اپنی اپنی ڈفلی

سعادت حسن منٹو

اپنی اپنی ڈفلی

سعادت حسن منٹو

MORE BYسعادت حسن منٹو

    ’’السلام علیکم!‘‘

    ’’وعلیکم السلام!‘‘

    ’’کہئے مولانا کیا حال ہے؟‘‘

    ’’اللہ کا فضل و کرم ہے۔۔۔ ہر حال میں گزر رہی ہے۔‘‘

    ’’حج سے کب واپس تشریف لائے؟‘‘

    ’’جی، آپ کی دعا سے ایک ہفتہ ہو گیا۔‘‘

    ’’اللہ اللہ ہے۔ آپ نے ہمت کی تو خانہ کعبہ کی زیارت کر لی۔۔۔ ہماری تو دل ہی دل میں رہ جائے گی۔۔۔ دعا کیجیئے کہ یہ نعمت ہمیں بھی نصیب ہو۔‘‘

    ’’انشاء اللہ۔۔۔! ورنہ میں گنہگار کس قابل ہوں۔‘‘

    ’’میرے لائق کوئی خدمت؟‘‘

    ’’کسی تکلیف کی ضرورت نہیں۔۔۔ لیکن دیکھئے۔۔۔ ذرا کان لایئے ادھر۔۔۔ میرے ہاں دو بوریاں کھانڈ کی ہیں۔۔۔ آپ کی اکثر جان پہچان ہے، کسی کو ضرورت ہو تو مجھ سے فرما دیجئے گا۔۔۔ آپ سمجھ گئے نا۔۔۔؟ دام واجبی ہوں گے۔

    ’’لیجئے جناب ہماری خدمات کا صلہ مل گیا۔‘‘

    ’’کیا۔۔۔؟ مبارک ہو!‘‘

    ’’سو سو مبارک۔۔۔ کمپنی نے نوکری سے جواب دے دیا۔‘‘

    ’’ہائیں۔۔۔ یہ کب کی بات ہے؟‘‘

    ’’ایک مہینہ ہو گیا ہے۔‘‘

    ’’لا حول و لا، مجھے معلوم ہی نہیں تھا۔‘‘

    ’’دو سو ملازموں کی چھانٹی ہوئی ہے۔‘‘

    ’’بہت افسوس کی بات ہے کوئی احتجاج وغیرہ ہوا؟‘‘

    ’’سیکڑوں۔۔۔ ہڑتالیں ہوئیں، جلوس نکلے، کئی مرتبہ دس دس بیس بیس روز کی بھوک ہڑتال بھی کی۔۔۔ وعدے ہوئے، وعید ہوئے مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔‘‘

    ’’تعجب ہے۔۔۔ کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔‘‘

    ’’ان تلوں میں تیل ہے نہ اتنی سروں میں جوئیں۔۔۔ کانوں پر رینگیں گی کیسے۔۔۔ جوئیں۔۔۔ لیکھیں یہ تو ہماری دنیا کی چیزیں ہیں، سر اور کپڑوں سے ٹپکی پڑتی ہیں۔‘‘

    ’’اللہ رحم کرے۔‘‘

    ’’اللہ اب رحم نہیں کرے گا۔۔۔ وہ دن لد گئے جب وہ مائل بہ کرم ہوا کرتا تھا۔۔۔ اتنے آدمی ہیں وہ کس کس کی حاجت روا کرے۔۔۔ میرا تو خیال ہے اوپر بھی راشننگ سسٹم شروع ہو گیا۔‘‘

    ’’میں اس بدذات سے کیا کہوں۔۔۔ صاف مجھ سے دغا کر گیا۔‘‘

    ’’کیسے؟‘‘

    ’’حرام زادے نے وعدہ مجھ سے کیا اور دونوں نئی بیوکس کہیں ٹھکانے لگا دیں۔‘‘

    ’’اس کی وجہ؟‘‘

    ’’میں نے اس کا ایک کام کیا تھا، اس کے عوض میں نے اس سے کہا تھا کہ مجھے ایک نئی بیوک، جو تمہارے ہاں آنے والی ہے دلوا دو۔۔۔ میں آدھی قیمت ادا کر دوں گا۔۔۔ آدھی اس کام کے مجرے میں گئی ہے۔‘‘

    ’’اور وہ کام لاکھوں کا تھا۔‘‘

    ’’اس لئے تو کہتا ہوں بلڈی سوائن نے میرے ساتھ دھوکا کیا۔۔۔ لیکن میں بھی اس سے بدلہ لوں گا۔۔۔ دو بیوکس لے کر کوٹھی پر سیدھی ناک آئے گا۔‘‘

    ’’یہ آپ ٹین کے ڈبے اور سگریٹ کی خالی ڈبیاں کیوں یہاں سے لے جایا کرتے ہیں؟‘‘

    ’’حضور ایسے ہی۔‘‘

    ’’کوئی وجہ تو ہوگی؟‘‘

    ’’آپ کے ہاں بیکار پڑے رہتے ہیں۔ میں لے جاتا ہوں۔‘‘

    ’’کچھ مل جاتا ہے ان سے؟‘‘

    ’’جی ہاں، بہت کچھ۔‘‘

    ’’دیکھو، ہمیں معلوم ہی نہیں۔‘‘

    ’’جی ہاں، آپ کو معلوم نہیں۔۔۔ میری بچیاں ان سے کھیلتی ہیں۔۔۔ میری اتنی استطاعت نہیں کہ میں ان کےلئے گھر کھلونے لے جایا کروں۔ اس لئے میں ان کو اس طور پر سمجھایا ہے کہ وہ ان نکمی چیزوں ہی کو دنیا کے بہترین کھلونے سمجھتی ہیں۔‘‘

    ’’بڑے ہوشیار آدمی ہو بھئی۔‘‘

    ’’باورچی۔۔۔ باورچی کو بلاؤ۔۔۔ جلدی بلاؤ۔۔۔ ہم اس سے بات کرنا مانگتا ہے۔‘‘

    ’’حضور۔۔۔ ۔۔۔ حاضر ہوں۔‘‘

    ’’یہ تم نے آج کھانے کس قدر واہیات پکائے ہیں۔‘‘

    ’’حضور۔۔۔‘‘

    ’’حضور کے بچے۔۔۔ اس پلیٹ سے بیگم صاحب نے ایک ہی نوالہ اٹھایا کہ متلی آ گئی۔۔۔ میں تمہیں۔۔۔‘‘

    ’’حضور ممکن ہے کوئی قصور ہو گیا ہو۔۔۔ میں معافی چاہتا ہوں۔‘‘

    ’’معافی کے بچے۔۔۔ اٹھاؤ، سب سالن، اور باہر پھینک کر آؤ۔‘‘

    ’’ہم نوکر کھالیں گے حضور!‘‘

    ’’نہیں۔۔۔ باہر ڈسٹ بن میں پھینک کر آؤ۔۔۔ تم سزا کے طور پر بھوکے رہو۔۔۔ اٹھئے بیگم صاحب، ہم ’شیزان‘ چلتے ہیں۔‘‘

    ’’یہ تمہیں چرس کی لت کہاں سے پڑی؟‘‘

    ’’کیا بتاؤں یار۔۔۔ اب تو اس کے بغیر بالکل نہیں رہا جاتا۔‘‘

    ’’یہ تم مجھے کیا بناتے ہو۔ میں پوچھتا ہوں لت کہاں سے پڑی۔‘‘

    ’’جیل میں۔‘‘

    ’’جیل میں۔۔۔؟ وہاں تو ایک مکھی اندر نہیں جاتی۔‘‘

    ’’مکھیاں، مچھر، کھٹمل، چوہے، تمام حشرات الارض جاتے ہیں، افیم جاتی ہے، چرس جاتی ہے، مدھک جاتی ہے، شراب جاتی ہے، سبھی کچھ جا سکتا ہے۔‘‘

    ’’کیسے؟‘‘

    ’’ایک خاکی مارکیٹ ہے وہاں۔۔۔ جو بلیک مارکیٹ سے زیادہ ایماندار ہے۔‘‘

    ’’اماں! اب گزارہ کیسے ہوگا، یہاں لتے بدن پر جھولنے کا زمانہ آ گیا ہے۔‘‘

    ’’ٹھیک کہتی ہے بیٹا۔‘‘

    ’’تو کیا ہوگا؟‘‘

    ’’سارا بازار ہی مندا ہے۔‘‘

    ’’کیوں؟‘‘

    ’’لوگوں کے پاس روپیہ نہیں۔‘‘

    ’’لیکن جو مال پہ اتنی شاندار موٹریں چلتی ہیں۔۔۔ یہ جو لارنس باغ میں زرق برق لباس نظر آتے ہیں۔۔۔ یہ روپیہ کہاں سے آتا ہے۔‘‘

    ’’ان لوگوں کے پاس ہے۔‘‘

    ’’تو پھر بازار کیوں مندہ ہے؟‘‘

    ’’اب انہوں نے اپنے آپس ہی میں ہمارا دھندہ شروع کر دیا ہے۔‘‘

    ’’مکان کی بڑی پریشانی ہے۔۔۔ سر چھپانے کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں۔‘‘

    ’’معاملہ واحد ہے بھائی جان۔‘‘

    ’’جی نہیں۔۔۔ آپ ذرا خیال تو فرمایئے کہ میرا کتنا بڑا کنبہ ہے۔ ماں، دو سالیاں، چار بچیاں، ایک بیوی۔۔۔ اور دو خالائیں۔‘‘

    ’’اور ادھر کی فہرست بھی سن لیجئے۔ دو بیویاں، آٹھ بچے، ماں، اس کی ماں۔۔۔ ماں کی دو بہنیں۔‘‘

    ’’جی نہیں۔ ۔ آپ غور فرمایئے کہ یہاں آنے کے بعد دو برس کی مسلسل تگ و دو کے بعد مجھے ایک چھوٹا خستہ مکان خدا خدا کر کے مل گیا تھا۔۔۔ لیکن ایک برس بھی اس میں مشکل سے نہیں گزرا تھا کہ محکمہ۔ ۔ کیا کہتے ہیں اسے؟‘‘

    ’’محکمہ بحالیات!‘‘

    ’’ہاں ہاں، وہی، اس کے افسروں نے نکال باہر کیا۔ ۔ قبلہ مستورات تک کو یوں چٹکیوں میں سڑک پر بٹھا دیا۔‘‘

    ’’اور قبلہ مجھے مارا بھی گیا تھا۔۔۔ مجھ پر مقدمہ بھی چلا تھا۔۔۔ لیکن خدا جانے کب کا ثواب کام آ گیا کہ جیل سے جان چھوٹی۔۔۔ میں نے سوچا جان بچی سو لاکھوں پائے۔‘‘

    ’’تو اب آپ کہاں رہتے ہیں؟‘‘

    ’’میں نے اب رہنا ہی چھوڑ دیا ہے۔‘‘

    ’’کیا مطلب؟‘‘

    ’’میں نے سب سے کہہ دیا، جہاں تمہارے سینگ سمائیں جاؤ اور چھوڑ چھاڑ چلتا بنا۔۔۔ وہ خدا معلوم کہاں ہے۔۔۔ مجھے ان کی کوئی پروا نہیں۔۔۔ سڑک کا کوئی تھڑا مل جاتا ہے سو جاتا ہوں۔ نہیں ملتا تو سارا دن اور ساری رات گھومتا رہتا ہوں۔‘‘

    ’’مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔ میں نے دو تین درخواستیں دی ہوئی ہیں۔۔۔ ان کا کچھ تو نتیجہ برآمد ہوگا۔‘‘

    ’’آب وہ درخواستیں لے آیئے۔۔۔ میری بھی درخواستیں لے آیئے اور ان کو ملا کر کاغذ کا ایک گھر بنا لیجئے۔‘‘

    ’’ ایک اخبار کچھ لکھتا ہے، ایک اخبار کچھ لکھتا ہے۔‘‘

    ’’یہ تو ہے۔‘‘

    ’’کس کی مانیں، کس کی نہ مانیں۔‘‘

    ’’آپ کسی کی نہ مانیں۔۔۔ اخبار پڑھنا ہی چھوڑ دیں۔‘‘

    ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ دنیا کا حال کیسے معلوم ہوگا؟‘‘

    ’’دنیا کا حال آپ کو خود بخود معلوم ہو جائے۔۔۔ یہ دنیا اصل میں سب بکواس ہے، اصل دنیا آپ کی ہے، جو چھوٹی سی ہے، اسی میں مگن رہیئے، اگر وہ ختم ہو جائے تو اللہ کا شکر بجا لایئے۔‘‘

    ’’آپ کیسی عجیب باتیں کرتے ہیں؟‘‘

    ’’تو پھر آپ اخبار پڑھتے رہیئے۔۔۔ جناح عوامی لیگ ہے، آزاد مسلم لیگ ہے، امکا لیگ ہے، ڈھمکا لیگ ہے۔۔۔ میں تو سمجھتا ہوں سب سے بہتر ہے کہ آپ ڈھمکا لیگ شروع کر دیجئے۔ اس کے بانی بن جایئے اورور دی کا کوئی رنگ مقرر کر لیجئے۔ ایک اخبار جاری کر دیجئے اور عیش کیجئے۔‘‘

    ’’آپ کے بچے اتنے بڑے ہو گئے ہیں، ان کی تعلیم کا کوئی بندوبست ہونا چاہیئے۔‘‘

    ’’میں ان کی تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

    ’’کیوں؟‘‘

    ’’میں خود سارا دن بندوبستوں میں الجھا رہتا ہوں۔۔۔ ایک ہزار ایک بندوبست ہے۔۔۔ درزی کے بل کا بندوبست، بنئے کے قرض کا بندوبست، بجلی کے بل کا بندوبست، پانی کا بندوبست، کسی عزیز کے گھر بدصورت سا لڑکا یا لڑکی ہو تو اس کو کچھ دینے کا بندوبست، دق ہونے والی ہے اس کا بندوبست، بیوی کو ہسٹریا ہے اس کا بندوبست، اب تو یہ سوچ رہا ہوں کہ خدا سب کے انجام کا بندوبست بھی کر دے۔۔۔ اگر گھر میں سے کوئی مر گیا تو اس کے کفن دفن کا بندوبست تو بھئی مجھ سے نہیں ہو سکتا۔‘‘

    ’’آپ قنوطی ہیں۔‘‘

    ’’میں صاحب قنوطی ہوں۔۔۔ پلوطی ہوں۔۔۔ سب کچھ ہوں۔‘‘

    ’’لیکن بچوں کی تعلیم کا تو۔۔۔‘‘

    ’’میں اس کی طرف دھیان نہیں دے سکتا۔‘‘

    ’’خیراتی اسکول ہیں۔۔۔ میرا مطلب ہے ان کی فیس معاف ہو سکتی ہے۔‘‘

    ’’مجھے معاف کیجئے۔۔۔ میں ایسےا سکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھانا نہیں چاہتا۔ جہاں سے وہ ہر روز نئی سے نئی گالی سیکھ کے آئیں گے۔ میں جانتا ہوں یہ اسکول، جنہیں معلوم نہیں اسکول کیوں کہا جاتا ہے۔ مغلظات کے گھر ہیں۔ بے راہ رویوں کی پرورش گاہ سےمیرا گھر اچھا ہے۔ اگر وہ مریں گے تو صاف ستھرے مریں گے۔‘‘

    ’’اجی سنیئے تو؟‘‘

    ’’اوہ آپ۔۔۔ مجھے بڑا ضروری کام ہے، معاف فرمایئے۔‘‘

    ’’معافیاں تم لاکھ مانگ چکے ہو۔۔۔ وہ میرا سو روپے کا قرض۔‘‘

    ’’میں دوا لینے جا رہا ہوں، میری بیوی بیمار ہے۔‘‘

    ’’میں ان گھسوں میں نہیں آنے والا۔۔۔ خدا کی قسم آج میرا قرض ادا نہ ہوا تو سر پھوڑ دوں گا۔‘‘

    ’’آپ کیوں زحمت اٹھاتے ہیں۔۔۔ میں خود ہی دیوار کے ساتھ ٹکر مار دیتا ہوں۔۔۔ یہ لیجیئے۔‘‘

    ’’ڈارلنگ!‘‘

    ’’جی!‘‘

    ’’ساری دکانیں چھان ماریں۔ تمہارے سائز کی ’’میڈن فورم بریزئیر نہیں ملی۔‘‘

    ’’اوہ ہاؤ سیڈ۔‘‘

    ’’میرا سائز ہی کچھ واہیات ہے۔‘‘

    ’’اوہ مولا۔۔۔ اپنے پیر دستگیر کے صدقے کبھی تو بھی ہمیں سو روپے کی شکل دکھائے گا۔‘‘

    ’’سنا ہے حکومت غور کر رہی ہے کہ طوائفوں اور کسبیوں کو شاہی محلے سے نکال کر ایک علیحدہ بستی میں بسا دے۔‘‘

    ’’وہ کہاں بسے گی جی؟‘‘

    ’’سنا ہے دریائے راوی کے پار۔‘‘

    ’’یہ اچھا ہے۔۔۔ طغیانیاں اور سیلاب عام آتے ہیں۔ ایک نہ ایک دن بہہ کر پھر شاہی محلے میں آ جائیں گی۔‘‘

    ’’دعوت تو جناب ایسی ہوگی کہ یہاں کی تاریخ میں یاد گار رہے گی۔۔۔ لیکن ایک افسوس ہے کہ فرانس سے جو میں نے خاص طور پر شمپین منگائی تھی وہ وقت پر نہیں پہنچے گی۔‘‘

    مآخذ:

    • کتاب : اوپر،نیچے اور درمیان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY