فاروقی بھائی

احمد مشتاق

فاروقی بھائی

احمد مشتاق

MORE BYاحمد مشتاق

    تمہیں حیرانی تو ہوگی کہ آخر یکا یک میں آپ جناب سے تم پر کیسے اتر آیا۔ یہ تمہاری شاعری اور تمہارے افسانوں کا کرشمہ ہے۔ ویسے بھی یہ جان کر کہ تم عمر میں صرف ڈیڑھ برس چھوٹے ہو (میری پیدائش یکم مارچ 1933ء کی ہے) میں نے سوچا اب بے تکلف ہوکر دوستی کرہی لینی چاہیے۔

    تمہارے کچھ مضامین تو میں نے پہلے بھی پڑھ رکھے تھے شب خون میں بھی اور دوسرے رسالوں میں بھی لیکن تمہاری شاعری اور تمہارے افسانوں کو پڑھنے کا پہلی بار موقع ملا اور سچی بات یہ ہے کہ تمہارے یہ دونوں کام مجھے بے حد پسند آئے۔

    شاعری میں تمہاری غزلیں اور رباعیاں بالخصوص اور افسانوں میں ’’سوار‘‘ اور ’’ان صحبتوں میں آخر‘‘۔ میر پر تمہارا یہ افسانہ پڑھ کر تو میں سناٹے میں آگیا تمہاری کچی اور پکی عمر کی رباعیوں کاایک اپنا لطف ہے۔ خارآہن ہوں برگ زر ہوجاؤں والی رباعی تو نڈھال کرگئی۔

    اب غزلوں کی سنو! مجموعی طور پر تمہاری غزلوں کا تاثر بھرپور ہے لیکن بعض غزلیں اور کچھ اشعار تو ایسے ہیں کہ بڑے بڑوں کے ہاں نہ ملیں گے۔

    تمہاری جو غزلیں مجھے بہت اچھی لگیں ان کے پہلے مصرعے یہ ہیں،

    (۱) یہ تاب و تب یہ ہوائے ہنر اسی سے ملی

    (۲) شعلہ بہار رنگ ہے بھڑکی ہوئی ہے آگ

    (۳) اک لفظ وہ بھی بانجھ یہاں کس طرح بنے

    (۴) بس کہ سجدے کے جتن شیخ حرم نے نہ کیے

    (۵) بدل گئی ہے بہار و خزاں دل زدگاں

    (۶) صفحہ خاک تھا میں سات سمندر وہ شخص

    اور جن اشعار نے واقعی مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے وہ یہ ہیں

    یہ کس بدن کا تصرف ہے روئے صحرا پر

    لگائی پیٹھ جو میں نے کمر اُسی سے ملی

    رگ میں نشتر کر گئی شام کی ٹیڑھی ہوا

    پھول نے زیر زمیں اپنا بستر کرلیا

    داغ میں ہے گئے دنوں کی مہک

    اڑ گئی گرچہ شوخ تابی سب

    اب ریت ہو چلی ہے پچھلے برس کی بارش

    بادل نے راہ بدلی پھر گھوم کر نہ دیکھا

    سینہ چورنگ اور اک گوشے میں مہتاب کی لو

    صبح کاذب میں یہ دیکھا پہ بیاں کس سے کروں

    اب کے دھوئیں میں خون کی سرخی کا رنگ ہے

    یوں ان گھروں میں پہلے بھی لگتی رہی ہے آگ

    ربط کا زہر گل زرد سا صحنِ دل میں

    موت کی طرح سے اُترا مرے اندر وہ شخص

    اس دل کے دشت شورہ پہ ٹکتا نہیں ہے کچھ

    حیراں ہوں تیرے قصر یہاں کس طرح بنے

    میرے منہ پر تو ہوس کی اک علامت تک نہ تھی

    وہ جھجک کر ہٹ گئی کچھ مجھ سے پوچھا کیوں نہیں

    بھردیا ایک توجہ سے ہوس کا کشکول

    حصے جلووں کے ترے مہر کرم نے نہ کیے

    یہ اشعار تو پہلی ہی قرأت میں اپنا کام کرگئے۔ ابھی میں نے دھیان لگاکر تمہاری کتاب پڑھی نہیں۔ شاعری تو جیسا کہ تم مجھ سے بہتر جانتے ہو بار بار پڑھنے پر ہی اپنی جھلک دکھاتی ہے۔ ’’شعلہ بہار رنگ ہے بھڑکی ہوئی ہے آگ‘‘ والی غزل پر تو میرؔ بھی تمہیں داد دیے بغیر نہ رہتے۔ اس کے علاوہ غالبؔ کی زمیں میں لکھی ہوئی تمہاری نعت کا یہ شعر تو لاجواب ہے۔

    آں علم و فن کہ ارض و فلک راکند شکار

    یک تیر بے خیال کمانِ محمدؐاست

    سبحان اللہ۔ اسے توشۂ آخرت سمجھو بھائی۔

    تنقید و تحقیق پر لکھ لکھ کر تو تم نے ڈھیر لگادیے۔ اب شاعری کی طرف واپس آجاؤ۔ غزل لکھو۔ علم کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ادراک و احساس کی دولت سے بھی مالامال کیا ہے۔ چلتی بولتی ہوئی بحروں میں غزلیں لکھو۔ ان بحروں میں کھیل کھیلنے کے مواقع بہت ہوتے ہیں۔

    افسانے لکھ کر تو تم نے ثابت کردیا ہے کہ اس میدان میں منفرد ہو۔ جہاں اتنے افسانے لکھے ہیں ایک افسانہ انعام اللہ خاں یقین پر بھی لکھ ڈالو۔ یقین بھی اپنے زمانے میں ایک ہیرو تھا۔ اس کا ایک شعر مجھے اب تک یاد ہے کوئی پچاس برس پہلے اس کا د یوان پڑھا تھا۔ شعر یہ ہے

    یہ بلبلوں کا صبا مشہد مقدس ہے

    قدم سنبھال کے رکھیو یہ تیرا باغ نہیں

    اور ہاں اٹھارہویں صدی کا تہذیبی اور سیاسی منظر ایک بڑے ناول کا متقاضی ہے۔ آخر ٹالسٹائی کے ’’جنگ اور امن‘‘ کے مقابلے کا ناول اردو میں کیوں نہیں لکھا جاسکتا۔ تم سے زیادہ اس کام کا اور کون اہل ہوگا۔ اٹھارہویں صدی کے ہندوستان کا زمانہ اپنی ساری دغابازیوں اور غداریوں کے باوجود ایک مسحور کن زمانہ تھا بلکہ یوں میں تو سمجھتا ہوں کہ اسے اتنا سحر آفریں بنانے میں ان غداریوں اور دغابازیوں کا بھی حصہ ہے۔ یگانہ مرحوم بھی اس زمان کے سحر میں گرفتار ہوں گے ورنہ وہ یہ شعر شاید ہی لکھ سکتے۔

    کوئی میری آنکھ سے دیکھتا یہ زوالِ دولتِ رنگ و بو

    کہ بہارِ حسن کی شام کو بھی عجیب جلوہ گری رہی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے