دویہ بانی: ایک جائزہ

محمد کاظم

دویہ بانی: ایک جائزہ

محمد کاظم

MORE BYمحمد کاظم

    ہون کنڈ کے چبوترے کے نیچے پتھریلی زمین پر جطگرو کسی بلی چڑھنے والے جانور کی مانند پچ؍اڑیں کھا رہا تھا۔ آنکھوں کے ڈلے باہر نکل آئے تھے۔ چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔ رگڑ سے جسم کی جلد گگہ جگہ سے چھل گئی تھی اور اس سے خون رس رہا تھا۔

    اس کی کربناک چینخ دور دور تک گونج رہی تھی۔ چینخ سن کر بالک کی سماعت لرز پڑی۔ معصوم دل و دماغ کا ریشہ ریشہ کپکپا اٹھا۔ خوش منظری کی آدی پر سکون آنکھیں ہولناک منظر کو دیکھ کر مضطرب ہو گئیں۔ مگر با با کے چہرے پر اضطراب کے بجائے اطمینان تھا۔ ان کی آنکھوں میں چمک دمک بھی تھی۔ با با کے چہرے کا سکون اور آنکھوں کی چمک دمک دیکھ کر بالک کی نگاہیں حیران ہو اٹھیں۔

    ’’بابا! اسے پیڑت کیوں کیا گیا؟‘‘ اس نے پریشان ہو کر سوال کیا۔

    ’’بیٹے! اسے ڈنڈ دیا گیا ہے۔‘‘ با با نے بڑے ہی شانت اور سپاٹ لہجے میں جواب دیا؟‘‘

    ’’ہاں، ڈنڈ۔‘‘

    ’’پر کیوں بابا؟‘‘

    ’’اس نے اپرادھ کیا ہے۔ ودھان کو توڑا ہے۔ مریادا کو بھنگ کیا ہے۔‘‘

    ’’کون سا ودھان؟ کیسی مریادا بابا؟‘‘

    ’’وہ ودھان جسے ودھاتا نے بنایا ہے۔‘‘

    ’’بابا کھل کر بتائیے نا اس نے کیا کیا؟‘‘

    ’’اس نے گھور پاپ کیا ہے۔ اس نے وہ سنا ہے جو اسے نہیں سننا چاہئے۔‘‘

    ’’بابا اس نے ایسا کیا سن لیا ہے جو اسے نہیں سننا چاہئے؟‘‘

    ’’اس نے دویہ بانی سنی ہے۔‘‘

    ’’دویہ بانی۔۔۔! بابا، دویہ بانی تو سننے کے لیے ہے۔ پھر اس کا سننا اپرادھ کیوں ہے، اور یدی اپرادھ ہے تو اسے تو ہم اور آپ بھی سنتے ہیں۔ ہمارے کان میں تو کبھی سیسا نہیں ڈالا گیا۔‘‘

    ’’مورکھ، بھلا ہمارے کان میں سیسا کیوں ڈالا جائے گا۔ دویہ بانی تو ہے ہی ہمارے کان کے لیے، اپرادھ تو اس کے لیے ہے۔‘‘

    ’’اس کے لیے اپرادھ کیوں ہے بابا؟‘‘

    ’’اس لیے کہ یہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘

    ’’یہ ہم میں سے کیوں نہیں ہے؟‘‘

    ’’اس لیے کہ یہ ہم سے الگ ہے۔‘‘

    ’’بابا یہ ہم سے الگ کیسے ہے؟‘‘

    ’’اس پرکار کہ۔۔۔‘‘ بابا چپ ہو گئے، کچھ دیر سوچنے کے بعد بولے۔

    ’’بیٹے تم ابھی بہت چھوٹے ہو، یہ باتیں تمہاری سمجھ میں نہیں آئیں گی۔ ابھی تمہاری آیو کھیلنے کودنے کی ہے۔ سوچنے سمجھنے اور چھان بین کرنے کی نہیں۔ جائو کھیلو کودو۔‘‘

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 5-8)

    ان مکالموں پر نظر ڈالنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی سنسکرت زدہ ہندی تخلیق کے حصے کا مطالعہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ غضنفر کا ناول ’’دویہ بانی‘‘ ان ہی الفاظ کے ساتھ شروع ہوکر ایک اہم تخلیق کا احساس دلاتے ہوئے مختلف اسلوب سے آشنا کروانے کے بعد ذہن میں کئی اہم سوال قائم کرکے اختتام کو پہنچتا ہے۔

    بیسویں صدی کے نصف آخر پر نظر ڈالتے ہیں تو اوائل کی تین دہائیاں (1960-1990 ) ناول کے فن کی ترقی و ترویج کے اعتبار سے مایوس کن نظر آتی ہیں۔ لیکن غضنفر کے ناول ’’پانی‘‘، عبدالصمد کے ’’دوگز زمین‘‘ اور پیغام آفاقی کے ’’مکان‘‘ کے منظر عام پر آنے کے بعد ناول کے فن کے برتنے والوں میں نہ صرف ایک خاص طرح کی توانائی نظر آتی ہے بلکہ موضوعات کی سطح پر اتنی رنگا رنگی دکھائی دیتی ہے کہ اس سے پہلے کے عہد میں نا پید تھی۔ جوگندر پال، انور خاں، حسین الحق، اقبال متین، شموئل احمد، الیاس احمد گدی، عشرت ظفر، شفق، علی امام نقوی، سید محمد اشرف، مشرف عالم ذوقی، صلاح الدین پرویز، یعقوب یاور، محمد علیم وغیرہ تیزی سے اپنے نئے ناولوں کے ذریعہ ادب کے افق پر نظر آتے ہیں۔ ان تمام ناول نگاروں کی تخلیق میں نہ صرف ایک نئی قوت نظر آتی ہے بلکہ موضوعات اور زبان کی سطح پر کئی رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں ایک اہم ناول نگار غضنفرکا نمائندہ ناول ’’دویہ بانی‘‘ نہ صرف اہمیت کا حامل بلکہ ناول کی تخلیق میں ایک اہم مقام کا حقدار ہے۔ حال آں کہ دویہ بانی سے پہلے ہی غضنفر اپنے پہلے ناول ’’پانی‘‘ سے ہی اتنے مقبول ہوگئے تھے کہ ان کی تحریر کا قاری کو انتظار رہنے لگا۔ اس کی وجہ ان کی شخصیت کے بجائے ان کا فن تھا۔ ہم واقف ہیں کہ ناول ’’پانی‘‘ میں انھوں نے ازل سے ابد تک کی انسانی پیاس کو ناول کا موضوع بنایا۔ اور اس موضوع کے اعتبار سے انھوں نے داستانی اور تمثیلی رنگ کو اپنایا۔ لیکن اسی ناول میں جب زمانہ حال کا حوالہ آتا ہے تو ایک نئی زبان ہمارے سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔ حضرت خضر اور شیو ساگر کے واقعات کا مطالعہ کرتے وقت مختلف اسلوب کا مزہ ملتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح ناول ’’کہانی انکل‘‘ میں بچوں کو کردار کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان کی مناسبت سے ایک نئی زبان پیش کی گئی ہے۔ خود غضنفر کا کہنا ہے،

    ’’سچ کہوں تو میں انسانی جبر کی کہانی لکھنا چاہتا ہوں۔ انسانی سماج نے تاریخ کی اندھی سرنگوں کو پار کرتے ہوئے جس طرح سے اپنا وجود لہو لہان کیا ہے، اس دکھ اور سوز کو میں اپنی تخلیقات میں واضح کر پایا اور اس جبر کو زیر کرنے کا فنکارانہ رویہ ابھار پایا تو میں خود کو خوش نصیب سمجھوں گا۔‘‘

    غضنفر اپنے اس مقصد کو ’’دویہ بانی‘‘ کے ذریعہ بروئے کار لانے میں نہ صرف کامیاب ہیں بلکہ اس کے ذریعہ بالیشور کے ساتھ ساتھ ان گنت ’’بالکوں‘‘ کو اپنے سماج کے متعلق غور و فکر کرنے اور سوال قائم کرنے کے لیے ثابت قدمی سے کھڑا کر دیا ہے۔ دویہ بانی سے ابھی ابھی جو اقتباس پیش کیا گیا ہے وہیں سے سماج میں موجود فرسودہ رواج اور اس کی مکمل صورت میں برتنے والے بابا صاحب جیسے دھرم اور سماج کے ٹھیکیداروں کی بربریت کو دکھانے کے ساتھ ساتھ بالک کے ذہن میں سوال پیدا ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہوتا ہے۔ بالک کی عمر کے ساتھ اسکا شعور اور سوال قائم کرنے کا سلسلہ بھی بالیدہ ہوتا ہے۔ بالک نہ صرف اپنے گرو بابا، ماں، بندیا اور بابو سے سوال کرتا ہے بلکہ خود سے سوال پوچھ کر آتم منتھن کی کوشش کرتا ہے۔ ایک اقتباس دیکھیں،

    ’’یدی جنن پرکریا ہر یگ میں ایک سمان رہی ہے اور پرارمبھک مانوئوں کا جنم بھی برتمان جنن کریا دوارا ہی ہوا ہے، تو ایک اونچ اور دوسرا نیچ کیوں ہے؟ سبھی ایک سمان کیوں نہیں؟ سبھی شیشو کے روپ میں کیوں نہیں نکلے؟‘‘

    اسپشٹ ہے کہ یہ انتر پیٹ سے نکلنے کے پشچات اتپن ہوا ہے؟ پیٹ میں تو سب ایک سمان ہوتے ہیں۔

    پیٹ سے باہر آنے کے پشچات ہی کوئی پالنے میں پلتا ہے اور کوئی پرال پر پروان چڑھتا ہے۔ باہر آنے کے پشچات ہی کسی کے ماتھے پر تلک چڑھتا ہے، کسی کے ہاتھ میں مالا، کسی میں کھڑگ اور کسی میں تھیلی پکڑائی جاتی ہے اور کسی کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں دیا جاتا۔ تو ارتھ یہ نکلا کہ یہ انتر بھیتر کا نہیں باہر کا ہے۔

    ارتھات یہ انتر باہر سے بنایا گیا ہے۔

    پرنتو پرشن یہ اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں کیا گیاہے؟

    کہیں ایسا تو نہیں کہ مانو نے مانو سکھ کے لیے ایسا کیا ہو؟

    پرنتو کس مانو نے؟

    سمبھو ہے، چنتن منن کرنے والے مانو نے۔

    اور یہ برہما؟

    کیا پتا برہما کی رچنا بھی اسی مانو نے کی ہو؟

    کیا؟

    ہو سکتا ہے؟

    پرنتو ایسا وہ کیوں کرے گا؟

    ’’اپنی بات میں بل اور وشواس کے لیے، اس میں آستھا استھاپت کرنے کے لیے۔‘‘

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 86-87 )

    ان سوالوں اور اس کے جواب کی تلاش میں آتم منتھن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بالک کس ذہنی کشمکش سے گزر رہا ہے۔ دراصل بالک کا ذہن سماج میں رہنے والے ہر ذی شعور شخص کا ذہن ہونا چاہئے۔ ہم سماج میں رہتے ہیں، زندگی بھی گزارتے ہیں لیکن اپنے اپنے حصار یا مفاد میں اس طرح مقید رہتے ہیں کہ بے شمار مسائل کے ہونے کے باوجود اس جانب ہمارا ذہن نہیں جاتا۔ بالیشور کی طرح اگر کسی کا ذہن جاتا ہے تو اسے جنونی قرار دے کر اس کی جانب سے اپنا ذہن ہٹاکر اپنے مقاصد کی حصولیابی میں جٹ جاتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی اگر وہ جنونی خاموش نہیں ہوتا اور اپنی فکر و آوازسے مسلسل آپ کے ذہن و دل پر چوٹ کرتا ہے تو خود کو اس سے بچائے رکھنے، یا اس کا ذہنی توازن بگاڑنے کی غرض سے مذہب کا سہارا لے کر مولوی اور پنڈتوں کی مدد سے اس پر کسی آسیب کا سایہ ہونا ثابت کرکے ان سے پیچھا چھڑا لیتے ہیں یا اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہونے کے فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک پنڈت کے پاکھنڈ کا پردہ فاش کرتے ہوئے غضنفر نے دویہ بانی میں لکھا ہے،

    ’’اچھا کیا، بہت اچھا کیا جو دوار پر آگئے۔ یہاں سے کوئی نراش نہیں لوٹا۔ اسے کیا، اس کے تو باپ کو بھی بھاگنا پڑے گا۔ ہم ابھی سے اسے بھگانے کا اوپائے آرمبھ کردیتے ہیں۔ پرنتو۔۔۔ جملہ ادھورا چھوڑ کر وہ بالو کے گھر والوں کے ہاتھوں کی طرف دیکھنے لگا۔‘‘

    پرنتو کیا مہاراج۔

    چڑھاوا لائے ہو۔

    ہاں مہاراج لائے ہیں۔

    ’’تو اسے اس گھیرے میں رکھ دو۔‘‘ اوجھا زمین پر بنے ایک بڑے سے دائرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

    چونا سے پتے اس دائرے میں چڑھاوے کے چاول، گھی، تل، دوب اور بتاشے رکھ دئے گئے۔

    اوجھا چڑھاوے کے سامان کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے بولا۔

    بیتال کے انوروپ تو نہیں ہے، پر کوئی بات نہیں۔ ابھی اسی سے کام چلانے کا جتن کرتا ہوں۔

    ’’کیا نام ہے تیرا؟‘‘ اس نے اپنی ڈرائونی آنکھوں سے بالو کو گھورتے ہوئے پوچھا۔

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 89-90)

    ’’آج بس اتنا ہی اب اسے گھر لے جائو۔ اگلے سپتاہ اسی دن اسی سمے اسے پھر لانا۔۔۔ اور سنو! اس کا بھوت بہت بھاری ہے اسے بھگانے میں بڑا بل لگانا پڑتا ہے اور پنڈ چھوڑنے کے لیے اسے چڑھوا بھی بھاری چاہئے۔ اگلی بار آتے سمی اس کا دھیان اوشیہ رکھنا۔‘‘

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 91)

    دویہ بانی کو زیادہ تر ناقدوں نے دلت ادب پر لکھا گیا پہلا ناول کہا ہے۔ اور ان میں سے بھی اکثر تنقید نگاروں نے صرف اسی نکتہ نظر کے تحت اس ناول کو دیکھا اور پرکھا ہے۔ دویہ بانی ایک دلت ناول تو ہے لیکن یہ صرف دلت کے مسائل کو نہیں اٹھاتا ہے۔ اس ناول کے ذریعہ غضنفر نے کئی اہم مسائل کو نہ صرف فنکاری سے پیش کیا ہے بلکہ اسے حل کرنے کی جانب صاف اشارہ بھی کیا ہے۔ اس ناول میں دلت اور اونچے طبقے کے درمیان قائم فاصلہ، برہمن کے ذریعہ دلت پر ڈھائے جانے والے مظالم کو ہی نہیں پیش کیا گیا ہے بلکہ دو تہذیب کے درمیان قائم فاصلہ اور دونوں طبقوں یا افراد کے درمیان ذہنی دوری اور اس سے بے توجہی کو پیش کیا گیا ہے۔ اگر یہ دلت ادب ہوتا تو ان فرسودہ نظام جو بابا کے ذریعہ قائم ہے کی مخالفت کوئی دلت یعنی ’’بالو‘‘ یا ’’بندیا‘‘ کے ذریعہ کی جاتی، اس ناول کا مرکزی کردار ’’بالو‘‘ ہوتااور اس کی رہنمائی میں تمام دلت یکجا ہوکر انقلاب لاتے۔ لیکن ناول نگار کا کمال یہ ہے کہ دلت کے مسائل کو پیش کرنے اور اس کے حل کے لیے ’’بالو‘‘ سے کام نہیں لیتاہے بلکہ برہمن ’’بالیشور‘‘ یعنی ’’بالک‘‘ ان تمام مسائل اور فرسودہ رسم و رواج پر سوال قائم کرتا ہے۔ پورے ناول میں ایک بھی سوال کسی دلت کردار خواہ وہ ’’بالو‘‘ ہو یا ’’جھگڑو‘‘ یا پھر ’’بندیا‘‘ نہیں قائم کرتے بلکہ ان تمام مسائل کو ’’بالیشور‘‘ اٹھاتا ہے اور پہلے ’’بالو‘‘ اور پھر ’’بندیا‘‘ کے ذریعہ اس کے سماج، تہذیب اور ذہن کی اصلاح کرتا ہے۔ اس سے ان میں تبدیلی بھی آتی ہے۔ دیکھیں،

    ’’بالو، وہاں بھیڑ کیسی ہے۔‘‘

    سوامی، لوگ مانس کے لیے اکٹھا ہوئے ہیں۔

    مانس! کیسا مانس؟

    کوئی ڈانگر مرا ہے۔

    تو کیا اس مرے ہوئے ڈانگر کا مانس لوگ لے رہے ہیں؟

    جی سوامی۔

    مانس کا کیا کریں گے؟

    کھائیں گے۔

    کھائیں گے؟

    جی سوامی۔

    پرنتو مرت پشو کا مانس کھانا تو ورجت ہے۔

    مجھے کیا پتہ سمامی، ہم تو یہی کھاتے ہیں۔

    تم لوگ اسے کیوں کھاتے ہو؟

    پیٹ بھرنے کے لیے۔

    پیٹ بھرنے کے لیے سڑا مانس کھاتے ہو؟

    جی۔

    کیا سڑے مانس سے گھن نہیں آتی؟

    نہیں۔

    ’’بالک کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔‘‘

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 41-42)

    بالو! بالک ے بالو کو مخاطب کیا۔

    جی سوامی۔

    تمہارا گھر گندہ کیوں ہے؟

    میرا گھر گندہ ہے! بالو چونکا۔

    ہاں بہت گندہ ہے۔ تمہاری موری میں تو کیڑے بھی ہیں۔

    کیڑے بھی ہیں! ہم نے تو کبھی دیکھا نہیں۔

    کیا کہا؟ تم نے اپنی موری میں کبھی کیڑا نہیں دیکھا؟

    بالو کے آنکھوں کی حیرت بالک کی انکھوں میں منتقل ہو گئی۔

    نہیں سوامی میں سچ کہہ رہا ہوں۔

    آشچریہ ہے! اچھا کیڑے نہیں تو اپنے آنگن میں گندگی تودیکھی ہوگی۔

    پتہ نہیں کبی دھیان ہی نہیں دیا۔

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 45 )

    بالیشور کو یہ بات کچھ زیادہ پریشان کرتی ہے کہ انھیں یہ گندگی نظر کیوں نہیں آتی؟ یہ لوگ گندی میں رہتے ہیں۔ گندے نالے میں نہاتے ہیں، جاں سے بدبو آتی ہے۔ یہ بدبو انھیں کیوں نہیں محسوس ہوتی؟ ان کے مرد اور عورت ننگے ہوکر ایک ساتھ، ایک ہی نالے میں نہاتے ہیں۔ مرد بے لباس ہوتے یں۔ عورتوں کے جسم کے نچلے حصے می ساڑی ہوتی ہے لیکن الٹے ہوکر پانی میں ڈبکی لگاتے وقت ان کے جسم کے تمام حصے نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود نہ تو ان عورتوں کو شرم آتی ہے اور نہ ان مردوں کے اندر کسی طرح کا جذبہابھرتا ہے۔ انسان تنا بے حس کیسے ہو سکتا ہے۔ اس جانب بالو اور بندیا کی مدد سے بالیشور اصلاحی کام شروع کرتا ہے۔ نتیجے کے طور پر بالو اور بندیا دونو کے اندر تبدیلی صاف دکھائی دیتی ہے۔ دیکھیں،

    ’’بالو کی کوٹھری سے نکلتے وقت بالیشور کی نظر اس دیوار سے جا ٹکرائی جس میں ایک کھڑکی کھل گئی تھی۔ چندلمحے تک بالیشور کی نگاہیں اس کھلی ہوئی کھڑکی پر جمی رہیں اور کھڑکی سے آنے والیہوا کا لمس محسوس کرتی رہیں۔‘‘

    کوٹھری سے نکل کر آنگن میں آتے ہوئے بالیشور نے یہ بھی محسوس کیا کہ بالو کا آنگن پہلے والا آنگن نہیں رہ گیا تھا۔ اس کی نظر نابدان تک پہنچ کر ٹھٹھک سی گئی۔

    نابدان کا کیچڑ غائب تھا۔ کسی کیڑے یا پلو کا نام و نشان تک نہ تھا۔

    اس نے پیچھے مڑ کر بالو پر نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ بالو کی زرد پیشانی چمک رہی تھی۔ اس کی بجھی ہوئی آنکھوں میں کوئی چنگاری دہک رہی تھی۔”

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 114-115)

    ’’دوسرے دن بندیا نے جیسے ہی نالے میں پائوں اتارا اس کے قدم ٹھٹھک گئے۔ اسے لگا جیسے کسی نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا ہو۔ اس نے غور کیا تو محسوس ہوا کہ اس کی ناک کے آس پاس کوئی تیز بدبو سمٹ آئی ہے۔ اس نے اپنا پیر پانی سے باہر کھینچ لیا۔ اس کی نگاہیں پانی کے نالے پر جم گئیں۔ پانی کا گدلا رنگ اس کی پتلیوں میں چبھنے لگا۔ نالے کے گندے گاڑھے پانی میں تیرتی ہوئی بہت سی گندی چیزیں اسے دکھائی دینے لگیں۔ وہ خاموشی سے نہائے بغیر گھر واپس آگئی۔‘‘

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 131)

    ان تبدیلیوں کو دیکھنے کے بعد یہ امید نظر آتی ہے کہ اگر انسان چاہے تو اکیلا بھی بہت کچھ کر سکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے دوران اپنی کئی محبوب چیزوں کو گنوانا پڑتا ہے۔ بالیشور کو اپنا محبوب سیوک نما دوست بالو اور اپنی محبوبہ بندیا کو گنوانا پڑا لیکن اس نقصان کے بعد جو کامیابی ملی وہ نہ صرف دیرپا بلکہ سماج کے لیے ایک بہتر کل کی امید اور انسانیت کے فروغ کے لیے ایک بہتر راستہ ہموار ہوتا نظر آتا ہے۔ ناول میں بالک کو کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے ی دادا سے مقابل ہونا پڑتا ہے۔ بچپن سے بابا کی جو شخصیت بالک کی نظر میں رہتی ہے اس کے اچانک ٹوٹنے سے بالک کو صدمہ بھی ہوتا ہے لیکن اس سے اس کے ارادے کو اور بھی مضبوتی حاصل ہوتی ہے۔ یہاں غضنفر کی فن کاری اپنے عروج پر نظر آتی ہے کہ انھوں نے چمٹولی میں ایک گھر میں ہو رہی گفتگو بالک کو سنایا ہے، جس سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا باپ بھی ان فرسودہ نظام کے خلاف تھا لیکن وہ اپنے باپ یعنی بالک کے دادا کے خلاف خود کو ثابت قدم نہیں رکھ سکا اور ایک دن گھر چھوڑ کر چلا گیا۔

    اسی باپ کا خون بالک میں دوڑ رہا ہے۔ بالک اپنے دادا کے خلاف نہ صرف کھڑا ہوتا ہے بلکہ علامتی طور پر وہ اس کا خاتمہ بھی کرتا ہے۔ دیکھیں غضنفر کی فنکاری،

    ’’کافی دیر تک اسے نیند نہیں آئی اور جب آئی تو ایک ایسا خواب اس کی آکھوں میں آن سمایا کہ اس کی چیخ نکل گئی۔‘‘

    اس نے دیکھا کہ اجلے رنگ کا نہایت چمکدار ایک لمبا سا سانپ بابا کی چارپائی کے نیچے سے نکلا اور سرہانے کی طرف اپنی دم پہ کھڑا ہوگیا۔

    اس کا پھن ہاتھی کے کان کی طرح چوڑا تھا جس پر عجیب و غریب قسم کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ اس کی آنکھوں سے شعائیں اور منھ سے آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں۔ رہ رہ کر وہ پھنکار مارتا تھا اور آگ کی لپٹیں دور دور تک لپک پڑتی تھیں۔

    ’’اس کی دم میں بھی ایک منھ تھا۔ اس منھ سے گپتی کی مانند ایک پتلی زبان بار بار باہر نکل رہی تھی۔ زبان منھ سے نکل کر جہاں تک پہنچتی تھی، زمین پر سیاہ لکیریں بن جاتی تھیں۔ سانپ کچھ دیر تک بابا کے سرہانے اپنی دم پرکھڑا ڈولتا اور پھنکار مارتا رہا۔ پھر اچانک وہ نیچے جھکا اور اپنا رخ دروازے کی طرف کرکے جھکتا چلا گیا۔ فرش سے لگتے ہی اس کے جسم سے پھٹ پھٹانے کی آواز نکلنے لگی۔ اس خوفناک آواز کے ساتھ اس نے آگے سرکنا شروع کیا اور کمرے سے نکل کر کبوتروں کے کابک تک پہنچ گیا۔ کابک کے اندر اپنا منھ ڈال کر کئی کبوتروں ڈسا۔ وہاں سے مویشیوں کے طبیلے کی طرف بڑھا، کچھ میمنوں کو کاٹ کر رسوئی گھر میں گھسا۔ چھینکے کی ہانڈی پر چڑھ کر دودھ پیا اور لہراتا بل کھاتا بابا کے کمرے میں واپس آگیا۔‘‘

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 12)

    ’’بابا کی پیشانی پر چندن کا ٹیکا چمک رہا تھا۔ ٹیکا آہستہ آہستہ پھیلنے لگا۔ دائرہ بڑھنے لگا۔ ٹیکے کی ٹکیا چاند بنی اور چاند سے سورج میں تبدیل ہو گئی۔ سورج اپنی گرمی پھینکنے لگا۔ دور دور تک چیزیں جھلسنے لگیں۔

    اچانک وہ سورج پٹاری میں بدل گیا۔ سنہری پٹاری کے اندر سانپ کی کنڈلی جھلملانے لگی۔ اس کنڈلی کو دیکھ کر بالیشور کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ اس کے اعصاب تننے لگے، چہرہ بگڑنے لگا۔ مٹھتیاں بھینچنے لگیں۔‘‘

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 117)

    ’’ہون استھل کے ارد گرد کھڑے لوگوں کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ ان کی آنکھوں میں خوف کی پر چھائیاں ڈول رہی تھیں۔ لوگوں کی اس حالت کا سبب وہ سانپ تھا، جو چبوترے کے اوپر کنڈلی مارے بیٹھا تھا اور اس کی سرخ زبان بار بار منھ سے باہر نکل رہی تھی۔ اس کا پھن چاروں طرف گھوم رہا تھا۔ یہ وہی سانپ تھا جس نے کچھ دیر پہلے کسی کے گھر میں گھس کر میمنوں کو ڈس لیا تھا۔ سبھی کی آنکھیں اس کی طرف سہمی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ مگر کسی کی ہمت آگے بڑھنے کی نہیں ہو رہی تھی۔

    بالیشور کچھ دیر تک اس سانپ کی طرف اپنی نظریں گڑا کر دیکھتا رہا۔ پھر تیزی سے اس کی طرف لپکا اور آن کی آن میں اس کی گردن کو منھ کے پاس سے پکڑ کر اسے چبوترے سے اٹھا لیا۔

    حیرت و استعجاب سے بھری لوگوں کی نگاہیں بالیشور کی جانب مرکوم ہو گئیں۔

    بالیشور کی مٹھی میں دبا سانپ اپنی گردن کو پوری طاقت سے گھمانے اور بالیشور کی گرفت سے نکل جانے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کا نچلا دھر بھی زور لگانے لگا۔ دم بری طرح بل کھانے لگی۔

    سانپ کا منھ کھل گیا۔ اس کی سرخ زبان لپ لپانے لگی۔ دانت دمکنے لگے۔ آنکھیں آگ اگلنے لگیں۔ مگر بالیشور کی گرفت ڈھیلی نہ ہوسکی۔ بلکہ اس کی پکڑ اور مضبوط ہو گئی۔ گردن کستی چلی گئی۔ منھ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ زبان اینٹھ کر ساکت ہو گئی۔ اس کی سرخی سیاہی مائل زردی میں تبدیل ہوگئی۔ آنکھوں کی چنگاریاں بجھ گئیں۔ دم سیدھی ہوکر لٹک گئی۔ دھیرے دھیرے دم کا ہلنا بھی بند ہو گیا۔‘‘

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 159-160)

    دویہ بانی کے تخلیق کار کہیں بھی جذباتی نہیں نظر آتے۔ وہ کہانی بیان کر رہے ہوں یا کردار پیش کررہے ہوں۔ ان کے ذہن میں معروضیت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہناول نگار کسی خاص کردار کے اندر داخل ہوکر اپنی بات کہتا ہے۔ لیکن دویہ بانی میں ایسا لگتا ہے کہ ہر کردار ناول نگار کے اندر گھس کر اپنی بات کرتا ہے۔ یعنی یہ فیصلہ کرپانا مشکل ہے کہ ناول نگار کا نمائندہ کردار کون ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کہانی کے مرکزی کردار کو ناول نگار کا نمائندہ مان لیتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ یہ درست نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی کردار ابتدا میں دبو ہوتا ہے اور اچانک اس کے اندر ایسی تبدیلی آتی ہے کہ وہ اشتعال انگیز باتیں کرتا ہے۔ یہ تبدیلی کسی کردار کے لیے فطری تبدیلی نہیں ہوتی۔ دویہ بانی کے تمام کردار اپنی ذہنیت کے ساتھ مکمل صورت میں موجود ہیں۔ ہر کردار کے اندر تبدیلی کا جواز موجود ہے۔ مثال کے طور پر اس ناول میں جس عہد کو پیش کیا گیا ہے اس عہد میں عورتیں مرد کے خلاف آوام نہیں اٹھا سکتی تھیں۔ مرد کی تمام حرکتوں کو نہ صرف بغیر کسی احتجاج کے قبول کرتی تھیں بلکہ اسے Justify بھی کرتی تھیں۔ ایسی ہی ایک عورت بالک کی ماں کی صورت میں اس ناول میں نظر آتی ہیں۔ ناول کا ایک ٹکڑا دیکھیں جس سے اس کی عکاسی بخوبی ہوتی ہے،

    ’’ماں! میں بندیا سے ویواہ کرنا چاہتا ہوں۔

    کون بندیا؟ ماں نے چونکتے ہوئے پوچھا۔

    وہی بندیا جو کبھی ہمارے گھر کام کرتی تھی۔

    بندیا کی اصلیت معلوم ہوتے ہی ماں کی آنکھوں میں حقارت اور نفرت کا ملا جلا تاثر ابھر آیا۔ وہ اپنی آواز میں نا پسندیدگی کا انداز لاتے ہوئے بولی۔

    کیا ہمارے کل میں تمھارے یوگیہ کوئی لڑکی نہیں ہے؟ کیا جدھر کی ساری لڑکیاں مر گئی ہیں جو تم ادھر کی چھوکری کو گھر میں ڈالنا چاہتے ہو۔

    ماں! بندیا میری پریمیکا ہے اور پریمیکا کا کوئی چھیتر نہیں ہوتا۔ اس کی کوئی جات نہیں ہوتی۔ کوئی دھرم نھیں ہوتا۔ پریمیکا کیول پریمیکا ہوتی ہے۔ اور ایک بات اور بھی ہے ماں!

    وہ کیا؟

    وہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے۔

    تو کیا ہوا؟

    ادھر کی استریاں تو ہمارے پرشوں کے بچے کی ماں بنتی ہی رہتی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کے گربھوتی ہوجانے کا ارتھ یہ نہیں کہ تم اسے اپنی پتنی بنالو۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔‘‘

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 137)

    ’’پاپ، کیسا پاپ؟ بابا نے کوئی پاپ نہیں کیا ہے۔ داسی کے ساتھ سمبندھ رکھنا واستو میں کوئی پاپ نہیں۔ داسی ہوتی ہی اس لیے ہے کہ سوامی جس پرکار چاہے اس کا اپیوگ کرے۔ میں نے اسی لیے اس کے ساتھ تمہارے سمبندھ کی سوچنا کو برا نہیں مانا کہ تم نے بھی داسی کا اپیوگ کیا ہے اور اسی لیے یہ کسی ودھی ودھان کے وردھ بھی نہیں ہے۔‘‘

    (دویہ بانی، صفحہ۔ 140)

    دویہ بانی کا موضوع صرف دلت کا استحصال یو شلوک کے سننے پر انھیں سزا دینا یا ان کے کانوں میں سیسا ڈال دینا نہیں ہے۔ یہاں ناول نگار نے دویہ بانی سے مراد ہر بری چیز کو اچھی میں تبدیل کرنا، ہر بری تہذیب و ثقافت کو اچھا بنانا اور ہر سماج میں موجود فرسودہ روایات کو ختم کرنا ہے۔ ہم اس سے واقف ہیں کہ انسان جس ماحول، سماج اور جیسے لوگوں کے درمیان رہتا ہے اس کا اثر قبول کرتا ہے۔ اس لیے بالو اور بندیا جیسے لوگ جہاں رہتے ہیں ویسے ہی ہوتے ہیں۔ انھیں چمٹولی کی گندگی کا احساس بھی نہیں ہوتالیکن جیسے ہی بالیشور اس جانب توجہ دلاتا ہے تو نہ صرف انھیں اس کا احساس ہوتا ہے بلکہ وہ اس میں تبدیلی بھی لاتے ہیں۔ یہ لوگ بالیشور کی صحبت میں نہ صرف اچھی اور سچی باتیں سیکھتے ہیں بلکہ فکر کی سطح پر بھی بالیدہ ہوتے ہیں جس کا اثر ان کی شخصیت پر صاف دکھائی دیتا ہے۔ ناول نگار انھیں خیالات اور اس تبدیلی کو علامت بنا کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ویدک عہد ہی نہیں بلکہ کسی بھی عہد میں اس طرح کے ماحول اور سماج میں تبدیلی لانے کے لیے ایک بالیشور کی ضرورت ہے اور یہ بالک ہم میں موجود ہے لیکن ہم میں بالیشور کی طرح سوال اٹھانے کی ہمت نہیں ہے اور جب تک ہم یہ جرت نہیں کریں گے ہماری حالت چمٹولی جیسی ہی رہے گی۔ اس کا اندازہ ہم آج بھی اپنے آس پاس کے ماحول کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں۔

    دویہ بانی کی زبان پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ سنسکرت زدہ ہے۔ اس کا اسلوب اردو سے میل نہیں کھاتا۔ اس سلسلے میں یہ عرض کرنا بیجا نہ ہوگا کہ کسی بھی تخلیقی فن پارے کی زبان کا تعین اس کے موضوع کی مناسبت سے کیا جاتا ہے۔ اور اگر اس تخلیق میں کردار پیش کئے جا رہے ہیں تو کردار کیاپنی سماجیات ہوتی ہے اور اس کی مناسبت سے اس کی زبان کا تعین ہوتا ہے۔ دویہ بانی میں ویدک عہد کو پیش کیا گیا ہے تو اس میں سنسکرت کے اثرات والی زبان نہیں ہوں گی تو کیا آج کی زبان ہوگی۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ زبان کی سطح پر یکسانیت ہوبلکہ کردار کی مناسبت سے نہ صرف زبان میں تبدیلی دکھائی دیتی ہے بلکہ اس کے ڈکشن کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے۔ جہاں مکالمے ہیں وہاں تو سنسکرت زدہ زبان نظر آتی ہے لیکن بیانیہ خالص اردو کے لباس میں مکمل صورت میں موجود ہے۔ اگر دویہ بانی کے شلوک کے تراجم کو دیکھیں تو ایک خاص شعری آہنگ کا احساس ہوتا ہے۔ ناول کے پیش کئے گئے حصے کو ہی اگر دیکھیں تو اس کا ثبوت مل جائے گا۔

    گفتگو کو سمیٹتے ہوئے اگر مختصراً یہ کہا جائے کہ غضنفر نے جدید اردو ناول کو جن مسائل سے روشناس کروایا ہے اس جانب ان کے ساتھ ساتھ کئی فنکاروں نے خاص توجہ دی ہے جس کا سہرا غضنفر کے سر بھی جاتا ہے۔ انھوں نے فکشن کو جس ڈکشن، بیانیہ اور زبان کے e Rang سے واقف کرایا ہے وہ بہت سے ناول نگاروں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کی ناول نگار ی پر نظر ڈالیں تو موضوعات اور زبان کی سطح پر جتنا تنوع غضنفر کے یہاں ملتا ہے کہیں اور کم کم دکھتا ہے۔ ان کے ناول میں کبھی کوئی مسئلہ براہ راست نظر نہیں آتا بلکہ اس میں معنوی سطح پر اتنی تہہ داری اور گہرائی ہوتی ہے کہ فن پارے کو جتنی بار پڑھئے ان کی معنویت نئے سرے سے سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔ اس لیے ان کا ناول تھوڑا پیچیدہ، غیر روایتی اور تجربہ پسند نظر آتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ان کے تمام ناول یکساں اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ کچھ ناول موضوع کی سطح پر کمزور ہیں تو کسی میں کرافٹ مین شپ نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود ان کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے کیوں کہ انھوں نے ایک طرف ’’پانی‘‘ میں اردو زبان کی مہارت اور خلاقی دکھائی ہے تو دوسری جانب ’’دویہ بانی‘‘ جیسا لافانی ناول لکھ کر نہ صرف ہندو تہذیب کے دیرینہ فرسودہ نظام کی نقاب کشائی کی ہے۔ بلکہ ناول کی تاریخ میں اپنا نام درج کرانے کی راہ ہموار کرلی ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY