غزل کا فن

آل احمد سرور

غزل کا فن

آل احمد سرور

MORE BYآل احمد سرور

    غزل کے سلسلے میں پہلے اپنے دو شعر پڑھنے کی اجازت چاہتا ہوں۔

    غزل میں ذات بھی ہے اور کائنات بھی ہے

    ہمارے بات بھی ہے اور تمہاری بات بھی ہے

    سرور اس کے اشارے داستانوں پر بھی بھاری ہیں

    غزل میں جوہرِ اربابِ فن کی آزمایش ہے

    یعنی غزل میں ذاتی واردات کا بیان تو ہے ہی اس کے ساتھ کائنات بھی ذات کے حوالے سے موجود ہے۔ اس کے علاوہ غزل کا آرٹ اشاروں کا آرٹ ہے اور یہ اشارے بڑی بڑی داستانوں کو اپنے اندر سموے ہوئے ہیں۔

    غزل کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے کچھ لوگ اس حقیقت سے چشم پوشی کرنے لگے ہیں کہ غزل ساری شاعری نہیں ہے اور نہ غزل کو ساری شاعری کی آبرو کہہ کر دل خوش کر لینا مناسب ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ غزل ہماری شاعری کی ایک اہم اور قابل قدر صنف ہے اور ہردور میں زندگی کے حقائق کی عکاسی اپنے مخصوص انداز اور اسلوب میں کرتی رہی ہے۔ اسی اسلوب کو تغزل کہا گیا ہے۔

    غزل فن یا آرٹ ہے بھی یا نہیں، اس پہلو پر بھی بحث ہوئی ہے۔ حالی تو صنف غزل کے خلاف ہرگز نہیں تھے۔ وہ غزل میں اصلاح چاہتے تھے اوریہ اصلاح غزل کے موضوعات کے دائرے میں تھی۔ غزل کی ساخت اور ہیئت پر انھیں کوئی اعتراض نہیں تھا مگر غزل کی ہیئت اور ساخت پر وحید الدین سلیم، عظمت اللہ خاں، جوش ملیح آبادی اور کلیم الدین احمد کے اعتراضات بنیادی ہیں۔ ان لوگوں کا اعتراض غزل کی ریزہ خیالی اور ریزہ کاری پر ہے۔ ان کے نزدیک ہر فن پارے میں مضمون کا تسلسل ضروری ہے اور ابتداء وسط اور تکمیل کااحساس بھی۔ غزل چونکہ منفرد اشعار کا ایک گلدستہ ہے اور اس کے فارم میں بھی ربط وتسلسل کی شرط نہیں ہے، اس لیے ان حضرات کے نزدیک غزل بے وقت کی راگنی ہے یا بقول کلیم الدین احمد نیم وحشیانہ شاعری۔

    عظمت اللہ خاں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اردو شاعری کی ترقی صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے کہ غزل کی گردن بے تکلف ماردی جائے۔ اس کے جواب میں ابواللیث صدیقی اور دوسرے حضرات نے غزل کے اشعار میں تسلسل تلاش کرنے کی سعی کی تھی۔ اس سلسلے میں حامد حسن قادری کا رویہ زیادہ دیانت داری پر مبنی تھا۔ انھوں نے کہا تھاکہ غزل کے اشعار میں تسلسل قطعی ضروری نہیں ہے۔ غزل میں وحدت خیال کا سوال ہی نہیں ہے، ہاں وحدت تاثر ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ غزل کے حامیوں نے فن کے فطری نظریے سے متاثر ہوکر ہائیکو سے اس کا قرب دریافت کیا مگر ہائیکو میں دو مختلف تصویریں بالآخر ایک تیسرے نقش کے ذریعہ سے ایک مجموعی تاثر پیش کرتی ہیں۔

    غزل کے سلسلے میں یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ مغربی نظریۂ فن کے مطابق یہ فن پارہ ہو یا نہ ہو، مشرقی نظریۂ فن کے مطابق یہ بھی فن کا ایک روپ ہے اور اس میں بحر، قافیے اور ردیف کے ذریعہ سے ذہن کی ایک خاص رو، کیفیات کے ایک خاص آہنگ، جذبات کی ایک خاص لے، ایک مخصوص فضا کی آئینہ بندی کی جاتی ہے۔ بحر ایک بساط عطا کرتی ہے۔ قافیہ اس بساط کی سطح پر تکرار اور توقع کے اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے ذہن کو ایک روشنی اور روح کو ایک بالیدگی عطا کرتی ہے اور ردیف حالت یا زمانے یا شرط کے ذریعہ سے اسے چستی اور چابک دستی عطا کرتی ہے۔ پہلے اس پر غور کیجئے کہ غزل میں مطلع کیوں ہوتاہے یعنی شعر کے دونوں مصرعوں میں قافیے کا استعمال کیوں ضروری ہے۔ میر کی مشہور غزل کے مطلع کو ذہن میں رکھیے۔

    الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوانے کا م کیا

    دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

    اگر غزل مطلع سے شروع نہ ہو تو سننے والے یا پڑھنے والے کے ذہن کی تربیت ان خطوط پر نہیں ہو سکتی ہے جو غزل کا خاصہ ہیں۔ اس لیے قدما نے غزل کے لیے مطلع کی شرط لگائی ہے، خواہ یہ کمزور ہی کیوں ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگرچہ بہت سے اساتذہ نے کئی مطلعوں کی غزل کہی ہے مگر یہ قطعی ضروری نہیں ہے کیونکہ پہلے مطلع کے بعد وہ صوتی نظام اور وہ موسیقی جو غزل کے ساتھ مخصوص ہے، سننے والے یا پڑھنے والے کے ذہن میں بس جاتی ہے۔ اس کے بعد دوسرے مصرعے کا قافیہ اس رو کو آگے بڑھانے کے لیے کافی ہے۔ وحید الدین سلیم اور دوسرے نقادوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزل کاشاعر قافیے کا غلام ہوتاہے۔ وہ خیال کے مطابق قافیہ نہیں لاتا بلکہ قافیے کے مطابق خیال لاتاہے۔ یہ بات بھی جزوی صداقت رکھتی ہے۔

    بات یہ ہے کہ اساتذہ کی غزل زیادہ طویل نہیں ہوتی پھر اردو میں عربی کی طرح قوافی کافی تعداد میں مل جاتے ہیں اس لیے اچھا شاعر ہر قافیہ نظم نہیں کرتا بلکہ اپنے خیال کے مطابق قافیے کا انتخاب کرتاہے۔ اسیر لکھنوی کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ہرقافیہ نظم کرنے کی کوشش کرتے تھے اور وجہ یہ دیتے تھے کہ شاید کسی وقت سند کی ضروت پڑ جائے۔ یہ لغت نویسی کے لیے مفید ہو تو ہو شاعری کے لیے قطعی ضروری ہے۔ چنانچہ قافیہ غزل کے فن میں بحر کے بعد مرکزی اہمیت رکھتا ہے مگر ہر قافیہ نظم کرنا غزل کے آداب کے منافی ہے۔

    جہاں تک ردیف کا تعلق ہے، ردیف تین یا چار لفظوں سے زیادہ پر مشتمل نہیں ہونی چاہیے۔ شاہ نصیر کی غزلوں کو اسی لیے غزل کی شریعت میں کوئی اچھی جگہ نہیں دی گئی۔ بعض جدید شعرا کے یہاں لمبی ردیفیں، مثلاً منیر نیازی کے یہاں ’’تو میں نے دیکھا‘‘ یا جاں نثار کے یہاں ’’ہم نہ کہتے تھے ‘‘ فضا بندی کے لحاظ سے گوارا ہیں مگر ردیف کو آدھے یا پونے مصرعے تک پھیلانا نہیں چاہیے۔

    کہا جاتا ہے کہ روشنی کی رفتار ہموار بھی ہوتی ہے اور جست کی صورت میں بھی۔ غزل اس دوسری صورت کو اختیار کرتی ہے۔ فراق نے جب غزل کو انتہاؤں کا سلسلہ کہا تھا تواسی معنی میں اور اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے غزل کے سب اشعار یکساں معیار کے یایکساں بلند نہیں ہوتے۔ اچھی غزلوں کا انتخاب اور چیز ہے اور غزل کے منتخب اشعار کا معاملہ دوسرا ہے۔ میر جیسے خدائے سخن کی غزلوں میں بھی بلند و پست کے نمونے ملیں گے۔ اس کی نفسیاتی توجیہ یہ کی جاسکتی ہے کہ بجلی جو کچھ وقفے سے چمکتی ہے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ بھرتی کے اشعار غزل کے فن میں جائز ہیں۔ ان سے ہوکر ہی حالی کے الفاظ میں ’’حیرت ناک جلوؤں‘‘ پر نظر پڑتی ہے۔

    غزل بہرحال زخمی غزال کی آہ یا تیر نیم کش یا محبوب سے بات کرنے کا نام ہے یعنی یہ عشقیہ اور غنائی شاعری ہے لیکن یہ عشق حقیقی بھی ہو سکتا ہے اور مجازی بھی۔ خدا سے بھی محبوب سے بھی، کسی عقیدے یا کسی مسلک سے بھی یعنی مسئلہ نظارے کا نہیں کا نظر کا ہے۔ حسن کی مصوری بذات خود اہم نہیں، عاشق کے جذبے کی گرمی، سوز وگداز، کیفیت اور لطافت اہم ہے۔ غزل میں معاملہ بندی کو اہمیت دی گئی ہے اور جرأت اور مومن کی معاملہ بندی کو سراہا بھی گیا ہے مگر ہمیں میر کی یہ بات یاد رکھنی چاہیے جو انھوں نے جرأت سے کہی تھی کہ ’’میاں! تم شعر کہنا کیا جانو۔ اپنی چوما چاٹی کہہ لیا کرو۔‘‘ غزل میں معاملات کا کھلا کھلا بیان مستحسن نہیں۔ یہاں جنس اک شعلہ نہیں، جنس کی آنچ کافی ہے اور وہ بھی رمز و ایما کے سہارے۔ اس لیے غالب کا یہ شعر غزل کا شعر ہے،

    اسد بند قبائے یار ہے فردوس کا غنچہ

    اگر وا ہو تو دکھلا دوں کہ اک عالم گلستاں ہے

    اور یہ شعر اگرچہ مشہور ہے مگر غزل کا اچھا شعر نہیں، اسی لیے لوگ صرف دوسرا مصرعہ پڑھتے ہیں،

    آنکھیں دکھلاتے ہو، جوبن تو دکھاؤ صاحب

    وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

    غزل اگرچہ مسلسل اشعار کا مجموعہ نہیں، متفرق اشعار کا گلدستہ ہے مگر قدما کے یہاں اکثر قطعہ بند اشعار ملتے ہیں۔ میر اور غالب کے یہاں ایسی قطعہ بند غزلوں کی تعداد خاصی ہے۔ اساتذہ کے یہاں اگرچہ دو غز لے بلکہ سہ غزلے بھی ملتے ہیں مگر طویل غزلیں کم ہیں۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ طویل غزل مستحسن نہیں کیونکہ ان میں قافیہ پیمائی زیادہ ہو جاتی ہے۔ معنی آفرینی کی گنجائش کم ہی نکل پاتی ہے۔ ایک مثالی غزل میں مطلع کے ساتھ مقطع بھی ضروری ہے اور یہاں شاعر کو بڑی آزادی ہے۔ اس میں شاعر تعلی بھی کرسکتا ہے، اپنے حالات بھی بیان کر سکتا ہے اور کوئی خاص واقعہ بھی نظم کر سکتا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں،

    ریختے کے تمھیں استاد نہیں ہو غالبؔ

    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

    غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں

    حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی

    کوئی چھینٹا پڑے تو داغ کلکتے چلے جائیں

    عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں

    فانیؔ دکن میں آ کے یہ عقدہ کھلا کہ ہم

    ہندوستان میں رہتے ہیں ہندوستان سے دور

    روز ہوجاتی ہے رویا میں زیارت حسرتؔ

    آستانِ شہ رزاق ہے زنداں کے قریب

    اردو غزل پر فارسی کا اثر بہت گہرا ہے مگر یہ فارسی کا چربہ نہیں۔ یہ ہندوستانی تہذیب کا ایک جلوۂ صد رنگ ہے۔ چنانچہ اس میں لوک گیتوں کی روایت، ہندوستان کے موسم، تیوہار، رسم ورواج، مجلسی اور تمدنی زندگی کے کتنے ہی نقوش محفوظ ہو گئے ہیں۔ یہ اشعار دیکھیے،

    لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سے

    الٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسے

    باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی

    بھیجنا ہیں ایک کمسن کے لیے

    عجب عالم ہے موج برق کے پہلو میں بادل کا

    تری الٹی ہوئی سی آستیں معلوم ہوتی ہے

    ننگِ محفل مرا زندہ، مرا مردہ بھاری

    کون اٹھاتا ہے مجھے، کون بٹھاتا ہے مجھے

    نہ صید کماں میں ہے، نہ صیاد مکیں میں

    گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

    غزل میں ساحل، طوفان، بھنور، قفس، آشیاں، رند محتسب، صیاد کے تلازموں پر بہت سے اعتراضات کیے گئے ہیں۔ خواجہ منظور حسین نے اپنی کتاب اردو غزل کا خارجی روپ بہروپ میں واضح کیا ہے کہ ہماری سماجی اور سیاسی زندگی کے ہر موڑ اور ہر کروٹ کی تصویر ان تلازمات میں بھی مل جاتی ہے۔ فیض کی غزل میں زیادہ تر تلازمات، اشارت اور رموز پرانے ہیں مگر ان کے نئے مفاہیم ذہن فوراً قبول کر لیتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دراصل رموز و ایما اور علائم کبھی پرانے نہیں ہوتے، ہاں ان کے استعمال میں کاری گری یا صناعی کے بجائے جذبے یا کیفیت کی کار فرمائی ہونی چاہیے۔ حالی نے مقدمے میں یہ صحیح مشورہ دیا تھا کہ اساتذہ کے کلام پر نظر ہونی چاہیے اورفیض نے اپنی تنقیدوں میں بجابجا اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انھوں نے سودا اور دوسرے اساتذہ سے فن کے کتنے اسرار و رموز سیکھے۔

    غزل کا فن روانی اور شیرینی چاہتا ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ شاعر ذوق کی طرح صرف سوئے ہوئے استعاروں یا محاوروں پر تکیہ کرے۔ نسخہ حمیدیہ کے غالب نے اس لیے ذوق کی پنچایتی شاعری سے رو گردانی کی، اور فکر کی جولانی کے لیے فارسی تراکیب کا سہارا لیا، تاکہ وہ اپنے آئینے کو مانجھنے اور معنی کی صورت دکھانے کے لیے دیوان غالب تک پہنچ سکے۔ اقبال کو بھی یہی کرنا پڑا لیکن اہم بات یہ ہے کہ غالب کی طرح اقبال نے بھی غزل کو گنجینۂ معنی کا طلسم بنایا۔ اقبال نے اگرچہ یہ کہا کہ غزل کی نہ کوئی زبان ہے نہ وہ زبان سے باخبر ہیں مگر انھوں نے غزل کے سارے آداب برتے۔ ہاں، ان کا یہ اضافہ قابل ذکر ہے، ان کے یہاں بال جبریل سے غیر مردف غزلوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ارمغان حجاز کے اردو حصے میں جو غزلیں ہیں، وہ سب کی سب غیر مردف ہیں۔

    غزل اردو کے سبھی شعراء نے لکھی، مگر جنھوں نے صرف غزل لکھی انھیں یک فنا کہا گیا۔ اردو غزل میں اہم نام ولی، میر، مصحفی، آتش، غالب، مومن، داغ، اقبال، حسرت، فانی، یگانہ، اصغر، جگر، فراق، فیض، ناصر کاظمی کے ہیں۔ اس فہرست میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

    غزل میں تصوف، فلسفہ، اخلاق، سیاست سبھی سے کام لیا گیا ہے جو ممتاز صوفی تھے، ان کا متصوفانہ کلام اکثر غزل کی لطافت نہیں رکھتا لیکن آتش اور غالب باقاعدہ صوفی نہ تھے مگر صوفیانہ کیفیات کا بیان ان کے یہاں شاعری اس لیے بن گیا کہ وہ بڑے شاعر تھے۔ ناسخ اخلاق نظم کرتے ہیں۔ استاد فن ہیں مگر غزل کے اچھے شاعر نہیں۔ حالی کی جدید غزلیں ان کی قدیم غزلوں سے کمزور ہیں۔ فیض کی غزل میں سیاسی مضامین کی فراوانی ہے مگر انھوں نے غزل کے آداب کو برتا ہے اس لیے ان کی اہمیت مسلم ہے۔ اقبال کی وہ غزلیں جو بال جبریل اور ضرب کلیم میں ملتی ہیں، اکثر غزل کی زبان اور غزل کے انداز بیان کے مطابق ہیں مگر کہیں کہیں فلسفہ زیادہ ہے اور شعریت کم۔ اقبال کو اپنا پیام کچھ زیادہ ہی عزیز تھا۔

    غزل کہنا نہایت آسان ہے اور بہت مشکل بھی۔ میرے نزدیک مشاعروں کی مقررہ طرحوں سے غزل کو فائدہ بھی ہوا اور نقصان بھی۔ فائدہ تو یہ ہوا کہ قید کی حد میں آزادی کی حد بڑھانے کا رواج ہوا اور نقصان یہ کہ غزلیں صرف ذاتی واردات نہ رہیں، مجلس آداب واسالیب کی آئینہ دار بھی ہوگئیں، اس لیے جدید غزل میں طرحی غزلوں کی کمی ایک اچھا میلان ہے۔ ہاں اساتذہ کی زمینوں میں غزلیں برابر کہی جائیں گی۔

    غزل بہرحال اپنی ہیئت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ اس لیے آزاد غزل جیسے تجربوں کا کوئی جواز نہیں۔ اس کی زبان میں جو خاموش تبدیلی ہوئی ہے، وہ اس کا ثبوت ہے کہ وہ ہر دور کی حسیت اور مزاج کی عکاسی کر سکتی ہے مگر یہ ہے اشارے کاآرٹ۔ غزل وہ نگار خانہ ہے جو MINIATURE PAINTING سے آراستہ ہے۔ آج ہندوستان کی دوسری زبانوں میں غزل کی مقبولیت کی وجہ سے یہ سمجھنا چاہیے کہ غزل میں سب کچھ ہے۔ آ ج کا دور کسی منظم فلسفے، کسی مرتب فکر کے ریاض کے بجائے فوری کیفیات کے بیان کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ یہ شعور کی رو کا زیادہ خوگر ہو گیا ہے۔ یہ اپنی جگہ درست ہے مگر صراحت، وضاحت، ربط و تسلسل کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ اس لیے غزل اپنے طور پر زندگی کی واردات اور کیفیات پیش کرتی رہے گی۔ اس کی زبان میں خاموش تبدیلی ہوتی رہے گی مگر اس کی ایمائی صلاحیت اور دروں بینی کی خصوصیت باقی رہے گی۔ ہاں اس کا تغزل نظم پر بھی اثر کرتا رہے گا۔

    سوچنے کی بات ہے کہ جدید فارسی میں غزل کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ وہاں ماضی سے رشتہ کٹ گیا، یہ رشتہ باقی رہنا چاہیے، مگر فن کے صرف اسی اسلوب اور اسی روپ کو خلاصۂ کائنات نہیں سمجھنا چاہیے۔ شیوۂ بتاں کی طرح فن کے بھی بہت سے دریچے ہیں۔ ہاں غزل کا دریچہ اب بھی حیات و کائنات کے ان گنت جلوے دکھا سکتا ہے۔

    چند اور باتوں کی طرف اشارہ ضروری ہے۔ غزل کی زبان کا غزل کے فن سے گہرا تعلق ہے۔ اس زبان میں روانی، شیرینی، بے ساختگی (جوخاصے ریاض کا ثمرہ ہوسکتی ہے) ضروری ہے۔ موضوع کی رعایت سے الفاظ کا انتخاب ہوتا ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ غزل میں عجمی لے کی اہمیت نغمۂ ہندی سے زیادہ ہے یعنی اچھی غزل وہ ہے جس میں ہندی الفاظ زیادہ ہوں، فارسی تراکیب کی گنجائش بھی ہے، مگر اسی حد تک جس حد تک میر نے اپنے کلام میں یا غالب نے دیوان غالب (نہ کہ نسخۂ حمیدیہ والے اشعار میں) استعمال کی ہیں۔ اس معاملے میں اقبال کے اجتہاد کو تسلیم کرتے ہوئے بھی، انھیں سند نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح آرزو لکھنوی کی غزلیں، غزل کا اچھا نمونہ ہیں مگر فارسی اضافتوں کو ترک کرنا یا ہندی الفاظ سے پرہیز کرنا دونوں انتہا پسندی کی مثالیں ہیں۔ یہاں میر کے اس شعر پر غور کیجئے،

    کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلہ پر پیچ و تاب

    شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا

    پہلے مصرعے کا تقریباً نصف حصہ بجز یک شعلہ پر پیچ و تاب، دوسرے مصرعے کی سادگی اور روانی کی وجہ سے کھٹکتا ہی نہیں۔ میر سوز نے فارسی تراکیب سے اجتناب کیا، میر نے انھیں سلیقے سے برتا، آرزو نے فارسی تراکیب سے احتراز کیا۔ یگانہ نے حسب موقع ان سے کام لیا۔ یہی بات دونوں کی شاعری کا درجہ متعین کرنے میں معاون ہے۔

    اساتذہ کے یہاں دیوان کی حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب شاعرانہ لحاظ سے قابل قدر نہیں، اس لیے دور حاضر میں اس کی پابندی ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ کلام کی تاریخی ترتیب سے بہرحال شاعر کے فن کا ارتقا تو ظاہر ہوتا ہے۔ وہ غزلیں جن کے آخر میں کوئی مصوتہ آتا ہے ایک گونج پیدا کرتی ہیں اور ذہین دیر تک ان اصوات کے مزے لیتا ہے۔ ضروری ہے کہ غزل گائی جا سکے۔ یہ ہرحال میں غنائی شاعری ہے، گو اس صنف میں ہر موضوع پر غزل کے آداب کے مطابق اظہار خیال ہو سکتا ہے، اس کا کنایاتی در و بست، اس کا ابہام، اس کی پہلو داری، اس کی خوبیاں ہیں، خامیاں نہیں۔ سیماب نے غلط نہیں کہا ہے،

    کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے

    جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY