشق ومبتلا نے اُردو شاعری کو ادبی حیثیت سے روشناس کرایا، غالب اور حالی نے جس سخنور کی ناقدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا وہ شیفتہ نامی فکر وفن کا امام اسی میرٹھ سے منسوب کیا جا تا ہے، جن سے ملنے غالب میرٹھ آئے اور جسکا ذکر غالب نے تفتہ اور میر مہدی مجروح کے نام اپنے مکتوب میں کیا ہے، آج بھی میرٹھ میں انکے آثار قدیمہ انکی عظمت و شخصیت کے گواہ ہیں،مومن کے شاگر وقلق جنکے سر سب سے پہلے انگریزی نظموں کے تراجم کا سہرا ہے اس خمیر کے پروردہ ہیں،اردوشاعرات کے اولین تذکر و نگار حکیم نصیح الدین رنج اسی شہر نگاراں سے وابستہ ہیں، اسی شہر میں سید احمد حسن فرقانی وشا کی جیسا قادرالکلام شاعر گزرا جس کے لئے مرزا دبیر نے کہا '' فرقانی کا کلام مثل فرقان کے لا جواب ہے‘، غالب نے ان کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کر تے ہوئے فرمایا'' غالب زندہ سید احمد حسین میں اسداللہ خاں غالب مردہ اور فرمایا کہ سب کو ان سے استفادہ کرنا چاہئے، میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں انھوں نے میر مہدی مجروح، داغ اور ممنون کے ساتھ بیشترمشاعرے پڑھے ہیں۔
مولوی عبدالحق اور مولوی چراغ علی جیسی اُردو کی قدر در شخصیتیں اسی شہر میرٹھ کی مرہون منت ہیں۔
شہنشاہ غزل میر تقی میر، مرزا مظہر جان جاناں اور شاہ نصیر کا میرٹھ آنا ثا بت ہے، غلام محی الدین عشق و مبتلا کو میز بانی کا شرف حاصل ہوا، میرٹھ میں ذوق کے شاگردوں میں منشی احسان اللہ مخیر، عبد الصمد فوق اور غالب کے شاگردوں میں حکیم فصیح الدین رنج‘ محمد صادق سوزان و مداح محمد جان فوق، غلام بسم اللہ‘ مولا نا عبدالسمیع بیدل،مولانا اسماعیل میرٹھی،فیض الحسن فیضی، نواب مصطفے خاں شیفتہ حکیم محب علی نیر کے نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں، علاوہ از میں مومن کے شاگر وقلق، صہبائی کے شاگر در حیم بیگ، میر یار خاں شاد، فوق وغیرہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین کے مطابق ’’اُردوادب میں اب تک کی تحقیق کے مطابق شمالی ہندوستان میں حضرت امیرخسرو پہلے شاعر ہیں جنکے کلام میں برج بھاشا اور کھڑی بولی کے ملے جلے اور الگ الگ دونوں نمونے ملتے ہیں،خسرو کے بعد جس شاعر کا نام آتا ہے وہ میرٹھ کے رہنے والے محمد افضل جھنجھانوی ہیں،افضل کے بارہ ماسا میں ہمیں وہی زبان ملتی ہے جو اس وقت میرٹھ اور آس پاس بولی جاتی تھی‘۔
ڈاکٹر شاہین کے اس انکشاف سے کہ اُردو کی ابتدا میں میرٹھ کے شعرا کا اہم رول رہا ہے بڑی اہمیت کا حامل ہے، محمد افضل کے بعد میر جعفر زٹلی کا نام آتا ہے،جنھیں لالہ شری رام نے کرنال ضلع میرٹھ کا لکھا ہے،انکی تاریخ پیدائش ۱۶۵۹ء ہے، یہ ولی دکنی کے ہم عصر کیے جاتے ہیں۔
پروفیسرمحمود شیرانی کے مطابق ’’زبان اُردو کا ایک بڑا ذخیرہ ان کے کلیات میں موجود ہے انکے بعد منور خاںدلمیر میرٹھی نے ’’گنواری زبان‘‘ میں شعر کہکر بہادر شاہ کے حضور میں پیش کی‘ ڈاکٹر شاہین نے کلیات دلمیر بڑی عرق ریزی سے شائع کی ہے۔
کسی ادب کی نشو ونما میں ادبی نشستوں مشاعروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ان نشستوں کے ذریعے شعرا کوشعر کہنے اور سنے والے دونوں حضرات کے نہ صرف تسکین کا سامان مہیا ہوتا ہے بلکہ انکے ذوق کی تربیت بھی ہوتی ہے، دراصل مشاعرے ایک نوع کی تہذیبی در سگا ہیں میں جہاں سے سامعین کچھ اکتساب فیض کر کے اٹھتے ہیں،موجودہ دور کے مقابلہ میں ماضی میں تفریحی پہلو سے زیادہ مشاعروں کی ادبی حیثیت نمایاں تھی،مشاعرے طرحی ہوتے تھے اور ان کا انعقا د شاعر کے فکریشن کا امتحان ہوتا تھا۔
میرٹھ چونکہ دہلی سے زیادہ دور نہیں صرف ۶۵کیلومیٹر دوری پر قائم ہے، اس لئے راجدھانی میں ہونے والی او بی سرگرمیوں کا اثر میرٹھ پر پڑنا لازمی تھا، دہلی میں شاہ نصیر، میر تقی میر، ذوق، مرزا مظہر جان جاناں، مرزا علی لطف، غالب، مومن کا دور دورہ تھا،مگر اردو شاعری کے ارتقائی دور میں دہلی میں شاہ نصیر کا طوطی بول رہا تھا اور وہاں شعر وادب کے سوتے پھوٹ رہے تھے، بقول مولنا عبد الئی انھیں استاذ الاساتذہ کا درجہ حاصل تھا، شاہ نصیر کے دوست میرٹھ میں غلام محی الدین عشق و مبتلا تھے جنھیں شاہ نصیر کی صحبت با فیض سے کچھ نہ کچھ ضرور ملا ہوگا، ادبی نشستوں میں دہلی کو مرکزیت حاصل تھی، یہاں کی گونج دور دور تک سنائی دیتی تھی اور دور دراز سے اہل ذوق آ کر اپنی تشنگی بجھاتے تھے، دہلی کی قربت سے میرٹھ میں مشاعروں کا رواج ہوا اور اس طرح اُردو ایک با قاعدہ ادبی حیثیت کی طرف پروان چڑھنے گئی، ڈاکٹر حنیف نقوی کے مطابق ’’ فکر شعر سے دلچسپی کا یہ ماحول اور مشاعروں کی گرم بازاری صرف پایہ تخت تک محدود نہ تھی، اسکے اثرات مضافات میں دور دور تک پہنچ گئے تھے،شیفتہ کے فیضان سخن اور یمن صحبت کا سلسلہ میرٹھ اور دوسرے قریبی قصبات تک وسیع تھا‘‘۔
اس طرح اردو شعر و شاعری نے میرٹھ میں اپنے قدم جما کر ادبی حیثیت اختیار کر لی اور ادبی سرگرمیوں کا مرکز میرٹھ میں غلام محی الدین عشق و مبتلا کا مکان بن گیا، یہاں مستقل طور پر طرحی نشستیں منعقد ہوتی تھیں، اس زمانہ میں دارالخلافہ دہلی میں شاہ نصیر کا رنگ عام ہو چکا تھا اور و استادانہ شہرت کے بام عروج پر پہنچ کر اپنے دائمی نقوش بنانے میں سرگرم عمل ا شعراے اردو کے تذکرے میں ۷۸۱۔تھے، چونکہ ان کا حلقہ لاند و وسیع تھا اس لئے ان کی ہر غزل کے حریفوں کی آزمائش و قار کا مسئلہ بن جاتی تھی۔
نواب مصطفی خاں شیفتہ کہتے ہیں ’’شاہ نصیراپنے یہاں مہینے کی پندر ہو میں اور انتیسو میں تاریخ کوطرحی مشاعرے ترتیب دیتے اور اسکے لئے خصوصیت سے سنگلاخ زمین اختراع کرتے تھے‘‘۔
آب حیات میں مذکور ہے کہ ایک مشاعرے میں شعرائے لکھنو کی فرمائش پر کہی ہوئی دورہ لیں ’’قفس کی تیلیاں اور دہن پتھرکے کفن پتھر کے سنائیں‘ جنکی بے پناہ مقبولیت کے حریفوں کے لئے باعث رشک ثابت ہوئیں اور اس کے لئے عرصے تک جوابی غزلوں کا سلسلہ جاری رہا۔
شاہ نصیر کا میرٹھ آنا جانا تھا جہاں وہ غلام محی الدین عشق و مبتلا کے یہاں قیام پذیر ہوتے، یہاں وہ میر صدر جہاں کی درگاہ کا زرسالا نہ وصول کرنے کے لئے آیا کرتے تھے، تذکرہ بے جگر کی روایت ہے کہ انہوں نے اپنی جانب سے ان (لینی عشق و مبتلا) کے یہاں دو مشاعرے منعقد کئے تھے جن میں اچھے خاصے ادبی معرکوں جیسی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ اسکی تفصیل یہ ہے کہ شاہ نصیر مبتلا کے مہمان تھے اور انہوں نے مبتلا کے مکان پر مشاعرہ منعقد کیا تھا، جب مبتلا نے جن کا شمار اسا تذہ میں ہوتا تھا اپنا قصیدہ پڑھا تو شاہ نصیر خاموش رہے اور کسی شعر پر دادنہیں دی بلکہ شعرائے میرٹھ کی آزمائش کے لئے اپنی طرف سے ایک طرحی مصرع دیا
کردے چین میں تو ذرا بند قبا کو وا کہ یوں
اتفاق سے اس پر شعرائے میرٹھ میں سے کسی نے توجہ نہیں دی، جب شاہ نصیر کو یہ معلوم ہوا تو و و از راہ فخر و غرور ہرایک سے اس کا ذکر کرتے اور کہتے کہ میرٹھ میں ایک شاعر بھی ایسانہیں جو میرے دیئے ہو ئے مصرع پر طبع آزمائی کرتا، اس وقت میرٹھ میں ایک درویش صفت شاعر شاہ روشن بھی موجود تھے، انہوں شاہ نصیر کے غرور کو توڑنے کے لئے ان کی خدمت میں ایک دو غزلہ کہہ کر بھیج دیا، اس کا ایک مطلع یہ ہے:۔
ہوتی ہے کس طرح سحر، بولے نقاب اٹھا کے یوں
شام کے حق میں کچھ کہو ، منھ کو چھپا کہا کہ یوں
اس کے بعد شاہ نصیر کو پھر بھی میرٹھ میں اظہار فخر کی نوبت نہیں آئی۔
اس طرح میرٹھ میں شعر ونشن کے ارتقا میں نشستوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، ان نشستوں کی بنا پر اردو اس قابل ہوئی جس کی بنیاد پراد بی عمارت قائم کی جاسکے اور پھر غلام محی الدین عشق ومبتلا کی شکل میں ایسا باشعور شاعر ہمارے سامنے آیا جس نے شاعری کو دلکشی،حسن، تازگی و توانائی عطا کر کے غزل کے لب ولہجہ میں نکھار اور بانکپن پیدا کیا اس لئے عشق و مبتلا کو میرٹھ میں اردوادبی شاعری کا باوا آدم کہا جا? تو بیجا نہ ہوگا۔ جن کی شاعرانہ خدمات کا اعتراف نہ کر نا حقایق سے چشم پوشی کرنا ہو گا، آج بھی شعراء کی اچھی تعدادار دوشعروادب کی خدمت میں سرگرداں ہے۔ میرٹھ ایک مکمل دبستان سے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی دبستان میرٹھ کے چند شعراء اکرام اور انکی خدمات کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے۔
(۱) حفیظ میرٹھی
حفیظ میرٹی دبستان میرٹھ کے ان ممتاز شاعروں میں ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زائد تک اپنے کلام سے ایک پوری نسل کو متاثر کیا ہے اور اپنے فکر وفن سے شاعری میں گرانقدر اضافہ کیا ہے،میر، غالب، جوش کے بعد حفیظ میں بھی کو ایک خود دار اور شاعر انقلا ب کی حیثیت سے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔
آپ کا اسم گرامی حفیظ الرحمن اور تخلص حفیظ میر ٹھی تھا، پیدائش۱۰ جنوری ۱۹۲۲ء میں میرٹھ میں ہوئی، آپ کے والد کا نام حکیم محمدابراہیم تھا جو کرت پور ضلع بجنور کے باشندہ تھے اور بقول عز یر بکھر وی ایک پختہ شاعر تھے، ابتدائی تعلیم و تربیت مقامی اداروں میں ہوئی بعد ازاں انٹرمیڈیٹ تک با قاعدہ تعلیم حاصل کی، کافی عرصہ کے بعد وہ راقم السطور کے ساتھ میرٹھ کالج ایم اے اُردو کی کلاس میں ساتھی بھی رہے مگر میدان کی دلچسپی زیادہ دنوں تک نہ رہ سکی، آ پ کی پرورش نانا سید خادم حسین کے زیر سایہ ہوئی،فکر معاش لاحق ہونے پر کلکٹریٹ اور پھر فیض عام کا لج میں ہیڈ کلرک رہے اور ۱۰جنوری ۱۹۷۲ء کو سبکدوش ہوئے۔
۱۹۵۰ء کی دہائی میں معروف ادبی رسالے ’’معیار‘‘ کی ادارت کر تے رہے اور تا حیات ادارئہ ادب اسلامی ہند سے وابستہ اور اسکے ذمہ دارانہ منصبوں پر فائز رہے، ۱۹۵۷ء میں ڈی، آئی آ را ور ۱۹۶۷ء میں میسا کے تحت گرفت رکئے گئے، آپکے فرزند ارجمند کی ۱۹۷۶ء میں اس وقت وفات حسرت آیات ہوئی جب آپ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے، ۳۱ مارچ ۱۹۸۲ء کوآ پکی اہلیہ کے قتل کا سانحہ جا نگاہ پیش آیا، ۷ / جنور ی ۲۰۰۲ء کو اس تا جدار شعر وخن نے داعی اجل کو لبیک کہا اور عید کے روز ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرو خاک کئے گئے، پسماندگان میں دختر حسین غزالہ فلاحی شامل ہیں۔
حفیظ میرٹھی کی ادبی تخلیقات میں ’’شعر و شعور‘‘ (مئی۱۹۷۰ئ)، متاع آخر شب (دسمبر۱۹۸۶ئ) شائع ہو کر مقبول خاص و عام ہو ئیں، علاوہ از میں ان کی شاعرانہ عظمت کے اعتراف میں ۱۹۹۳ء میں حفیظ میں بھی فن اور شخصیت او ر ۱۹۹۴ء میں مجلہ’’اعتراف‘‘ اور’’ کلیات حفیظ میرٹھی‘‘ مسعود اختر کی کاوشوں سے منظر عام پر آ ئیں۔ حفیظ میرٹھی نے پاکستان، برطانیہ، امریکہ، قطر، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے مشاعروں میں شرکت کی جہاں بہت پذیرائی ہوئی، ۱۹۹۱ء میں ادارئہ ادب اسلامی ہند نے ان کا جشن منا یائے ۲۴؍ ڈسمبر ۱۹۹۴ء میں میرٹھ میں شاندار پیمانہ جشن حفیظ منا یا گیا، جس میں ایک لاکھ روپیہ عوام کی جانب سے حفیظ میرٹھی کو انکی شاعرانہ خدمات کے اعتراف میں ہدیہ عقیدت کے طور پر پیش کیا گیا، یہ حقیقت ہے کہ میرٹھ کی تاریخ میں اتنا بڑا عوامی استقبالیہ آج تک کسی شاعر کو نصیب نہ ہوا، مقامی جیم خانہ میدان میں منعقد اس تاریخی مشاعرہ کی خصوصیت بیتی کہ نامور شعرا ء کرام کے ساتھ اردو عالموں، ہندی کو لوں، معززین شہر، حکام اورعوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
حفیظ میرٹھی نے جس ماحول میں آنکھ کھولی اور بعد ازاں شاعری کا آغاز کیا اس وقت میں تھر کی فضا شعر و دب کی کیفیتوں سے معمور تھی، جگہ جگہ شاعری کے تذکرے اور مشاعرے بھی کثرت سے ہوتے تھے، بڑے بڑے شعراء میرٹھ کے مشاعروں میں شرکت کر کے اپنے کلام سے سامعین کو نوازتے تھے اور اہل ذوق کے لئے ان کا کلام تسکین ذوق کا سامان فراہم کرتا، جنگ آزادی کی تحریک پورے شباب پر تھی، فرقہ وارانہ فسادات اور پھر اسکے تلخ نتائج ہر ذی ہوش کو جھنجھوڑ کر اسکے ذہن و دماغ پر اثر انداز ہور ہے تھے، اُردو شاعری میں مختلف الخیال نظر یے شاعروں کے پیش نظر تھے، ایک گروہ روایتی شاعری کا دلدادہ تھا اور اس سے انحراف کر نے کے بجائے اسے برقرار رکھنا ہی اپنے و شاعری کی بقا کے لئے باعث رحمت و برکت سمجھتا تھا، جبکہ دوسرا نظر یہ شاعری میں جدید رجحانات کی عکاسی کا خواہاں تھا، نیز تیسرا گروہ ترقی پسندانہ خیالات کے ساتھ ساتھ کمیونزم میں اعتماد و یقین ہی انسانی نجات و اسکی رہبری کا باعث سمجھتا تھا، سر خ انقلاب نے شاعری پر واضح اثرات مرتب کئے تھے ایسے دورمیں بھی حفیظ نے خود راہ متعین کی۔
ٔ(۲) روش صدیقی
اسماعیل میرٹھی، افسر میرٹھی، ساغر نظامی کے بعد روش ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے حب الوطنی اورہندوستان کی روایات پر نظم گوئی کر کے دبستان میرٹھ کی قدرو قیمت میں اضا فہ کیا، روش صد یقی کو میدان غزل گوئی کے ساتھ ساتھ نظم گوئی میں بھی ید طو لیٰ حاصل ہے، اردو شاعری میں ان کا مقام بہت بلند ہے اور وہ ایک منفرد حیثیت کے حامل ہیں۔
ان کا نام شاہد عزیز اور تخلص روش تھا، آپ کی پیدائش جوالا پور سہارنپور میں ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۹ئ کو ہوئی، والد کا نام مولوی طفیل احمد تھا،ابتدائی تعلیم فارسی میں ہوئی ، گھر کا ماحول مذہبیت کے رنگ میں رنگا ہوا تھا، بعد ازاں انگریزی سنسکرت پر بھی استعداد کا ملہ حاصل کی۔
روش کی سیرت کا اک خاص پہلو یہ بھی تھا کہ وہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان بھی تھے وہ بڑے پاک طینت تھے، جیسا ظاہر ویسا ہی باطن رکھتے تھے۔
انکی تصانیف میں’’ محراب غزال‘‘ (۱۹۵۹ئ) اور کارواں (مئی۱۹۵۰ئ) کو خصوصیت حاصل ہے، نثری کارناموں میں متفرق مضا مین شامل ہیں، انکی وفات کے بعد’روش روش‘‘ کے نام سے ایک اور مجموعہ غزل شائع ہوا ہے، یو پی ار دوا کا دی کھتو نے انعام سے سرفراز کیا ہے۔
ن۔م۔ راشد نے روش صدیقی سے اصلاح لی ہے۔
شاعر کی حیثیت سے روش کا ایک خاص مقام تھا جس میں اس عہد کا کوئی شاعرا کے بالمقابل نہ تھا، انکی شاعری کا میر میر درد، غالب اور حسرت کے محاسن شعری سے تیار ہوا تھا، فارسی کی دلآویز ترکیبیں اور کلاسیکی رچاؤ، شروع سے آخر تک ایک ہی رنگ کی غزلیں مرصع، شگفتہ، پا کیز ہ اورفنی اعتبار سے بھی انکا مرتبہ شاعری بہت بلند تھا۔
(۳) سید احمد سید
سید احمد سید میرٹھی کا شمار دبستان میرٹھ کے ایسے شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے فکر وفن دونوں ہی اعتبار سے اردو شاعری میں گراں قد را ضافہ کیا ہے۔
انکی پیدائش ۱۹۰۰ء میں دیوان خانہ ویلی بازار میرٹھ میں ہوئی، انکے والد کا نام مختار احمد تھا، انکی شادی تسہ میں ہوئی،مورخہ۵ مارچ ۱۹۷۵ء کرا چی میں انتقال کیا اور وہیں مدفون ہوئے، انہوں نے کسی سے استفادہ نہیں کیا بلکہ ان کا ذوق اور مطالعہ ہی انکے مشق سخن کا باعث بنا۔
سید میرٹھی ایم ایل سی اور اسپیشل مجسٹریٹ بھی رہے ان کا ادبی ذوق بہت پاکیزہ تھا، غزل، رباعی، مراثی، قصائد صرف ونحو پر قدرت رکھتے تھے، مکالمہ نگاری میں تو ید طولی حاصل تھا، عیش میرٹھی کی نشستوں میں برا برشر یک ہوتے تھے، ان کا دیوان خانہ ادبی سرگرمیوں کا محور تھا، قریب ہی و میلی بازار میں بھی مختلف شعرا ء کی دکانوں پر اکثرو بیشتر شاعری کے چرچے ہو تے رہتے،تحت اللفظ پڑھتے تھے۔
سید میرٹھی کے دیوان خانہ میں شعری نشستوں کا اکثر انعقاد ہوتا تھا، ان کا مجموعہ مراثی’و قارمنیر‘ کے نام سے پاکستان میں ڈاکٹر سید سند حسین نے چھپوانے کی ذمہ داری لی تھی تا دم تحریر اس کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا۔
(۴) قیام الد بن مضطر
نا مورا ستا د، ما بہ فروش، کہنہ مشق شاعر قیام الدین منطر نگینوی دبستان میرٹھ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں،، آپ روایتی شاعر کے علم بردار ہیں، آپ کا نام قیام الدین اورتخلص منظر ہے، آپ کی پیدائش ۲۳؍ دسمبر ۱۹۲۳ء کو نگینہ ضلع بجنور میں ہوئی،ابتدائی تعلیم و تر بیت مقامی طور پر فارسی، عر بی دینی مدارس میں ہی حاصل کی بعد ازاں علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے انڑ کیا، اس کے بعد تعلیم اور ملازمت کے سلسلہ میں عمر کا بیشتر حصہ میرٹھ میں گذرا اور میرٹھ کو اپنا وطن ثانی بنایا، آپ نے کسی سے تلمذ حاصل نہیں کیا بلکہ ذوق مطالعہ اور خدا داد صلاحیتوں سے ان شعر گوئی پر عبور حاصل کیا، کافی عرصہ تک ملازمت کی۔
آپ نے ماضی کے ادبی ورثے اور کلاسیکی روایات سے انحراف کر نے کے بجائے ان سے خاطر خواہ استفادہ کیا، آپ کے یہاں تغزل اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے، حسن و مشق کے لطیف جذبات و احساسات میں پیش کیا ہے، ما ہر فن عروض ہونے کے سبب آپ کی غزلوں میں فنی صداقتوں کا پورا احترام کیا، آپ کا انداز بیان فنکارانہ ہے، آپ نے اپنے فکر و فن سے اپنے تجربات و مشاہدات و اس قدر جچے تلے انداز سے پیش کیا کہ اس میں سنجیدگی کے ساتھ لطف پیدا ہو جا تا ہے، آپ کی شاعری فکری وفنی خو بیوں کی تر جمان ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ جس نے زندگی کا بڑا حصّہ شعر ی شاعری کو پروان چڑھانے اور فروغ دینے میں صرف کیا ہو اس کا کلام منظر شہود پر نہ آئے، منتظر صا حب بہت جلد اپنا انتخاب مجموعہ کلام چھپوانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مضطر صاحب نے راقم سے بتایا کہ پہلے میرٹھ میں دائرہ ادبی ' نامی ایک فعال او بی تنظیم تھی جسکے تحت ہر اتوار کوفیض عام کا لج میں ادبی نشستیں انعقاد پذیر ہوتی تھی، جس میں خصوصیت کے ساتھ حتی جز میں منفطر، حفیظ سلیم بشر، امید: یہائی، شکیل بدایونی شرکت کرتے تھے، ماہر القادری نے بھی کئی مرتبہ ان نشستوں میں شرکت کی ہے، در اصل ان نشستوں کا ایک مثبت پہلو تنقیدی سلسلہ تھا، یعنی شاعر کے پڑھنے کے بعد تنقید ہوتی تھی، ایک مرتبہ یہ مصرع دیا گیا۔
تار نظر سے تڑ میں کچھ اس طرح بجلیاں۔
مضطر صا حب میرٹھ کے بزرگ شعرا، میں سے میں ان کا کہنا ہے کہ غزل اردو شاعری کی ایسی صنف ہے جو اُردو کو آج پرفتن دور میں سنہالے ہوئے ہیں، مثال کے طور پر امراؤ جان’’ پاکیزہ‘‘ فلم کو غزل نے ہی اٹھا یا اور اس طرح اُردو عوام کے ذہن و دل پہ چھا گئی جوفلم کی کا میابی کی ضمانت بنی۔
مضطرصا حب نے ایک لطیفہ سنایا جس کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا،فرماتے ہیں ’’ ایک مر یہ لکھنو میں شعر بریلوی، ستاد الشعرا، عالم معنوی اورمضطربیٹھے ہوئے تھے، د ریں اثنا عاصم نے کہا کہ میر او یوان تو چپ جائے گا آج ہی ۲۲؍ روپیہ کا رم لے کر پریس میں دے کر آیا ہوں، اس پر شعور بریلوی نے فورا جواب دیا کہ ا سے ۲۰ / روپے میں نیچے آ اور نہ بعد میں کوئی دوا نہ سر میں بھی نہیں خریدے گا''۔ در اصل بیداُر دو داں کی ہے کسی کی طرف اشارہ تھا نمونہ کلام:۔
سمجھ لیجئے جناب شیخ ہوں گے کوئی فتنہ اٹھے جب انجمن سے
؎سلام تک بھی نہیں پرسش مزاج تو کیا یہی تو ہونا تھا گہرے تعلقات کے بعد
بچھڑ کے تجھ سے وہ نعمت جسے سکوں جیئے نہ دن کے بعد میسر ہوئی نہ رات کے بعد
(۵) مبصرا مروہی
مبصر امروہی دبستان میرٹھ کے ایسے شاعر میں، جنہیں زبان و بیان پر یکساں قدرت حاصل ہے، انہوں جس صنف سخن میں بھی قلم کے جوہر دکھائے اس میں اپنی قادر الکلامی کا ثبوت دیا ہے۔ آپ کی پیدائش۱۴؍ جنوری ۱۹۳۴ء کوامر و ہہ سادات میں ہوئی، آپ کے والد کا نام مولوی حافظ محمد میل عباسی تھا، آپ کا نام مسعود احمد اور تخلص بسرا مروہی تھا، ابتدائی تعلیم وتربیت دارالعلوم امر و ہہ میں حاصل، بعد ازاں حفظ قرآن، تجوید اور علوم شرقیہ میں عبور حاصل کیا، اس کے ساتھ علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے گریجویشن کیا، پھر لکھنو سے پانچ سالہ طبی کورس کر کے فاضل طب کا امتحان پاس کیا، اس کے بعد میر ٹھ میونسپل پوریشن کی طبی ڈسپنسری میں میڈیکل آفیسر مقرر ہوئے، حج بیت اللہ کر نے تشریف لے گئے وہیں انتقال ہوا اور تدفین ہوئی، واہ اس شاعر نے کتنا اچھا جوار پایا، آپ کے پسماندگان میں تین لڑکے ہیں جن میں محمد طارق خلف اکبر ہیں۔
آپ شاعری میں تلمیذ الرحمن میں، کسی سے تلمذ حاصل نہیں کیا،ابتداء میں نثر نگاری کی طرف رجوع ہوئے سچر اس میں اتنی نفسگی آ ئی کہ دنیائے شاعری میں مبصر ا مر وہی کہلا ئے۔
میصر صاحب منفر د لب ولہجہ کے شاعر ہیں، آپ نے غزل بظلم، قطعہ، ر با قی خرش کہ بر مصنف فن پر قلم مائی کی ہے اور ا پنی قادرالکلامی کا ثبوت دیا ہے،مبصر امروہی اپنی شاعری کے سلسلہ میں خود کہتے ہیں:۔
مبصر امروہی غزل کے شاعر ہیں، آپ نے روایتی شاعری کے عناصر کو اپنی غزلوں کا نگینہ بنایا ہے مگر کی اصناف سخن سے بھی گریز نہ کر تے ہو ئے قلم آزمائی کی اور اسے باغ و بہار بنا دیا ہے۔
(۶) حیران کاشمیری
حیران کاشمیری دبستان میرٹھ میں ایک انقلابی شاعر کی حیثیت سے جانے و پہچانے جاتے ہیں، وہ شاعر اور ایک صحافی بھی تھے، ایک عرصہ تک شعر وشن کے نغمے گنگناتے رہے اور کئی اخبارات سے وابستہ رہے۔
ان کا نام عبد الخالق تخلص حیراں کا شمیری تھا، یکم مارچ ۱۹۲۵ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے،کشمیر سے چونکہ ان کے آباء واجداد نے ترک سکونت اختیار کر کے میرٹھ میں بود و باش اختیار کی، اس لئے کشمیر سے اپنی نسبت کے سبب اپنے نام کے ساتھ کشمیری کا اضافہ کرتے تھے،۱۴؍ جون ۱۹۹۵ء کو راہی ملک بقا ہوئے اور قبرستان مائی کا تکیہ میںسپرد خاک ہوئے۔
انکے دوشعری مجمعہ’’نگار آتشیں‘‘ اور’’ آتش سیال‘‘ان کی حیات میں ہی شائع ہو گئے تھے۔
ان کے والد عبد المالک اختر اور چچا عبدالواحد فیض اور نا نا مولوی سراج الدین سراج بھی شاعر تھے، اس لئے شاعری ان کو ورثہ میں ملی تھی مگر انقلابی شاعر کوثر قریشی نے انکے ذوق شعری کو جلا بخشی، دوران تعلیم حقی جز میں انکے استادر ہے ہیں، ان کے لڑ کے اختر نو از اختر بھی شاعر تھے، اچھا شعر کہتے تھے۔
حیراں نے صحافت کے سنگلاخی میدان میں بھی قدم رکھا اور ہفت روز و ہماری آواز (استاد عبد الرشید رشدی) میں کام کیا،صحافی اور بند نافت روز ہ ’’ سندیش ‘‘کے اڈیٹرستیش چند شرما نے بھی ان دنوں ہماری آوازسے اپنی صحافی زندگی کا آغاز کیا تھا۔
حیراں کی صحافتی حق گوئی پر ۱۹۴۲ء میں کئی مقدمات چلے، انہوں نے اپنا اخبار’’ناہید‘‘ نکالا جو آخر تک جاری رہا، تیراں کو اپنی انتقا با ند اور شعلہ بیانی کے سبب ۱۹۶۴ء میں ڈی آئی آر کی خلاف ورزی کرنے میں قید و بند کی مشقتیں برداشت کرنی پڑ یں مگر حیراں اپنے خطیبانہ انداز اور منفر دانقلابی نقط نظر کے سبب شعری سفر میں رواںدواں رہے۔
حیراں نے ترانہ کشمیر، عنوان سے جونظم لکھی وہ بہت مقبول ہوئی، مذکور ونظم حب الوطنی کے جذبات سے لبریز ہے، اس کے کچھ شعر یہ ہیں:۔
ہم گلستاں کی حسیں تصویر دے سکتے نہیں غیر کو اجداد کی جاگیر دے سکتے نہیں
ہی ہمارا فیصلہ ہے یہ ہماری آن ہے جان دے سکتے ہیں ہم کشمیر دے سکتے نہیں
۱۹۶۸ء اور پھر ۱۹۷۵ئایمرجنسی میں جیل گئے، اس طرح ان کی زندگی انقلاب کی نذر ہو گئی۔حیراں کے کلام میں انقلا با نہ لہجہ کی اکثریت ہے تا ہم کلاسیکی شاعری وعصری آگہی کی آمیزش بھی کم نہیں، حیراں کے دور میں روایتی شاعری کے کافی چرچے تھے مگر انہوں نے جس انقلابی لہجہ کو اپنا یا پھر اس سے پیچھے نہ ہے، اپنی انفرادیت کو قائم رکھا حالانکہ ان کی شاعری کے ابتدائی دور میں میرٹھ شعر وخن کا مرکز بنا ہوا تھا اور شہنشاہ غزل ندرت، بوم، سید، کوثر تسکین، اکبر، نشتر، شیار، حزیں، کامل، ساغر نظامی جیسے نامور شعرائے کرام میدان ادب پر چھائے ہوئے تھے۔
(۷) خوشتر میرٹھی
دبستان میرٹھ کی مزاحیہ شاعری کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی تو خوشتر کا نام لئے بغیر نامکمل رہے گی، بوم میرٹھی کے بعد مزاح نگاری میں سب سے بلند مرتبہ خوشتر کا ہے، موجودہ دور میں اعجاز پاپولر اس صنف میں شہرت کے حامل ہیں۔
خوشتر میرٹھی میرٹھ ہی میں پیدا ہوئے اور یہیں وفات پائی مگر تلاش بسیار کے باوجود تاریخ پیدائش و وفات دستیاب نہ ہوسکی، راقم السطور نے بچپن میں انہیں بارہا مشاعروں میں سنا ہے، پوری نشست کو زعفران زار بنا دیا کرتے تھے، نعتیہ کلام میں بھی انکی انفرادیت تھی،کسی کسی لفظ سے بڑا لطف پیدا کر دیتے تھے، انکی شہر میں نیلر نگ کی دوکان بھی بعیش میری ہر سال عید میلادالنبی کے روح پرور موقعہ پر میرٹھ میں طرحی نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد کر تے تھے، مدرسہ اسلامی عربی اند رکوٹ میں منعقد طرحی مشاعرہ کی روداد بہ شکل گلدستہ شائع ہوا کرتی تھی، جس میں شاعر واسکی نعت دی جا یا کرتی تھی، خوشتر میرٹھی اس میں بڑی پابندی سے شرکت کر تے، راقم السطور کو ۱۹۷۱ء تک کا گلدستہ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اس سال تک انہوں نے شرکت کی ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت وہ حیات تھے،نمونہ کلام ملاحظہ ہو۔
عشق تھا مجھ کو جو اس زلف گرہ گیر کے ساتھ با ندھ کر حشر میں لائے مجھے زنجیر کے ساتھ
عشق میں اس بت کے خوشہ بن گئے تصویر تم محو نظارہ ہے اک عالم تماشا کیوں نہ ہو
(۸) بھیا رشید الدین رشید میرٹھی
دبستان میرٹھ میں ایسے شعرا کا فقدان نہیں ہے جنہوں نے اپنے فکر وفن اور جولانی طبع سے مختلف شعری اصناف میں قلم کے جو ہر دکھا کر اپنے کمال فن کا اعتراف کرا یا بھیا رشید الدین رشید میرٹھی کو بھی دیگر اصناف سخن کے ساتھ ساتھ تاریخ گوئی میں ید طولیٰ حاصل تھا، وہ مجاہد آزادی بھی تھے۔
بھیا رشید الدین نام تخلص رشید میرٹھی تھا، ان کی پیدائش ۱۸۸۸ ء مطابق ۱۳۰۴ھ عیدالاضحی کے روز ہوئی تاریخی اعتبار سے ان کا نام خورشید صبح عید قرار دیا گیا والد کا نام خان بہادر بھیا حاجی حافظ شیخ وحید الدین صاحب کی آئی ای رئیس اعظم لال کرتی میرٹھ تھا، جو میرٹھ کی تاریخی حیثیت کے حامل تھے ۲۵؍اگست ۱۹۵۲ء کوانہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا اور قبرستان حضرت مخدوم شاہ ولایت میرٹھ میں اپنے استاد و والد کے جوار میں مدفون ہوئے ان کے انتقال پر صدر جمہور یہ ڈاکٹر راجندر پرشاد، پنڈت جواہر لال نہرو، سروجنی نائیڈو،مولانا ابوالکلام آزاد، مولا ناحسین احمد مدنی نے ملک وملت کے تئیں ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا ان کے انتقال کی خبر آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو پاکستان سے بھی نشر ہوئی۔
پس ماندگان میں برا در اکبر بھیا شیخ نورالدین صابری اور اور بھیا شیخ کریم الدین التمش تھے وہ بھی اللہ کو پیارے ہو گئے،اب بھیا شیخ غلام غوث محی الدین صابری اور راقم السطور عارف الدین صابری آپ کے بغیر گان و جانشین ہیں، عارف الدین صابری کے دوفرزند شیخ شجاع الدین صابری، شیخ اظہر الدین صابری گلشن رشید کے جاں فزا چھوٹوں میں ہیں۔
غالب کے شاگرد کے شاگردحضرت مولانا عبداسمیع بیدلؔ قدس مرد نے آپ کی بسم اللہ شروع کرائی اور ان ہی کے زیر سایہ اپنے زانوئے ادب تہ کیا۔ علاوہ از میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوئی کے والد بزرگوار حضرت مولا نا عبد الحق سہارن پوری،حضرت مولا نا محمد الحکیم صدیقی، حضرت حکیم میاں محمد سے استفادہ کیا اور اپنی غیر معمولی ذہانت سے انگریزی کے علاوہ عربی، فارسی اور اُردو میں استعداد کا ملہ حاصل کی، بعد ازاں میرٹھ ڈویزنل کا لج میں اعلی تعلیم کے مدارج طے کئے زمانہ طالب علمی سے ہی آپ کو شعر وشن کا ذوق ہو گیا تھا۔اس لئے ایک زمانہ میں آپ کو قافیہ پردازی کا شوق بھی رہا ہے ’’تاریخ الشیوخ ‘‘’’ تذکرۃ القریش‘‘اور دیگر کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کلاسیکل شاعری کے علم بردار ر ہے ہیں، آپ اتر پردیش میں M.L.C. بھی رہے،اس سے قبل تحصیل دار اور آنریری مجسٹریٹ ر ہے۔
ّ(۹) کوثر قریشی
حسرت، اقبال، جوش، روشی اور ساغر و علامہ انور صابری کی طرح کوثر قریشی کو بھی بہت کم عمر میں شہرت دوام حاصل ہوئی۔ ان کا نام عبد القیوم تخلص کوثر تھا۔
کوثر کی تعلیم وتربیت حکیم احمد رشید زیبا کے زیر سا یہ ہوئی۔ یہ استاذ کا ہی فیضان تھا کہ ان کی حب الولنی سے بھر پور نظموں کو بہت جلد شہرت و عزت نصیب ہوئی کوثر کا نگر لیں، جمیعۃ علمائے ہند، آل انڈیا جمیعۃ القریش اور مجلس ادرار کے جلسوں، کانفرنسوں اور اجتماعات میں اکثر نظمیں پڑھا کرتے تھے۔ جسے لوگ ذوق وشوق سے سنتے اور سر رتے تھے۔
’’ آنسو‘‘ نام سے جو کتاب چہ شائع کیا وہ بہت مقبول ہوا۔ بخشی غلام محمد کی فرمائش پر انہوں نے وادی شمیہ نام سے ایک شاہ کا نظم لکھی جو وہاں کا قومی ترانہ بن گئی تھی اور ہر روز ریڈ یو کشمیر سے نشر ہوئی تھی۔
کوثر علامہ اقبال سے بے حد متاثر تھے وہی ان کے آئیڈیل تھے انہوں نے رام کرشن مہاویر، تا تک کے پیغام کو بھی اپنی شاعری میں سمو دیا۔ تعمیر انقلاب‘ ان کی قومی شاعری کی نظموں کا مجموعہ ہے مہاتما گاندھی کی شہادت پر کوثر نے اے شمیر ہے کہ وادی کشمیر مری دادی تو پیگیر جنت جنت تری تصویر کوثر قریشی نے قومی اور انقلابی نظموں کے علاوہ جو غزلیں کہیں انہیں مشاعروں میں مقبولیت، داد تحسین ضرور حاصل ہوئی لیکن ان میں دو کیفیت، جوش وخروش اور جذ بہ جمال پیدا نہ ہو سکا جو ان کی نظموں میں تھا۔ بہت کم عمر میں کوثر قریشی نے داعی اجل کو لبیک کہا۔
(۱۰) عیش میرٹھی
اردو کی اعلی روایتی اقدار کے امین بھیا شیخ منظور محی الدین عیش میری دبستان میرٹھ کے ایک بلند پایہ قادر الکلام اور استاد شاعر ہیں جو نصف صدی سے بھی زائد کا رزار شعر جن میں جلو و گر رہ کر اپنے تجربات و مشاہدات شاعرا بی فضل و کمال اور فکر وفن کے ایا زوال نقوش اردو شعر و ادب پر ثبت کرر ہے ہیں۔
عیش صاحب کی پیدائش مورخہ ۲۹؍اپریل ۱۹۱۶ء کو ۵۵؍ کوٹھی خان بہادر صاحب لال کرتی میرٹھ میںہوئی، پورا نام منظور محی الد ین تخلص عیش میرٹھ ہے شاعری ان کا جدی ورثہ ہے والد کا نام شیخ غوث محی الدین ہے وہ بھی شعر وخن کے دل دادہ تھے، جد امجد بھی شعر و شاعری سے شغف رکھتے تھے۔ علاوہ از میں خاندان کے ایک اور بزرگ تسخیر میرٹھی کو حضرت بیدل ورشک انوری و خاقانی بیاں ویزدانی سے شرف تلمذ تھا، انہیں خود بھی شعر وفن پر کامل دست گا تھی۔ان کی صحبت با فیض نے بھی ان کے شوق شاعری کو پروان چڑھانے میں مدد کی انہوں نے ابتدائی تعلیم و تر بیت فیض عام کا لج میرٹھ کا لج بعد ازاں سینٹ جونس کا لج آگرہ سے حاصل کی آگرو کی مطروحہ نشتیں و مشاعرے جومو لا نا حامد حسن قادری جیسی ذی علم شخصیت کی زیرنگرانی منعقد ہوتے تھے ان کے ذوق سخن کی تسکین کا سامان ہے، مذکور ونشستیں یو نیورسٹی سطح کے طلبا کی منعقد ہوتی تھی اور اس میں طلبا کو اپنی صلاحیتوں کے مظاہرہ کا بھر پور موقع ملتا تھا ان کے ذوق شعری کو جلا بخشنے میں یہ نشستیں بھی مددگار و معاون ثابت ہوئیں انہوں نے کسی کو استاد نہیں بنا یا اور تلمیذ الرحمان رہے مگر ذوق مطالعہ اور مشق سخن سے شاعری پر عبور حاصل کیا، پس ماندگان میں ایک لڑکی میں جو بمبئی میں سینہ فصیح الدین سے منسوب ہیں۔
انہیں جملہ اصناف سخن پر قدرت حاصل ہے، غزل، نعت، قصیدہ، مرثیہ و دیگر موضوعات پر ان کا کلام، ان کی شاعرانہ عظمت کا بر ملا اظہار ہے عیش میرٹھی کے کلام میں میر کے اشعار کی گھلاوٹ، درد کی دردمندانہ تہ داری حسرت کی تہذ یب رسم عاشقی اور شاہ نیاز بریلوی کی عارفانہ شاعری کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کا کلام فکری وفنی خوبیوں کی بنا پر اردوشاعری کی قیمتی سرمایہ ہے ان کے یہاں دہلی ویکھنڈ دونوں اسکولوں کے صحت مند عناصر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ان کی غزلوں میں زبان و بیان کی صحت، ضابطوں کی پابندی سحر کاری اور پر کاری بھی ملتی ہے۔ آپ کے کلام کی نشوز واحدی، ڈاکٹر مغیث الدین فریدی اور کئی شخصیتوں نے تعریف کی ہے۔
عیش میرٹھی کی غزلوں کا یہ نظر میں مطالعہ کر نے سے محسوس ہوتا ہے کہ اسمیں حسن و عشق، ان کا مثالی محبوب فصل گل میں عاشق کی بے قراری، جنون و دیوانگی کے ساتھ گر یہاں کا چاک ہونا، ہجر محبت کا انتظار، آو وفغاں، بے قراری و بے چینی، ضبط کا دامن چھوٹ جانے پر بھی ترک عشق کی دعا نہ کرنا محبوب کے رو بہ رو عاشق پر ظلم اور بے اعتنائی، شباب، خرام ناز، سرا پائے محبوب انجام عشق،خمریات،لقوف ووحدۃ الوجود آزادہ روی جلوہ گر ہے، کہیں کہیں سیاسی و سماجی معاملات پر بھی چوٹ کی ہے مگر ان کی تعداد بہت کم ہے، اس طرح غزل کے جملہ عناصر ان کے یہاں نمایاں ہیں۔
حسن وعشق روایتی شاعری کا اہم موضوع ہے ان سے متعلق تمام واردات و کیفیات کا منبع جذ بہ عشق ہے عشق ایک فطری جذ بہ ہوتا ہے جو دوسرے تمام جذبات پر حاوی ہوتا ہے،اس کی تڑپ اور جوش کا مقابلہ کسی دوسرے جذ بہ سے نہیں کیا جا سکتا۔
عیش میرٹھی کے یہاں جذبئہ عشق کی فراوانی حسن کی رعنائی جلوہ گر ہے، ان کا عشق التفات یار کا خواہاں ہے۔
کتابیات
۱۔ آبِ حیات محمد حسین آزاد
۲۔ دبستانِ میرٹھی ڈاکٹر راحت آبرار
۳۔ شعورِفن ڈاکٹر فخرالسلام و ڈاکٹر الیاس الاعظمی
۴۔ حفیظ میرٹھی عزیز بگھروی
۵۔ رنج میرٹھی ڈاکٹر مقصود حسین
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.