ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں

مبین مرزا

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں

مبین مرزا

MORE BYمبین مرزا

    INTERESTING FACT

    مستنصر حسین تا رڑ کی ناول نگا ری151 چند تأثرات

    مستنصر حسین تارڑ اس عہد کے جانے پہچانے ادیب ہیں۔ انگریزی میں پرولیفک رائٹر (Prolific Writer) کی اصطلاح جس معنی میں مستعمل ہے، اس کا اطلاق مستنصر حسین تارڑ پر ہوتا ہے۔ اردو میں اس نوع کے لکھنے والوں کو ’’بسیار نویس‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم بسیار نویسی چوں کہ ہمارے یہاں سنجیدہ ادبی حلقوں میں خوبی باور نہیں کی جاتی، اس لیے اس قبیل کے لکھنے والوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ انگریزی میں اِس قسم کی باتیں نہیں سوچی جاتیں، بلکہ خراجِ تحسین کے طور پر کسی کو پرولیفک رائٹر کہا جاتا ہے۔ چناں چہ مستنصر حسین تارڑ کو پرولیفک رائٹر کہے اور سمجھے جانے میں چنداں مضائقہ نہیں ہے۔ انھوں نے واقعی بہت کام کیا ہے اور ایک نہیں متعدد اصناف میں یعنی سفرنامہ نگاری، ناول، ڈراما نگاری اور مزاح وغیرہ۔ سفرنامہ نگاری میں دیکھا جائے تو کمیّت، کیفیت اور تنوع کے لحاظ سے وہ ایک الگ ہی شناخت رکھتے ہیں۔ اردو سفرنامے کی تاریخ میں یہ شناخت تادیر قائم رہنے والی ہے۔

    رہی بات ناول کی، تو اس شعبے میں بھی ہمیں ان کے یہاں مقدار اور موضوع کی وسعت کے ساتھ اتنا کام ملتا ہے کہ اُسے کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ موضوعات کی رنگارنگی کی داد انھیں سب سے پہلے دی جانی چاہیے۔ اس لیے کہ اردو کے اکثر ناول نگاروں کے یہاں ہمیں موضوعات کا دائرہ اس قدر وسیع نظر نہیں آتا، جتنا مستنصر حسین تارڑ کے یہاں ملتا ہے۔ موضوعات کی اِس وسعت میں اُن کی سفری زندگی کا بھی یقیناًدخل ہے۔ دنیا کو چاروں کھونٹ جاجاکر دیکھنا، کھوجنا اور سمجھنا اُن کی ناول نگاری کے بھی کام آیا اور اُس کے لیے خام مواد کی فراہمی کا بہت کارآمد ذریعہ بنا۔ انھوں نے ایک سمجھ دار ادیب کی طرح اپنے سفری تجربات اور مشاہدات کو بھی اپنے ناولوں میں برتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جہاں گردی کے دوران میں رابطے میں آنے والے افراد اور اُن کے احوال کو بھی اپنے ناولوں میں مال مسالے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے یہاں کرداروں کا تنوع نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔

    بیس ویں صدی کے دوسرے نصف میں نمایاں مقام پانے والے اردو کے تین بڑے ناول نگاروں قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین اور انتظار حسین کے فن کا بالاستیعاب مطالعہ کیا جائے تو ان تینوں کے یہاں اپنے ہی کسی فن پارے کے بعض کرداروں کی چھوٹ کسی دوسرے فن پارے کے کرداروں پر پڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مستنصر حسین تارڑ کے یہاں باید و شاید ایک ناول کے کردار ان کے کسی دوسرے ناول کے کرداروں سے کوئی قابلِ توجہ مماثلت رکھتے نظر آئیں۔ اگر ایسا محسوس بھی ہو تو یہ معاملہ ان کے ناول کے ضمنی یا ذیلی کرداروں میں تو ہوتا ہے، مرکزی یا اہم کرداروں میں نہیں۔ مستنصر حسین تارڑ نے اگر یہ اہتمام شعوری طور پر نہیں کیا تو بھی اس سے ایک بات کا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ اپنے ناول کے فن کے ذریعے ایک ایسی دنیا کی دریافت کے خواہاں ہیں جو وسیع و عریض حدودِ اربعہ رکھتی ہو اور رنگارنگ کرداروں سے آباد ہو۔ یہ ذہنی جستجو یا نفسیاتی خواہش کسی تخلیق کار کے شعور میں تو کجا، لاشعور میں بھی اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتی جب تک اُس کی اپنی نگاہوں نے میسر آنے والی اُن وسعتوں کو نہ سمیٹا ہو جو اُس کے تخیل کو مہمیز دے سکیں۔ اس لحاظ سے مستنصر حسین تارڑ کی سیاحت اُن کے تخلیقی کاموں کو پوری سہولت فراہم کرتی اور خاصی کارآمد کمک پہنچاتی دکھائی دیتی ہے۔

    سفرناموں کا معاملہ تو بالکل الگ ہے کہ اِس فن میں ادیب کو سارا مواد یا لوازمہ پیش آمدہ دنیا سے میسر آجاتا ہے، لیکن ناول کا ماجرا مختلف ہے۔ یہاں حقیقی دنیا کے دیے ہوئے کرداروں اور اُن کے معاملات کو جوں کا توں برتنا کوئی خوبی نہیں۔ تخلیق کار کا تخیل اپنی قوت اور اختیار کو بہ روے کار لاتے ہوئے جس کو چاہے بلند اور جسے چاہے پست کردے۔ چناں چہ ان کے ناول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اب سوال یہ ہے، کیا مستنصر حسین تارڑ فنی سطح پر اُس دنیا کو تخلیق کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جس کے وہ آرزومند تھے؟ اس سوال کا جواب چنداں دشوار نہیں، اس لیے کسی بھی تأمل کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ بادی النظر میں ناول کے کینوس پر ارض البلد اور طول البلد میں پھیلی ہوئی جو دنیا انھیں درکار تھی، وہ اس کو تخلیق کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ یہ دنیا مختلف رنگ، نسل، قوم، زبان اور مذہب کے لوگوں سے آباد ہے اور مستنصر حسین تارڑ کی کشادہ نظری اور وسیع المشربی کے حق میں گواہی دیتی ہے۔ اس امر کو تسلیم کرنے کے بعد دوسرا سوال یہ ہے کہ ادب کے لیے یہ دنیا کتنی کارآمد ہے، یعنی اس کی تخلیقی اور فنی قدر و قیمت کیا ہے؟ پیشتر اس سے کہ ہم اس نکتے کی تفتیش کریں، ایک اور سوال پر غور ضروری محسوس ہوتا ہے، وہ یہ کہ خود کو کامیاب سفرنامہ نگار منوالینے کے بعد آخر تارڑ کو ناول نگاری کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ خیال رہے کہ یہ سوال براے سوال نہیں، بلکہ اس کے ذریعے تارڑ کے فن کو سمجھنے کی کلید حاصل کرنا مقصود ہے۔

    ماجرا اصل میں یہ ہے کہ روحانی زندگی کی طرح ادب میں بھی اعمال کا دارومدار آدمی کی نیت پر ہوتا ہے۔ اب نیت کا یہ ہے کہ ادیب چاہے نہ چاہے وہ کسی نہ کسی صورت میں اُس کے فن میں اپنے اظہار کا راستہ نکال ہی لیتی ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ خود ادیب کا فن ہی اس کے حق میں گواہ بنتا ہے اور کچھ لکھنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اُن کی تخلیقات ہی ان کے خلاف شہادت دیتی ہیں۔ فن کار کچھ کہتا ہے اور فن کچھ اور کرتا دکھائی دیتا ہے۔ خیر، ہم بات کررہے تھے مستنصر حسین تارڑ کے ناول نگار بننے کی۔ سفرنامہ نگار کی حیثیت سے انھوں نے بہت پہلے نہ صرف پہچان حاصل کرلی تھی، بلکہ اپنا لوہا منوالیا تھا۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی سے لے کر ۹۰ء کی دہائی کے اواخر تک ہمارے یہاں سفرناموں کا بہت چلن رہا ہے۔ ایسا نہیں کہ سفرنامے اس سے پہلے اچھے نہیں لکھے گئے یا اُن کی پذیرائی نہیں ہوئی۔ یقیناًلکھے گئے اور دل چسپی سے پڑھے بھی گئے۔ آج کل بھی گاہے بہ گاہے سفر کی کوئی اچھی روداد آتی رہتی ہے، لیکن یہ سچ ہے کہ اُس وقت میں جتنے اور جیسے اچھے سفرنامے یکے بعد دیگرے سامنے آئے، ان کو دیکھتے ہوئے اس دور کو اردو میں سفرنامہ نگاری کا زرّیں عہد کہنا بے جا نہ ہوگا۔ مستنصر حسین تارڑ کے ’’نکلے تری تلاش میں‘‘، ’’اندلس میں اجنبی‘‘ اور ’’خانہ بدوش‘‘ جیسے عمدہ اور یاد رہ جانے والے سفرنامے اسی دورانیے میں منظرِ عام پر آئے اور خوب پڑھے گئے۔ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ادیب کی حیثیت سے تارڑ کی شہرت میں ٹی وی ڈراموں کے ساتھ ساتھ اُن کے سفرناموں کا بھی قابلِ لحاظ حصہ رہا ہے۔

    آخر سوچنے کی بات ہے یا نہیں کہ ایک ایسا ادیب جس نے اچھی خاصی نیک شہرت اپنے سفرناموں سے سمیٹ لی تھی، وہ فکشن کے دشتِ پُرخار کی آبلہ پائی پر کیوں آمادہ ہوا؟ کیا یہ ’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے‘ والا معاملہ تھا یا پھر کوئی داخلی تخلیقی مطالبہ تھا جس نے انھیں اظہار کی نئی جہت کی طرف مائل کیا؟ معلوم نہیں مستنصر حسین تارڑ سے مصاحبوں اور مکالموں میں کبھی یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ نہیں، اور اگر پوچھا گیا ہے تو اُن کا جواب کیا ہوتا ہے؟ خیر، وہ جو بھی کہیں، ہمیں اُن کے بیان سے زیادہ دل چسپی اِس بات سے ہے کہ اس ضمن میں خود اُن کا فن کیا جواب دیتا ہے۔

    جہاں تک معاملہ ہے تارڑ کے کہانی کار ہونے کا، تو واقعہ یہ ہے، اس کا شوق اُن کے اندر اچانک پیدا نہیں ہوا۔ فکشن جیسا اسلوب رکھنے والے خاصے ٹکڑے ہمیں اُن کے سارے اچھے اور معروف سفرناموں میں ملتے ہیں۔ گویا کہانی کار تو اُن کے اندر شروع ہی سے پایا جاتا ہے۔ تاہم سفرنامے میں چوں کہ افسانہ نگاری کو ہنر نہیں، عیب گردانا جاتا ہے، اس لیے ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ اور ’’اندلس میں اجنبی‘‘ جیسی کتابوں سے افسانوی مزاج کی عبارت کی بنیاد پر تارڑ کی فکشن نگاری کا اثبات کرنا محض کارِ لاحاصل ہوگا۔ ادب کی کسوٹی یوں بھی کسی رُو رعایت سے کام لینے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہاں تو سولہ آنے کھرے ہی کو کھرا سمجھا جاتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کی ناول نگاری کا ثبوت ویسے ہمیں اُن کی تین کتابوں ’’پرندے‘‘، ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ اور ’’جپسی‘‘ سے بھی فراہم ہوجاتا ہے۔ ان میں پہلی کتاب، یعنی ’’پرندے‘‘ دو ناولٹ پر مشتمل ہے۔ یہ دونوں ناولٹ بہ یک وقت تخیلی اور علامتی کہانی کا مزاج رکھتے ہیں۔ دوسری کتاب کی کہانی سفری اسلوب میں لکھی گئی ہے، جب کہ تیسری کتاب تو ہے ہی ناول۔ چلیے یہ مسئلہ تو حل ہوا کہ مستنصر حسین تارڑ نے آخرِ عمر میں مسلمان ہونے، یعنی کہانی کار بننے کی کوشش نہیں کی، بلکہ یہ شوق یا تخلیقی جستجو پہلے ہی سے ان کے یہاں پائی جاتی ہے۔ اس لیے کہ یہ تینوں کتابیں ۸۰ء کی دہائی میں شائع ہوئی تھیں، یعنی اُس دور میں جب اُن کی سفرنامہ نگاری کا طوطی بول رہا تھا۔

    یہ الگ بات ہے کہ یہ تینوں کتابیں شائع ہونے کے باوجود تارڑ کو ناول نگاروں کی صف میں کوئی اہم جگہ نہ مل سکی، یعنی اُس صف میں جو اُن کے معاصرین قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین، انتظار حسین، انور سجاد، جمیلہ ہاشمی، بانوقدسیہ وغیرہم سے آراستہ تھی۔ حالاں کہ ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ تو بہت پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک ہے، اور اُن کتابوں میں بھی لازماً شامل ہے جنھوں نے تارڑ کی شہرتِ عام میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ذرا غور کیجیے تو بات سمجھ آجاتی ہے کہ اس کی وجہ اور کیا ہوسکتی ہے سواے یہ کہ ہمارے یہاں ناولٹ اور ناول تخلیقی بیانیے کی جس سطح تک آچکے تھے، تارڑ کی یہ تینوں کتابیں اُس تک آنے سے قاصر رہیں۔ چناں چہ ادب کے سنجیدہ قارئین اور ناقدین نے انھیں قابلِ ذکر ناول نگاروں میں شمار نہیں کیا۔ اب اسے طالع آزما طبیعت کہا جائے یا creative obsession، بہرحال یہ جو کچھ بھی تھا، اس نے تارڑ کو اس کام پر لگا دیا کہ خود کو ناول نگار منوا کے دم لینا ہے۔ آدمی ایک بار کچھ ٹھان لے اور دُھن کا پکا ہو تو بھلا کس چیز سے اُسے روکا جاسکتا ہے اور کون روک سکتا ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ ’’بہاؤ‘‘، ’’راکھ‘‘، ’’قربتِ مرگ میں محبت‘‘، ’’ڈاکیا اور جولاہا‘‘، ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ ’’اے غزالِ شب‘‘ پندرہ سترہ برسوں میں تارڑ نے کئی ناول پیش کیے۔ چلیے تو پھر باقی سب باتوں سے پہلے ہمیں کشادہ دلی سے اس تخلیقی وفور اور مسلسل کارگزاری کی داد تو دینی ہی چاہیے۔

    یہ طے ہے کہ کام خواہ کوئی بھی ہو لگن اور تسلسل کے ساتھ کیا جائے تو رائگاں نہیں جاتا۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہمارے سنجیدہ نقاد بھی تارڑ کا شمار ناول نگار کے طور پر کرتے ہیں، اور یہ اعتراف کسی رعایت کے نتیجے میں نہیں کیا جاتا، بلکہ انھیں آج باضابطہ طور پر ایک فعال ناول نگار کی حیثیت حاصل ہے۔ پس طے ہوا کہ تارڑ نے جس زمین کو گودا تھا، وہ بانجھ نہیں نکلی، یعنی اُن کی محنت رنگ لائی اور انھوں نے وہ پالیا جس کی انھیں آرزو تھی۔

    ہر ایک ناول کا فرداً فرداً جامع تجزیاتی مطالعہ فی الوقت ممکن ہے اور نہ ہی مقصود۔ اس لیے ہم ناولوں کے اجمالی حوالوں کے ساتھ اس باب میں تارڑ کی مجموعی کارکردگی اور فنی کامیابی کے گراف کے بارے میں بات کریں گے۔ سب سے پہلے تو موضوعات کو دیکھا جائے کہ اپنے ان ناولوں میں انھوں نے کن مسائل، سوالات اور تجربات کا احاطہ کیا ہے۔

    ’’بہاؤ‘‘ ایک سماج کو فوکس کرکے بود نابود کا قصہ بیان کرتا ہے۔ ہزاروں برس قدیم ایک بستی اور اُس کے باسیوں کا یہ ماجرا تغیر و تبدل اور ارتقا کے کائناتی منظرنامے کے ازلی و ابدی اصولوں کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے۔ یہ اُس دور کی کہانی ہے جب تہذیب و تمدن کی تشکیل نہیں ہوئی تھی۔ اس دور میں انسانی سماج اَن گھڑ یا غیر مرتب حالت میں تھا۔ افراد کی بود و باش اُن کے داخل میں کارفرما بقا کی فطری طلب اور بیشتر جبلی خواہشوں کے زیرِ اثر تھی۔ ایک بستی یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک سماج رُخ بدلتے دریا کی بے مہری کے سبب معدومیت کی طرف بڑھتا ہے، جب کہ اس کے مقابل ایک سماج ابھرتا اور استحکام پاتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم فطرت کا اصول ہے کہ کوئی بھی گروہ، یا سماج محض خارجی عناصر کی وجہ سے معدوم نہیں ہوتا، بلکہ فنا کا آہنی پنجہ اُسے اپنی گرفت میں اُس وقت لیتا ہے جب اُس میں داخلی سطح پر بقا کی خواہش عملی جدوجہد سے عاری ہوجاتی ہے۔ ’’بہاؤ‘‘ میں تارڑ نے فنا و بقا کے اصولوں کا نقشہ ٹھیک ٹھیک ترتیب دیا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی رویوں میں واضح طور پر نظر آنے والی کیفیت اس مسئلے کو تخلیقی سطح پر اجاگر کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

    ’’راکھ‘‘ میں عصری تناظر ہمارے سامنے آتا ہے۔ یہ خود ہمارا اپنا معاشرہ ہے، یعنی پاکستانی معاشرہ۔ اس ناول میں ٹائم فریم کا واضح تعین تو نہیں کیا جاسکتا، البتہ بعض متنی حوالوں کی وجہ سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے فوری بعد کے برسوں سے نوّے کی دہائی کے وسط تک کا زمانی تناظر اس ناول میں قائم کیا گیا ہے۔ گویا یہ کچھ نصف صدی کا قصہ ہے۔ ہماری قومی زندگی کے سماجی، تہذیبی اور سیاسی واقعات کو بھی اس ناول کے تار و پود میں سمویا گیا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ کہانی میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے ۱۹۶۵ء اور ۷۱ء کی جنگ، ذوالفقار علی بھٹو، یحییٰ خان اور سابقہ مشرقی پاکستان جیسے حوالوں سے کام لیا گیا ہے۔ اسی طرح سعات حسن منٹو، شاہ عالمی، لکشمی مینشن (لاہور) وغیرہ کے حوالے بھی فکشن کی دنیا کو حقیقت سے ماخوذ یا مربوط رکھنے کا تأثر دیتے ہیں۔ اس ناول میں مصنف کے پیشِ نظر تاریخ و تہذیب کے سوالات ہیں، مثلاً فرد کی انفرادی اور اجتماعی شناخت کا مسئلہ، معاشرے کی امی جمی میں پڑتی ہوئی دراڑ، افراد کے مابین رونما ہوتی مغائرت، اصل کی جستجو، قدروں کا انہدام، مال و زر کی فوقیت وغیرہ۔ تاہم یہ مسائل اور ان کے پیدا کردہ سوالات کسی مرتب صورت میں ناول میں سامنے نہیں آتے، بلکہ انھیں کرداروں کے رویوں اور سماجی صورتِ حال میں یہاں وہاں بکھیر دیا گیا ہے، جس سے غالباً ناول نگار کا منشا یہ ہے کہ ایک وسیع سماجی دائرے میں انتشار اور ہمہ گیر لایعنیت کو اُجاگر کیا جائے۔

    ’’قلعہ جنگی‘‘ میں افغانستان کو بیک ڈراپ بنایا گیا ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ افغانستان کی کہانی کہی جارہی ہے، یہ وہ افغانستان ہے جس کے مدرسوں کے طلبہ و اساتذہ نے اپنی مذہبی، فکری اور اخلاقی بنیادوں کے دفاع کے لیے میدانِ جنگ کا رُخ کیا تو ایسی دادِ شجاعت دی کہ دُنیا کی دوسری بڑی طاقت (روس) کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ ’’راکھ‘‘ ہی کی طرح اس ناول میں بھی واضح نشانات کے ساتھ زمانی دورانیے کا تعین تو نہیں کیا گیا ہے، لیکن جغرافیائی، سیاسی اور سماجی حوالے بتاتے ہیں کہ طالبان کے عروج و زوال کا زمانہ اس کہانی میں پیشِ نظر رکھا گیا ہے، یعنی وہ دور کہ جب وہ مجاہدین تھے اور ان کی ہر ممکن مدد دنیا کی ایک سپرپاور (امریکا) کی طرف سے جاری تھی۔ ڈالرز اور ہتھیاروں کی فراہمی تو جیسے طالبان رہ نماؤں کے اشارۂ ابرو پر ہورہی تھی۔ یہ طالبان کے عروج کا دور تھا۔ اس کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ جب مدرسوں کے یہی نوجوان اور ان کے اساتذہ دہشت گرد اور انسانیت کے دشمن قرار پائے۔ پھر اسی امریکا نے اپنے حلیفوں کے تعاون سے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اس کے شہروں کو کھنڈر میں بدل دیا اور تہذیب و ثقافت کا ملیا میٹ ہوا۔ یہ دورِ زوال تھا۔ مستنصر حسین تارڑ نے اس ناول میں تہذیبی سطح پر تو ان مسائل کو نہیں دیکھا ہے۔ البتہ اخلاقی، سماجی اور معاشی صورتِ حال کے پس منظر میں افغانستان کے اس تاریخی المیے کو فوکس کیا گیا ہے جو عصری تناظر میں اُس کی ثقافتی پامالی اور انسانی زندگی کی درماندگی و بے توقیری کا نقشہ ابھارتا ہے۔

    ’’ڈاکیا اور جولاہا‘‘ بڑے سماجی اسکوپ، وسیع زمانی تناظر یا عمیق تہذیبی مسائل کا ناول نہیں ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ’’بہاؤ‘‘ اور ’’راکھ‘‘ کے تقابل میں رکھ کر دیکھا جائے تو یہ ناول خاصا ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اس کی ایک جہت ایسی ہے کہ جو ہم سے توجہ کا تقاضا کرتی ہے اور وہ ہے دیہی زندگی کا منظرنامہ، جس میں ڈاکیا، جولاہا، دینے تیلی، نورے ماچھی اور نتالیہ جیسے کرداروں کے ذریعے ایسے تجربات کو گرفت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو معاصر فکشن میں اب تو نایاب ہی کے درجے میں آتے ہیں۔ ناول کا بیانیہ بھی اُس کے کرداروں اور اُن کی صورتِ حال کی طرح سادہ نظر آتا ہے، لیکن جب ذرا غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ سادہ کاری کا یہ پورا تناظر اپنی سطح کے سیاق میں جس معنویت کا ابلاغ کرتا ہے، ناول نگار نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ان کرداروں اور ان حالات کی معنویت کا ایک اور رُخ اس وقت سامنے آتا ہے جب انھیں علامتوں کے طور پر دیکھا جائے۔ چناں چہ یہ کردار اور ان کی صورتِ حال کی دبازت کا احساس ہوتا ہے اور معنویت کی ایک اور سطح ہمارے سامنے آتی ہے۔ اس مرحلے پر شہری زندگی پر غلبہ پاتی مادّیت اور دیہی زندگی میں نمایاں نظر آنے والے غیر مادّی عناصر پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یوں کہانی میں اسلوب، کردارو اور ماجرے میں سادہ کاری کا مفہوم واضح ہوتا ہے اور مولانا روم کی تعلیمات سے کہانی میں اخذ و استفادے کی نوعیت اور معنویت قابلِ فہم ہوجاتی ہے۔

    پون صدی سے زیادہ عرصے کی زندگی کے تجربے کو تھرڈ ورلڈ سے لے کر فرسٹ ورلڈ تک کے جغرافیائی دائروں میں سمیٹتا ہوا ناول ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ مذہب و تہذیب کی اثر آفرینی اور فطرتِ انسانی میں پوشیدہ گروہی اور نسلی رویوں کی کشاکش کو موضوع بناتا ہے۔ کرداروں کی رنگا رنگی، زمانوں کا تسلسل، زمینوں کے روپ، رویوں کے بہروپ، تدبیر کی حیثیت، تقدیر کی نوعیت، فرد کا دائرہ، سماج کا اثر151 یہ سب کیا ہے، وسیع دائرے میں کس طرح ظاہر ہوتا ہے، فرد پر کسی شے کا کیا اور کتنا اثر ہوتا ہے اور سماج کے دائرے میں ان سب اثرات کی نوعیت کیا ہوتی ہے اور کس طرح ظہور کرتی ہے؟ ان سوالوں کو یا انسانی زندگی کے ان تجربات کو مقامی حوالوں (پنجاب کے سماج) سے لے کر بین الاقوامی دائرے (امریکا کی معاشرت) تک ایک وسیع زمانی سیاق میں ابھارا گیا ہے۔ یہاں افراد اور سماج دونوں کے حوالے سے مذہب کی بنیاد ہے اور اس کی بے اثری بھی، انفرادی جذبہ و عقل کے مظاہر ہیں اور اجتماعی فکر و شعور کی کارفرمائی بھی۔ زندگی کو اُس کے ایسے ہی حوالوں اور سوالوں کے دائروں کو جوڑ کر انسان کے ہونے کی نوعیت اور معنویت کو پرکھنے کی جستجو اس ناول کا موضوع ہے۔

    تاحال شائع ہونے والا آخری ناول ’’اے غزالِ شب‘‘ اُن موضوعات سے ذرا الگ ہے جو عام طور سے مستنصر حسین تارڑ کے یہاں ہمیں ملتے ہیں۔ یہ آئیڈیل کی شکست کے پیداکردہ احساس کو موضوع بناتا ہے۔ آئیڈیل یا مثالی دنیا کی شکست اور اس کے زیرِ اثر کردار کی کایا کلپ ہونا، بیگانگی، لایعنیت یا زندگی سے بیزاری کا شدید احساس بالکل نیا موضوع تو نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے لکھنے والوں نے اپنے فن میں اسے برتا ہے۔ وجودیت کے زیرِ اثر لکھے گئے تقریباً سارے ہی فکشن میں کسی نہ کسی صورت میں اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم ایڈگر ایلن پو، کافکا اور ورجینیا وولف وغیرہم کے یہاں ہمیں یہ موضوع ذرا الگ رنگ میں نظر آتا ہے۔ اردو میں ہمارے یہاں انور سجاد، بلراج مین را، انور خان اور صغیر ملال کے یہاں بھی اسے اپنے اپنے انداز سے موضوع بنایا گیا ہے۔ تارڑ نے اسے جن نوجوانوں کے حوالے سے اس ناول میں پیش کیا، وہ اپنے ظہور کے اوّلیں مرحلے پر زندگی سے لبریز نظر آتے ہیں۔ اُن کی وارفتگی اور مثالیت پسندی کا رویہ انھیں اپنی زمینیں اور محبتیں چھوڑ کر انسانیت کی بھلائی کے کام پر لگا دیتا ہے۔ آگے چل کر وقت کا سفاک عمل اُن کے آئیڈیلزم کا سارا خمار اتار دیتا ہے۔ اب واپسی ہوتی ہے، لیکن واپسی کا یہ سفر ان کے زخموں کا مرہم نہیں بنتا، بلکہ تبدیلی کا ایک اور تجربہ انھیں چرکا لگاتا ہے۔ سفر در سفر تغیر کی یہ دنیا اُن کے سامنے اپنے حقائق کا اظہار کرتی ہے۔ افسوس، غصہ اور تھکن کا احساس حاوی ہوجاتا ہے۔ آدمی اپنی تقدیر کے پھیر سے باہر نہیں نکلتا۔ زندگی کا تغیر اور وقت کا عمل انسان کے آئیڈیلز کو مٹی کا ڈھیر بناکر تقدیر کی قوت کا اثبات کرتا چلا جاتا ہے۔

    لیجیے، دیکھ لیا آپ نے کہ ایک پرولیفک رائٹر کے ساتھ معاملہ کرنا کیسے جوکھم میں ڈالتا ہے آدمی کو۔ نہیں، اصل میں یہ دقت اُس وقت پیش آتی ہے جب ہم کسی مستنصر حسین تارڑ جیسے بسیار نویس کو اُس کی کلیتِ کار میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ہم اُس کے فن کو ساری وسعت کے ساتھ پرکھتے ہوئے اُس کے جوہر کو پانے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں یار لوگ ایسے تخلیق کاروں کے ہر فن پارے کو الگ الگ دیکھ کر اور تالی بجا کر اپنی اور تخلیق کار دونوں ہی کی عزت بچا کر رخصت لینے میں عافیت جانتے ہیں۔ خیر، تو اب یہ ہے کہ ہم تارڑ کے اُن ناولوں پر اجمالی نگاہ ڈال چکے جنھیں فکشن نگاری کے باب میں اُن کے فنی سفر کے نشانات باور کیا جاتا ہے۔

    جہاں تک کام کی رسائی اور پذیرائی کا معاملہ ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر محمد علی صدیقی، مسعود اشعر، رشید امجد، ڈاکٹر امجد طفیل اور ڈاکٹر ممتاز احمد خان جیسی معروف ادبی شخصیات نے مستنصر حسین تارڑ کے ناولوں پر بات کی ہے اور انھیں سراہا ہے۔ ناول کے عصری تناظر میں اُن کی کارگزاری کا اعتراف کیا گیا ہے۔ یہ اعتراف اُن کے کرداروں، موضوعات، اسلوب اور فن پارے کے تانے بانے میں اٹھائے گئے سوالات کے حوالے سے ہے۔ مراد یہ ہے کہ اُن کا تخلیقی کام جو انھوں نے ناول نگاری کے باب میں سر انجام دیا ہے، نظر انداز ہرگز نہیں ہوا، بلکہ اُس کی پذیرائی ہوئی ہے۔

    ہم نے دیکھا کہ تارڑ نے اپنے ناولوں میں فرد کے رویوں، سماج کے عروج و زوال، تہذیب و ثقافت کی کشاکش، جنگوں کی نوعیت اور سماج پر ان کے اثرات، افراد کی شناخت کے بحران، مذہب و تہذیب کے اثرات، جبلی اور نسلی رویوں کی منہ زوری، مادّیت اور روحانیت کا تصادم، قدیم و جدید کی تفریق جیسے موضوعات کو اپنے ناولوں میں اختیار کیا اور انسانی زندگی کی ماہیت اور معنویت کو جاننے کی کوشش کی ہے۔ دیکھا جائے تو یہی وہ مسالا ہے جس سے بڑا ادب تشکیل و تخلیق ہوتا ہے۔ چناں چہ اب اس امر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا اس سارے مواد کو برتنے اور ایسے موضوعات کو بہ روے کار لانے اور اس ڈھیروں ڈھیر کام کے بعد مستنصر حسین تارڑ نے اردو ناول کے ان تخلیق کاروں کی صف میں جگہ بنالی ہے، جن کا نام جریدۂ عالم پر تادیر ثبت رہے گا؟

    واقعہ یہ ہے کہ کوئی بھی موضوع، انسانی زندگی کا کوئی بھی تجربہ، وقت یا حالات کی کوئی بھی کروٹ اور کسی بھی طرح کے کردار151 یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی شے حتمی طور پر کسی فکشن نگار کے لیے کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ اس لیے کہ یہ سب کچھ تو فن کار کے لیے خام مواد ہوتا ہے۔ اصل میں تو یہ اُس کا فن ہے جو مٹی میں سے سونا نکال کر دکھاتا ہے، جو مسیحا کی طرح مردے میں جان ڈال کر اسے کھڑا کردیتا ہے، جس کا لمس پاکر پتھر بولنے لگتے ہیں اور ہوا ساکت ہوجاتی ہے۔ فن کی یہ معجزہ کاری اُس کے اسلوب، تکنیک، اظہار کے قرینے، حیات و موت کے تصور، کرداروں (یعنی زندگی کے مظاہر) کی طرف اُس کے رویے اور قوتِ متخیّلہ کے باہم تال میل سے رونما ہوتی ہے۔ فکشن نگار کی معجزہ کاری کا احساس اُس کے قاری کو یوں تو فن پارے کی سطح پر بھی ہوتا ہے، لیکن اس کی لطافتوں کا درست اندازہ اُس وقت ممکن ہے، جب فن پاروں کا مطالعہ تحلیل و تجزیے کے ساتھ کیا جائے جب کہ ہمیں فی الوقت ایک مضمون کی حد میں رہنا ہے۔ ویسے نصف درجن سے زائد ناولوں کا ایسا مطالعہ ایک مضمون کا نہیں، پوری ایک کتاب کا تقاضا کرتا ہے۔ ادب میں کسی تخلیق کار کے مقام و مرتبہ کے تعین کے لیے ایک اہم اصول یہ ہے کہ اُس کے سب سے نمایاں کام کو پیشِ نظر رکھا جائے اور دیکھا جائے کہ اُس کی تخلیقی جست سب سے بڑھ کر جس فن پارے میں نظر آتی ہے، وہ کس جہانِ معنی کو روشن کرتا ہے۔

    مستنصر حسین تارڑ کی فکشن کی پہلی تین کتابیں سنجیدہ قارئین و ناقدین کی توجہ حاصل کرنے سے قاصر رہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اُن کی فکشن نگاری کا آغاز صحیح معنوں میں ’’بہاؤ‘‘ سے ہوتا ہے۔ اس ناول کی اشاعت کے بعد سنجیدہ ادبی حلقوں میں اُن کی ناول نگاری کے بارے میں قابلِ ذکر تأثر قائم ہوا۔ تاہم جیسا غلغلہ ’’راکھ‘‘ کی اشاعت پر بلند ہوا، ایسا پھر کسی اور ناول کے منظرِ عام پر آنے کے بعد نہیں ہوا۔ اس ناول کی بابت تارڑ کے قریبی احباب نے اور خود تارڑ نے بھی اپنے بعض انٹرویوز میں بڑی بڑی باتیں کیں۔ اس کا موازنہ قرۃ العین حیدر کے شہرۂ آفاق ناول ’’آگ کا دریا‘‘ سے کیا گیا۔ کہا گیا کہ ’’راکھ‘‘ کے مقابل اردو میں اگر کوئی ناول ہے تو صرف یہی قرۃ العین حیدر کا ناول۔ یادش بخیر، لگ بھگ دو دہائی قبل تارڑ کے بعض کرم فرما تو اسے ’’آگ کا دریا‘‘ سے آگے بڑھاتے ہوئے بھی پائے گئے۔ سو کیا مضائقہ ہے اگر اس وقت جامع تجزیاتی مطالعے کے لیے اسی ناول کو پیشِ نظر رکھا جائے۔

    ’’راکھ‘‘ ۱۹۹۷ء میں شائع ہوا اور اشاعت کے بعد کئی مہینے تک، بلکہ شاید سال بھر اہلِ ادب و نقد کی گفتگوؤں میں کسی نہ کسی عنوان شامل رہا۔ موضوعِ گفتگو بننے کا ایک سبب وہ سرکاری ایوارڈ بھی تھا جو ۱۹۹۸ء میں اس ناول کو دیا گیا۔ ویسے اس ناول پر تبصرہ کرنے والے لوگوں میں منشایاد اور مسعود اشعر ایسے تخلیق کار بھی شامل تھے جن کا اپنا تخلیقی میدان کہانی ہی ہے۔ اکثر ناقدین کی طرح ان دونوں حضرات نے بھی مستنصر حسین تارڑ سے اپنے شخصی مراسم کا لحاظ رکھتے ہوئے اس ناول کو اردو فکشن کے اہم کاموں میں شمار کیا ہے۔ ہم نے اس ناول کا مطالعہ تو ایسی ہی آرا کے زیرِ اثر کیا تھا، لیکن ہمارا ذاتی تأثر جو ’’راکھ‘‘ کے بارے میں بنا ہے، وہ ان آرا سے مختلف ہے۔

    اگر ہمیں اس ناول کی بابت اپنی رائے کا اظہار ایک جملے میں کرنا پڑے تو ہم کہیں گے کہ ناپختہ احساسات اور فکری انتشار کے ملغوبے سے تیار کیا گیا یہ ناول تخلیقی سطح پر ایک ناکام تجربہ ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ناول نگار نے اس کہانی کی بنت میں رومانی فلموں، معاشرتی ڈراموں، صحافیانہ سیاسی تجزیوں اور ہیجان انگیز موویز کی تکنیک کو ہم آمیز کرکے استعمال کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ چاروں شعبے جو قدر مشترک رکھتے ہیں، وہ ہے کمرشل رائٹنگ۔ کمرشل رائٹنگ کا بنیادی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے دل چسپی کا سامان پایا جائے۔ اگر اس کی کوئی علمی و ادبی سطح ہوسکتی ہے تو وہ بھی ایک عام آدمی کے لیے قابلِ فہم ہو۔ فکر و نظر کی پختہ کاری کے ساتھ کمرشل رائٹنگ کو نباہنا آسان کام نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کم سے کم اشفاق احمد والی ذہانت، بصیرت اور مہارت درکار ہوتی ہے۔ مستنصرحسین تارڑ نے اس ناول میں جن احساسات کو رقم کیا ہے، وہ ادھ کچرے اس لیے ہیں کہ انھوں نے ناول کو بھی اپنے سفرناموں کی طرح عوام میں مقبول بنانے کی خواہش کو فراموش نہیں کیا۔ نتیجہ یہ کہ انھیں اس ناول کے خام مواد میں کچھ ایسا مسالا ڈالنا پڑا جو ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے دل چسپی کا کوئی سامان نہیں رکھتا۔ مثال کے طور پر ناول کے آغاز سے اختتام تک کرداروں کا نیم مزاحیہ رویہ جو گاہے بہ گاہے ہمارے سامنے آتا ہے، وہ کہانی کے بعض سنجیدہ مقامات کے تأثر کو زائل کرکے رکھ دیتا ہے۔ علاوہ ازیں کچھ واقعات اور بعض کرداروں کے حوالے سے کچھ جملے ناول میں متواتر دُہرائے جاتے ہیں جیسے ’’چار مرغابیوں کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ یا ’’امپوٹنسی کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں۔‘‘ یا کہانی میں کالیا کا کردار جس کا تکیہ کلام ایک گالی ہے اور اس کے کتے کا نام ’’برادرِ عزیز‘‘ یا مشاہد اور مروان کے درمیان گفتگو کے وہ الفاظ، بھائی جان، مہربان، جنگل بیابان وغیرہ۔ یہ باتیں ڈراموں اور فلموں میں چل سکتی ہیں کہ ایسا کردار جب بھی اسکرین پر آئے گا، ناظرین اس کی ان کی بے تکی حرکتوں یا لغو فقروں سے لطف لیں گے، لیکن سنجیدہ ادب میں یہ تکرار جو کہ برائے تکرار ہے، سخت ناگوار گزرتی ہے۔

    ’’راکھ‘‘ کو مستنصر حسین تارڑ کے ٹریٹمنٹ کے تجربے نے بھی خراب کیا ہے۔ وہ ایک کامیاب سفرنامہ نگار ہیں۔ اس کہانی کو بھی انھوں نے اسی فارمولے پر چلایا ہے جو کہ وہ اپنے سفرناموں میں استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں یہ ناول نہ تو خطِ مستقیم میں سفر کرتا ہوا نظر آتا ہے اور نہ ہی اس کی حرکت زمانی دائروں میں نظر آتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس ناول میں وقت کا کوئی مربوط اور واضح تصور ہمیں نہیں ملتا۔ ماضی، حال اور مستقبل کو اس کہانی کے دائرے میں کہیں الگ نہیں کیا گیا۔ یوں لگتا ہے کہ جو بات یا واقعہ ناول نگار کے علم میں جس وقت آیا یا اسے جب بھی سوجھا، اس نے ناول کی بنت میں اس کی جگہ تلاش کرنے کے بجائے، جہاں جگہ ملی ہے، اسے وہیں ٹانک دیا ہے۔ کہانی کے اپنے تسلسل اور بہاؤ میں یہ چیزیں بری طرح رکاوٹ بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر ناول کے دائرۂ کار سے ذوالفقار علی بھٹو کی اس تقریر کا کوئی تعلق نہیں جو خود ان کے لیے انقلاب آفریں ثابت ہوئی تھی۔ ناول نگار نے بڑی صراحت کے ساتھ اس پورے واقعے کو نقل کیا ہے، لیکن بیان سے پہلے یا بعد میں کہیں بھی اس تقریر کی کوئی relevance کہانی کے مرکزی مسئلے سے دکھائی نہیں دیتی۔ اسی طرح منٹو سے ملاقاتوں کا احوال، لکشمی مینشن کا قصہ، قیامِ پاکستان کے فوری بعد کے ہنگامے وغیرہ اس ناول میں جس طرح بیان کیے گئے ہیں وہ ناول کا جزوِ لاینفک بنتے ہیں اور نہ ہی اس کے سیاق و سباق کا کوئی معنوی ُ بعد روشن کرتے ہیں۔

    بات یہ نہیں ہے کہ ناول نگار ان واقعات کو صحیح طور سے لکھ نہیں پایا ہے، نہیں، ایسا نہیں ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ بعض واقعات اور منظرنامے بڑی خوبی سے لکھے گئے ہیں۔ ناول نگار نے ان کے خد و خال کو لفظوں میں پوری طرح واضح کیا ہے، لیکن جس طرح منی ایچر میں ایک ماہر مصور رنگوں کی آمیزش سے اندھیرے اور روشنی کا احساس قائم کرتے ہوئے کرداروں کو ان کی اہمیت اور وقعت کے ساتھ اجاگر کرتا ہے، اسی طرح کا عمل فکشن نگار بھی کرتا ہے، لیکن ایسی کوئی مہارت ہمیں اس ناول میں نظر نہیں آتی۔ اب یہاں مثال کے طور پر قرۃ العین حیدر کے ’’آخرِ شب کے ہم سفر‘‘ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس ناول کی بنت اور کہانی کا تسلسل ہی نہیں، بلکہ ڈوبتے ابھرتے کردار بھی ہمارے سامنے اس تصویر اور معنویت کو اجاگر کرتے چلے جاتے ہیں جو کہ ناول نگار کا منشا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کہانی کار کو اگر اپنے موضوع اور اس کے مسائل کو ان کی روح کی گہرائی میں اتر کے سمجھنے اور پیش کرنے کا ہنر نہ آتا ہو تو وہ معنویت کی تشکیل میں ناکام رہتا ہے۔ اس ناول میں مستنصر حسین تارڑ کی ناکامی کا سبب یہی ہے۔

    ہماری سماجی صورتِ حال، خصوصاً لاہور کی سماجی، سیاسی زندگی کو اس ناول میں قدرے بہتر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ اس ناول کی خوبی ہے۔ ناول نگار نے لاہور کو اس کے ماضی اور تاریخی تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی جو کوشش کی ہے وہ تو کامیاب نہیں رہی، لیکن اپنے زمانے اور آزادی کے بعد بنتے بدلتے لاہور کا جو نقشہ انھوں نے کھینچا ہے، وہ خوب صورت بھی ہے اور دل چسپ بھی۔

    اس ناول میں مستنصر حسین تارڑ نے پاکستان کی تہذیبی اور ثقافتی جڑیں بھی تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اس کام کے لیے انھوں نے جو کردار تراشا ہے، وہ کسی سرکس کا مسخرہ معلوم ہوتا ہے۔ شراب اور شباب اس کی زندگی کے لوازم ہیں۔ مجرے کرانے اور سرحدی قبائلی علاقوں میں جاکر ٹوٹے پھوٹے مجسّمے اور ممٹیاں تلاش کرنے اور انھیں پاکستان سے باہر لے جاکر فروخت کرنے والا یہ کردار جس کا نام کالیا ہے، ہماری سماجی صورتِ حال پر تو تبصرہ کرتا ہے کہ ہم نے اپنی تہذیبی جڑوں کی تلاش کا کام کیسے کیسے مجہول اور محض کاروباری افراد کے سپرد کردیا ہے، لیکن یہ کردار کسی بھی طرح وہ رول ادا کرتا نظر نہیں آتا جو کہ مصنف نے اسے سونپا ہے۔

    سیاسی سماجی صورتِ حال کے حوالے سے تہذیبی شناخت کا کوئی ایک حوالہ بھی تلاش کرنا آسان کام نہیں ہوتا، مگر ہاں جب کہانی کار یہ کام کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اسے اس کا سراغ بھی مل جاتا ہے۔ میلان کنڈیرا کے ناول ’’دی بک آف لافٹر اینڈ فارگیٹنگ‘‘ کے ایک باب میں ایک ایسی عورت کا قصہ بیان کیا گیا ہے جو کہ جلاوطن ہے۔ وطن چھوڑتے ہوئے وہ اپنی ڈائریاں اور خطوط اپنے ملک ہی میں چھوڑ کر آئی تھی۔ اب وہ خطوط اس کے لیے بہت بڑا جذباتی سرمایہ بن چکے ہیں۔ وہ انھیں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان کے لیے اس کی تڑپ اور انھیں حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بننے والا اس کے ملک کے سیاسی حالات کا تغیر اور سماجی انقلاب کہ جس کی وجہ سے اس نے ملک کو خیرباد کہا تھا اور اب واپس نہیں جاسکتی، ان سب حوالوں کو کنڈیرا نے جس طرح ناول کے ماجرے میں blend کیا ہے، وہ اس کی فن کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب وہ عورت اپنے خطوط حاصل نہیں کرپاتی، لیکن ناول نگار کا کمال یہ ہے کہ اس نے اس عورت کے ذاتی المیے کو پورے سماج اور اس کی ہم عصر تاریخ کا المیہ بنا دیا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ مشرقی پاکستان کو ’’راکھ‘‘ میں حوالہ بناتے ہیں۔ اس کے سیاسی حقائق رقم کرتے ہیں، فوجی اقدامات پر تبصرہ کرتے ہیں، مروان کو اس واقعے کے بعد ایک ایسا قلندر بنا دیتے ہیں جو کہ چارپائی پر نہیں سوتا، حتیٰ کہ عارفین اور اس کی بہن کے ساتھ زنابالجبر تک دکھا دیتے ہیں، مگر وہ معنویت پیدا کرنے سے قاصر رہتے ہیں جو کہ ایک بڑی کہانی کا خاصہ ہوتی ہے۔

    مشرقی پاکستان کے اس واقعے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پوچھا جاسکتا ہے، کیا یہ ناول ہماری قومی تاریخ کا المیہ رقم کرنے کی کوشش ہے؟ ناول نگار اس سوال کا جواب اثبات میں دے گا، لیکن بہ حیثیت قاری ہمارا جواب نفی میں ہے۔ اس کے دو اسباب ہیں۔ اوّل یہ کہ تاریخ کا المیہ رقم کرنے کے لیے کہانی کار کو زندہ، فعال اور بڑے کردار پیش کرنے پڑتے ہیں۔ بڑے کردار سے ہماری مراد اپنی معنویت میں بڑے کردار ہیں۔ ’’راکھ‘‘ میں ہمیں ایک بھی بڑا کردار نظر نہیں آتا۔ سب کردار کم و بیش یکساں قدوقامت رکھتے ہیں۔ تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان میں چند ایک کرداروں میں بڑا بننے کی صلاحیت ضرور تھی۔ مثال کے طور پر مشاہد، مروان، برگیتا، شوبھا چاروں کردار ایسے ہیں کہ انھیں صحیح خطوط پر grow کیا جاتا تو ان میں اپنے اپنے تئیں بڑا ہونے کی گنجائش تھی، لیکن شوبھا کو ناول نگار نے محض entertaining کردار بنایا ہے، جب کہ مروان کو ایک گنجلک اور نفسیاتی مریض کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رہ گئے مشاہد اور برگیتا تو ان کا ماجرا یہ ہے کہ اس کہانی کے دوسرے بیشتر کرداروں کی طرح انھیں بھی جنسی جبلت صحت مند کردار بننے ہی نہیں دیتی۔

    سچی بات پوچھی جائے تو اس ناول کے کرداروں کا سب سے بڑا مسئلہ جنسی بے چینی ہی نظر آتی ہے۔ حد یہ ہے کہ جنسی جبلت کا یہ غلبہ انھیں مریض کے طور پر پیش کررہا ہے، لیکن کہانی کار کی اس پر توجہ ہی نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس ناول میں ہمیں ناول نگار کی تنقیدی نگاہ اور سماجی تاریخ کا شعور کام کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی واقعات، سماجی حالات، معاشی صورتِ حال اور تاریخی حوالوں کے باوجود کہانی رائگاں چلی جاتی ہے۔ ناول کے کرداروں کے سفر میں ہمیں انسانی زندگی کی تلخیاں اور سنگینیاں تو ضرور دکھائی دیتی ہیں، لیکن اُن کی growth نہیں ہوپاتی، لہٰذا ان میں وہ قوت نظر نہیں آتی جو انھیں اس سطح پر لاسکے کہ ان کی زندگی کی تلخیاں اور سنگینیاں قاری کو اپنی محسوس ہوں اور اس کے احساس کی کیفیت بدل جائے۔ وہ جو گابرئیل گارشیا مارکیز کے ’’ہنڈرڈ ایئرز آف سولیٹیوڈ‘‘ یا ’’لو ان دی ٹائم اوف کولرا‘‘ میں کہانی کار کا integrated vision کارفرما نظر آتا ہے، وہ ہمیں مستنصر حسین تارڑ کی اس کہانی میں نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کہانی میں کوئی بڑی اور عہد آفریں معنویت تشکیل دینے سے قاصر رہتے ہیں۔

    اس مضمون کے آغاز میں ایک سوال قائم کیا گیا تھا، ٹی وی ڈراموں اور سفرناموں کے ذریعے شہرت، عزت اور دولت، سبھی کچھ پانے کے باوجود تارڑ کو ناول لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ گفتگو کے اس مرحلے پر ہمیں اس سوال کا جواب فراہم ہوسکتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ بنیادی طور پر ادیب ہیں۔ اب تک کی گفتگو میں ہم دیکھ آئے ہیں کہ فکشن نگاری کا انھیں شوق ہی نہیں ہے، بلکہ وہ اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور یہ صلاحیت آغاز ہی سے ان میں پائی جاتی ہے۔ ٹی وی کے لیے ڈراما نگاری، اداکاری اور پھر سیر و سیاحت اور سفرنامہ نگاری نے انھیں بہت کچھ دیا، لیکن نہ دی تو بس وہ تخلیقی آسودگی جو کسی بھی جینوئن ادیب کے لیے زندگی کی سب سے بڑی دولت ہوتی ہے۔ اس تخلیقی آسودگی کے لیے سچا ادیب کالے کوس کاٹنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ چناں چہ تارڑ بھی سب کچھ ملنے کے باوجود ناول نگاری کے میدان میں اپنی صلاحیت کو آزمانے سے باز نہ رہ سکے۔ اب خرابی یہ ہوئی ہے کہ ناول کی طرف سنجیدگی کے ساتھ وہ بعد میں آئے، شہرت کے کوٹھے جھانکنے کا موقع انھیں پہلے مل گیا۔ کوٹھا طوائف کا ہو یا شہرت کا، پاؤں میں ہوس کے گھنگرو باندھ دیتا ہے۔ یہی ماجرا تارڑ کو پیش آیا۔ انھوں نے تخلیقی آسودگی کی آرزو میں ناول تو ضرور لکھے، لیکن وہ جو شہرت کی چاٹ لگی تھی، اُس نے یہاں بھی اُن کے پاؤں میں گھنگرو باندھ کر ناچنے کے موقعے پیدا کردیے۔ نتیجہ یہ کہ وہ فن جو سچی لگن اور تپسیا کے بعد پیدا ہوتا ہے، اُن کے یہاں نہیں ملتا۔

    چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے ناول کے لیے حیات و کائنات کے کسی بڑے موضوع کا انتخاب تو بے شک کرتے ہیں، اس کی تفہیم کے لیے سوالوں کے سلسلے سے بھی گزرتے ہیں، ناول میں گمبھیر situations بھی بناتے ہیں، اچھے خاصے کرداروں کا انتخاب کرتے ہیں، ان کے اندر باہر کے مناظر دیکھتے اور دکھاتے ہیں، ان کرداروں کا تفاعل بھی ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے اور یہ جس ماجرے سے دوچار ہوتے ہیں، وہ بھی ایسا فرومایہ نہیں ہوتا کہ اُس میں زندگی کے گہرے عمل کو سہارنے کی سکت ہی نہ ہو۔ اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات ان کے کرداروں اور ماجرے دونوں میں اتنی جان ہوتی ہے کہ انھیں بڑے حقائق کی جستجو کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود اُن کے یہاں فن پارہ بڑا نہیں بن پاتا۔ ’’راکھ‘‘ کو تو ہم نے بالتفصیل دیکھ لیا ہے، اک طائرانہ نگاہ دوسرے کچھ ناولوں پر بھی ڈال لی جائے۔

    افغانستان کے شہر مزار شریف کے نزدیک واقع اُنیس ویں صدی کے قلعہ جنگی کے تہ خانے میں بیٹھے اور موت کی راہ دیکھتے ہوئے اُن لوگوں سے ملیے جو مختلف زمینوں اور گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کوئی ان میں سے کسی پاکستانی جنرل کا بیٹا ہے، کوئی پنجاب کے دیہات سے آیا ہے، کوئی پشتو مزدور ہے اور کوئی برطانیہ کا عرب مسلمان۔ ان سب کو یہاں تقدیر نے اکٹھا کردیا ہے151 وہ تقدیر جو اب صرف موت کی صورت میں ان سے آکر ملے گی۔ بے بسی کے اس اندوہ ناک مرحلے پر یہ لوگ وقت کے عفریت سے آنکھیں چرانے کے لیے ایک دوسرے سے اپنا ماجرا بیان کررہے ہیں۔ یہ منظر سب سے پہلے ہمارے ذہن میں قصّۂ چہار درویش کو تازہ کرتا ہے۔ یہ ہماری فکشن کی تاریخ کا ایک زندہ حوالہ ہے جو وقت کے امتحان سے گزر کر آج بھی ہمارے مستحضر حافظے کا حصہ ہے۔ ’’قلعہ جنگی‘‘ کے اس منظر سے جب ہمارا دھیان درویشوں کے اس قصے کی طرف جاتا ہے تو ازخود ایک توقع پیدا ہوجاتی ہے کہ یہاں بھی زندگی کے وقیع تجربات اور انسانی احساس کی تہ در تہ معنویت کو سمجھنے کی صورت پیدا ہوگی، لیکن افسوس کہ ہمیں یہاں صرف موت کے غیر مردانہ خوف کا ہی مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس سے آگے ناول کا بیانیہ sentimental approach اور سیاسی حوالوں سے غیر ضروری طور پر آلودہ ہے، وہ ہمیں کسی بڑی حقیقت کی طرف لے کر نہیں بڑھتا۔

    جنگ بہت بڑا موضوع ہے، اس پر بڑے بڑے ادیبوں نے طبع آزمائی کی ہے۔ ٹولسٹوئے، وکٹر ہیوگو اور جوزف کانرڈ کو مختلف تہذیبوں کی ایسی ہی ابتلا کی باکمال اور احساس کی صورت گری کرتی تصویریں دکھانے والی مثالوں کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ ان تخلیق کاروں کے ناولوں میں جنگ محض افراد کے کردار ہی نہیں، پورے سماج کی شخصیت کو بدلتے ہوئے دکھائی گئی ہے۔ چناں چہ جنگ ایک علاقے اور ایک زمانے کا تجربہ ہونے کے باوجود اپنی سفاک معنویت کا اظہار اس طرح کرتی ہے کہ لامکانی اور لازمانی ہوجاتی ہے۔ ’’قلعہ جنگی‘‘ میں مصنف کی نکتہ آفرینی کا درجہ صحافتی رپورٹنگ سے اوپر نہیں اٹھتا۔ کرداروں کا احوال retrospective ہوکر پاکستانی فوج کے ایک راشی جنرل اور دیہی پنجاب کے تمسخر تک پہنچتا ہے اور وہ بھی کسی گہرائی کے بغیر۔ افغانستان کے مدرسوں کے طلبہ کا مجاہدین سے دہشت گردی تک کا سفر بھی سیاسی و صحافتی بیانیے کا ملغوبہ معلوم ہوتا ہے۔

    پنجاب کی زندگی، ثقافت اور سماجی تناظر کو ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے اس ناول کو سماجی ساگا کہا گیا۔ اس میں نسلوں کی کہانی ہے۔ زبان، ثقافتی مظاہر، موسم، اشجار، لینڈ اسکیپس، فصلیں، کھلیان، مزدور، عوام، خواص، جڑوں کی تلاش، انفرادی اور اجتماعی شخصیت کے روپ151 مسالا تو اس ناول میں بہت ہے، لیکن بس وہی شے نہیں ہے جو ایسے کسی تخلیقی کام کو اپنے قاری کے زندہ تجربے میں ڈھال دیتی ہے۔

    اس ناول میں اٹھائے گئے سوالات نئے ہیں اور نہ ہی ادب و فن کی دنیا میں ان سوالوں کے جواب پانے کی خواہش نئی ہے۔ دنیا کا سارا بڑا ادب ایسے ہی سوالوں سے بھرا ہوا ہے۔ ادب کے راستے انسانی زندگی کی ماہیت کو جاننے اور معنویت کو پانے کی آرزو رکھنے والے ہر تہذیب اور ہر زمانے کے ادیبوں نے اپنے اپنے سیاق میں ایسے ہی سوالوں کو تخلیقی سفر کا زادِ راہ بنایا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ نے بھی اپنے جگر کے سوز اور فن کی جرأت کو اسی دائرے میں آزمایا ہے۔ یہاں جو چیز نئی ہے وہ ناول کا زمانی سیاق ہے جو بیس ویں صدی کی لگ بھگ آٹھ دہائیوں کو محیط ہے۔ اس دائرے میں پنجاب سے لے کر نیویارک تک کاسمو پولیٹن سماج کے کردار ہیں۔ یہ کردار مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی، معاشی اور جنسی حوالوں کے ساتھ کہانی کے بیانیے میں رونما ہوتے ہیں۔ ان کے قدم سے قدم ملاکر چلتی جبلت اور راستہ کاٹتی تقدیر کہیں تناؤ اور کہیں انجذاب کا منظر ابھارتی ہے۔ اسی حوالے سے ہمیں تخلیق کار کی فنی کاوش کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

    ٹھیک ہے کہ اس ناول کے لیے تارڑ نے تحقیق کی ہوگی، کتابیں، فائلیں اور ریکارڈ کھنگالے ہوں گے، لیکن فکشن سے ہم ایک ایسے جمالیاتی تجربے کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہیں جو ہمارے احساس کی کیفیت کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ہم کسی ناول سے تحقیق کے حوالے اخذ نہیں کرتے، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے احساس کی نئی تشکیل کرتا ہے کہ نہیں۔ چناں چہ کسی ناول کی اثر پذیری کا کمال یہ ہے کہ وہ ہمارا دھیان اُس تحقیق و تدقیق کی طرف جانے ہی نہ دے جس کی کھکھیڑ فکشن نگار نے اٹھائی ہو۔ اُس کا جمالیاتی اظہار اتنا طاقت ور ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے احساس کو انکشاف اور فہم کے اُس راستے پر ڈال دے جہاں ہمیں زندگی کا وہ لمس میسر آئے جو ہمارے وژن میں تبدیلی لے آئے۔ ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ میں پنجاب کی ثقافتی زندگی کا منظر تو بے شک وسیع ہے، لیکن اس کی کیفیت اُن رنگوں سے عاری ہے جو قاری کی رگوں میں دوڑتے خون میں شامل ہوکر اُس کا رنگ و آہنگ بدل دیتے ہیں۔

    کمیونزم کی شکست یا آئیڈیلزم کی موت کے پس منظر میں لکھا گیا ناول ’’اے غزالِ شب‘‘ خوابوں کی شکست کو بیان کرتا ہے۔ یہاں نئی دنیاؤں کی عقدہ کشائی ہوتی ہے۔ سیر و سیاحت بھی ہوتی ہے۔ نوجوانوں کی جذباتیت بھی سامنے آتی ہے، زمینیں کس طرح رنگ بدلتی ہیں اور وقت کس طرح نئی منزلوں کی سمت جانکلتا ہے۔ ناول نگار نے یہ سب تو بتایا ہے، لیکن وہ اسے پڑھنے والے کے تجربے میں ڈھالنے سے قاصر رہتا ہے۔ اصل میں اس کی توجہ کھیل تماشوں کی طرف مرکوز رہتی ہے اور اُسے اس بات کا خیال ہی نہیں آتا کہ مثالیت پسندوں کے سوالات ہی اور ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے اپنے آئیڈیل سے بڑی کوئی شے زندگی میں، بلکہ اس پوری کائنات میں نہیں ہوتی۔ جب وہ اپنے آئیڈیل کی موت کے المیے سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ اس تجربے کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ خوابوں کی شکست و ریخت کس طرح زندگی کا ناگزیر حصہ ہوتی ہے۔ اگر اُن کا آئیڈیلزم تہذیبی سطح کا ہو تو پھر اُن کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ تہذیبیں کس طرح ایک مرحلے پر سرکشیدہ نظر آتی ہیں اور پھر دوسرے مرحلے پر سنسناتی ہواؤں کی گزرگاہ بن جاتی ہیں، ایک زمانے کے بڑے بڑے آدرش وقت کی جنبشوں میں اپنی بڑائی کس طرح کھو دیتے ہیں۔ ان سوالوں کی تہ میں کہیں اس سوال کے کھوج کی آرزو بھی ہوتی ہے کہ وجود کے پیش پا افتادہ مسائل روح کے عمیق و لطیف تقاضوں کو کس طرح روندتے چلے جاتے ہیں۔

    ویسے ان سوالوں کی تفتیش اس ناول میں اور ان کرداروں کے ساتھ کوئی اَن ہونی بات بھی نہیں تھی۔ تارڑ نے جن جذباتی نوجوانوں کے کردار تراشے تھے اور جس طرح ان کی مثالیت پسندی کو موضوع بنایا تھا، ان میں یہ سکت پیدا کی جاسکتی تھی کہ اُن سے بڑے مسائل کی تفتیش اور تفہیم کا کام لیا جاتا، لیکن ایسا نہیں ہوپاتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ناول نگار لینن اور اسٹالن کے مجسّموں کے گرائے جانے اور ان کے زیرِ زمین گوداموں میں منتقل ہونے اور ملبے کی صورت بکنے کے صحافتی بیانیے کا ہوکر رہ جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک سرسری کیفیت کا مشاہدہ ہم اُس وقت کرتے ہیں جب ان خواب پرستوں میں سے ایک نوجوان جو چالیس سال بعد بڑھاپے کی دہلیز پر، وطن (لاہور) واپس آتا ہے۔ بدلی ہوئی زندگی کا تجربہ اسے بس ایسے سوالوں سے دوچار کرتا ہے کہ مال روڈ پر جو تانگے چلا کرتے تھے، وہ اب کہاں چلے گئے؟ اس سوال پر قاری کو خیال گزرتا ہے کہ شاید یہاں سے تہذیبی تغیر کو سمجھنے کا راستہ کھلے گا۔ شاید یہ طنز ہوگا جو گہرائی میں جاکر ثقافتی المیے کا احساس جگائے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا اور یہ سوال محض ایک سرسری احساس تک محدود رہتا، کسی گہری معنویت کے فروغ کا ذریعہ نہیں بنتا۔

    یوں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ تارڑ کے یہ ناول اپنی اوّلین قرأت میں چاہے قاری کی دل چسپی کو برقرار رکھتے ہوں، لیکن اُسے کسی ایسی گہری معنویت سے ہم کنار نہیں کرتے جو اُسے ناول کے کرداروں اور اُن کے ماجرے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرے۔ اُس کے اندر کچھ سوالات اُٹھائے، اس کے بعض سوالات کا جواب فراہم کرے اور کچھ سوالوں کی تفتیش کا فریضہ اسے سونپ دے151 یا کم سے کم ناول کی بارِ دیگر قرأت کی طرف ہی اسے مائل کرسکے اور اسے اپنا وژن ازسرِنو بنانے کی ترغیب دے۔

    قدرت کسی سے ناانصافی نہیں کرتی، حتیٰ کہ مستنصر حسین تارڑ جیسے لوگوں سے بھی نہیں کہ جو خود سے ناانصافی کرتے ہیں اور اپنے جوہر کو misuse کرتے ہیں۔ ممکن ہے، یہ بات تارڑ کے مداحوں کے حلق سے ذرا مشکل سے اُترے کہ اُن کا حقیقی تخلیقی جوہر اُس انداز اور اُس سطح پر اُن کے فکشن میں بالعموم بہ روے کار نہیں لایا گیا ہے، جس پر آکر وہ اپنی صلاحیت اور قوتِ کار کا بہتر اظہار کرسکتا تھا۔ یہ بات پوری ذمے داری سے کہی گئی ہے۔ اس بیان کے حق میں دلیل بھی خود تارڑ کے کام سے فراہم ہوتی ہے۔ اُن کا ناول ’’بہاؤ‘‘ یہ دلیل ہمیں فراہم کرتا ہے۔ اس ناول کے تخلیقی تجربے کی نوعیت تارڑ کے دوسرے کاموں سے بہت مختلف ہے۔

    ’’بہاؤ‘‘ ایک بہتر سطح کا ناول ہے۔ کہانی کی بنت، کرداروں کی کیفیت، مناظر کی وسعت، بیانیے کی تہ داری اور ابلاغ کی قوت کے اعتبار سے یہ تارڑ کا سب سے اچھا ناول نظر آتا ہے۔ کہا جانا چاہیے کہ یہ صرف تارڑ کا ہی اچھا ناول نہیں ہے، بلکہ اردو کے منتخب ناولوں میں شمار کیا جائے گا۔ ویسے متعدد انٹرویوز میں تارڑ نے خود بھی اسے اپنا پسندیدہ ناول قرار دیا ہے، حالاں کہ اُن کے دوسرے ناولوں کے مقابلے میں اس کی عوامی سطح پر پذیرائی کم ہوئی ہے۔ اس سے ہمیں دو باتوں کا پتا چلتا ہے، پہلی یہ کہ تارڑ ایک اچھا ادبی ناول لکھنے کا پورا پوٹینشل رکھتے ہیں۔ دوسری یہ کہ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ ادب کے کون سے معیارات کی بنیاد پر کوئی تخلیقی تجربہ اعتبار حاصل کرتا ہے۔ اس ناول میں انھوں نے ان معیارات کا لحاظ رکھا اور اردو کو ایک بہتر سطح کی کہانی میسر آئی۔ اس ناول پر داد دیتے ہوئے خیال آتا ہے، وہ جو کہا گیا ہے کہ آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ورنہ، آگے اور بہت آگے جاسکتا تھا میں، اس امر کا اطلاق بجا طور مستنصرحسین تارڑ پر ہوتا ہے۔

    دیکھا جائے تو ’’بہاؤ‘‘ کی کہانی، کردار اور سچویشنز سب کے سب کسی قدر ادق ہیں۔ ان میں وہ مسالا نہیں ہے جس سے عامۃ الناس کے لطف کا سامان ہوسکے۔ خاص طور سے بیانیہ اور زبان کا اسلوب ذرا غور طلب ہے۔ قاری اسے بیڈ ٹائم اسٹوری کے طور پر نہیں پڑھ سکتا۔ اس ناول کو غنودگی لانے اور رومانی خواب دکھانے والی کتابوں میں نہیں رکھا جاسکتا۔ اس میں قہقہے کو اکسانے والی باتیں ملتی ہیں اور نہ ہی تفننِ طبع کا سامان کرنے والے کردار نظر آتے ہیں۔ اس کے بجائے قاری کو اس کی قرأت میں ذہن کو حاضر اور دل کو متوجہ رکھنا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس ناول میں مصنف نے کرداروں اور مناظر کو چیستان بنانے کی کوشش کی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جائے گا کہ اس ناول کے کردار دبیز ہیں جو تارڑ کے ناولوں کے اکثر اکہرے کرداروں سے بہت مختلف ہیں۔ اس لیے ان کرداروں کا ماجرا بھی الگ ہے۔ ورچن، سمرو، ڈورگا، پورن، پکلی، نندی، ناگری، مامن دھروا، یعنی اس ناول میں کتنے ہی ایسے کردار ملتے ہیں جو آپ کو اپنے مسئلے میں الجھا لیتے ہیں اور آپ کی توجہ خود سے ہٹنے نہیں دیتے151 اور پاروشنی تو خیر ایسا کردار ہے جو تادیر حافظے میں زندہ رہنے کی قوت اور جواز رکھتا ہے۔

    دیکھنا چاہیے کہ آخر وہ کیا شے ہے جو ’’بہاؤ‘‘ کو مستنصر حسین تارڑ کے دوسرے ناولوں سے الگ کرتی اور ایک جاذبِ توجہ تخلیقی نگارش کے درجے میں لاتی ہے۔ یہ ذرا غور طلب معاملہ ہے۔ اس لیے کہ اس کا انحصار کسی ایک بات پر نہیں ہے۔ جیسا کہ ابھی کہا گیا، اوّل تو یہی ہے کہ اس کے کردار اکہرے نہیں ہیں، بلکہ تہ داری اور دبازت رکھتے ہیں۔ اُن کی ظاہری یا خارجی زندگی کے ساتھ ساتھ کہانی میں بہت سلیقے اور اہتمام سے باطنی یا داخلی زندگی کا ایک رُخ بھی ابھارا گیا ہے جو صرف انھی کو نہیں، بلکہ اُن کے سماج کو بھی سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ دوم یہ کہ ایسے عناصر کو کہانی میں فنی پختگی کے ساتھ سمویا گیا ہے جو وقت اور تقدیر کی عمل داری کو قابلِ فہم بناتے ہیں۔ یہ کام دونوں سطحوں پر کیا گیا ہے، یعنی افراد اور سماج۔ اس سے کہانی میں وہ پہلو پیدا ہوتا ہے جو اُسے تفریحِ طبع کے درجے سے اٹھا کر فکر کو مہمیز دینے والی نگارشات میں لے آتا ہے۔ سوم یہ کہ فطرت کی اُن منہ زور قوتوں کو بھی کہانی کے ڈسکورس کا حصہ بنایا گیا ہے جن سے سماج ہم آہنگ ہوکر اگر انھیں اپنے تصرف میں نہ لائے تو وہ تعمیر کو چھوڑ کر تخریب کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ ناول میں اس کی سب سے نمایاں مثال سندھو گھاگھرا ہے۔ بڑے پانیوں کے انتظار میں آلکس سے بیٹھے رہنا اور بستی کا دریا سے یا دریا کا بستی سے رُوگرداں ہوتے چلے جانا جہاں ایک طرف تقدیر کے اشارے کو ظاہر کررہا ہے، وہیں دوسری طرف اُن اسباب کو بھی واضح کررہا ہے جو بقا اور ارتقا کی راہ کے مسدود ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ تب انحطاط اور زوال ناگزیر ہوجاتا ہے۔ چہارم یہ کہ کہانی ایک مستحکم بیانیے کے ساتھ سفر کرتی ہے۔ کہانی کار اپنے قاری کو پکڑے رکھنے کے لیے اُس میں مصنوعی آرائش کا اہتمام نہیں کرتا۔ پنجم یہ کہ بے شک ہنسی مذاق زندگی کا حصہ ہے، لیکن زندگی کو محض ہنسی مذاق سمجھنا ہرگز درست نہیں، یا اُس کے سنجیدہ مسائل اور عوامل کو ٹھٹھول میں اڑا دینا تخلیقی تجربے کی معنویت ہی میں تخفیف نہیں کرتا، بلکہ اُس کے ابلاغ کی راہ میں بھی مزاحمت پیدا کرتا ہے۔ اس ناول میں تارڑ نے اُس غیر ضروری اور متانت سے عاری مزاح سے بھی گریز کیا ہے جو ’’راکھ‘‘، ’’قلعہ جنگی‘‘ اور ’’اے غزالِ شب‘‘ کے سنجیدہ مقامات اور اہم کرداروں تک کو گزند پہنچاتا نظر آتا ہے۔

    ایسے ہی کچھ اور پہلوؤں کی نشان دہی مزید کی جاسکتی ہے، لیکن بات طول کھینچ رہی ہے، اور پھر یہ کہ جن نکات کی جانب توجہ مبذول کرانا مقصود تھا، اِن اشاروں میں وہ آچکے ہیں۔ سو اب ہم اس ناول کی بابت آخری نکتہ بیان کرکے بات پوری کرتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہ دانستہ عمل ہے یا پھر ایسا لاشعوری سطح پر ہوتا ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تارڑ کے ناولوں میں ایک سیاسی بیانیہ راہ پالیتا ہے۔ اکثر و بیشتر یہ بیانیہ اُن کے یہاں islolated content کے طور پر ناول میں نظر آتا ہے۔ وہ ناول میں تو ہوتا ہے، لیکن ناول کے Grand Narrative سے اس کا کوئی بہت علاقہ نہیں ہوتا۔ چناں چہ کرداروں اور کہانی پر اُس کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ وہ اگر نہ بھی ہو تو کہانی کی معنویت متأثر نہیں ہوگی۔ ’’بہاؤ‘‘ میں ایسا کوئی سیاسی بیانیہ نہیں ہے۔ یہاں تخلیق کار کی تمام تر توجہ زندگی کے کھرے تجربے اور حیات و کائنات کے حقیقی سوالوں پر مرکوز رہی ہے۔ حالاں کہ اس ناول میں سیاست بگھارنے کا موقع باآسانی نکل سکتا تھا۔ اس لیے کہ یہاں ترقی پذیر اور زوال آمادہ دونوں سماج نہ صرف موجود ہیں، بلکہ ایک دوسرے کے مقابل معنویت کا ایک وسیع تناظر قائم کرتے ہیں۔

    اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سیاسی بیانیہ ناول کے لیے شجرِ ممنوعہ ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ کسی بھی ناول میں سیاسی بیانیے کی گنجائش، بلکہ ضرورت پیدا ہوسکتی ہے۔ جدید فکشن میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بیشتر بڑے ناولوں میں کسی نہ کسی سطح پر سیاسی بیانیہ ضرور داخل ہوجاتا ہے۔ ہمارے یہاں اردو میں بھی کتنے ہی ایسے ناول ہیں، جن میں سیاسی بیانیہ نہ صرف نظر آتا ہے، بلکہ کہانی کی سمت اور کرداروں کی ابتلا کی تفہیم کا ذریعہ بنتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’اداس نسلیں‘‘، ’’آگے سمندر ہے‘‘، ’’آخرِ شب کے ہم سفر‘‘، ’’خوشیوں کا باغ‘‘ اور ’’فائر ایریا‘‘ کو دیکھا جائے تو کہانی اور کرداروں کی معنویت کے تعین میں سیاسی جہت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ گویا سیاسی بیانیہ تخلیقی تجرے میں راہ پاسکتا، بلکہ بعض اوقات ناگزیر ہوجاتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا ناولوں میں ہم دیکھتے ہیں۔ البتہ تارڑ کے ناولوں میں سیاسی بیانیہ کہانی کے ڈسکورس کا اس طرح حصہ نہیں بن پاتا کہ جزوِ لازم محسوس ہو اور اس کی معنویت کو فروغ دے۔

    اب جہاں تک بات ہے زندگی کے تجربے کی، اسے ’’بہاؤ‘‘ میں لطیف اشاروں سے ابھارا گیا ہے۔ نقادوں کی عمومی رائے یہ ہے کہ اس میں ہزاروں سال پہلے کی تہذیب یا سماج کی زندگی اور اس کے زوال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس ضمن میں تارڑ کو تہذیبوں پر تحقیق کی داد ہی نہیں دی گئی، بلکہ اُس زبان کی بھی بہت ستائش ہوئی جو اس ناول کے کردار بولتے ہیں۔ ٹھیک ہے، اگر کوئی مصنف ناول لکھنے سے پہلے موضوع کی تحقیق کا ہوم ورک ضروری سمجھتا اور کرتا ہے تو اچھی بات ہے، لیکن جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ تحقیق کے نام پر کسی ناول کے لیے کوئی داد نہیں ہوسکتی۔ داد تو اُس تخلیقی تجربے کی دی جاتی ہے جو قاری کے احساس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ شے جس کی فکشن نگار اپنی کہانی میں جمالیاتی تشکیل کرتا ہے۔ یہ جمالیاتی تشکیل زندگی کے بارے میں ہمارے وژن کو، لوگوں کے بارے میں ہمارے رویے کو کائنات کے بارے میں ہماری رائے کو اور اپنی ذات کے بارے میں ہمارے تصور کو بدلنے کی جتنی بڑی طاقت رکھتی ہے، اتنا ہی وہ ناول اہم اور قابلِ داد ہے۔

    رہی بات زبان کی تو کوئی بھی ناول زبانوں کے ارتقا، تغیر یا تشکیل میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کرتا۔ یہ کام اُس سے کہیں بہتر طور پر شاعری کرسکتی ہے۔ ٹھیک ہے، ناول نگار کو زبان کے اسلوب کی داد دی جانی چاہیے، لیکن کسی ناول کی پرکھ کا سب سے اہم معیار زبان نہیں ہوتی۔ خاطر نشان رہے کہ یہ بات خصوصیت کے ساتھ کرداروں کی زبان کے حوالے سے کی جارہی ہے۔ چناں چہ ’’بہاؤ‘‘ کو تارڑ کی تحقیق اور زبان سازی بڑا نہیں بناتی۔ اس ناول کی اصل داد یہ ہے کہ اس میں تخلیق کار نے فرد سے لے کر سماج تک زندگی کے جو خدوخال ابھارے ہیں، وہ گہری معنویت کے حامل ہیں۔ جس طرح انفرادی اور اجتماعی کردار نگاری کی گئی ہے، وہ اصل میں قابلِ داد ہے۔ تغیر و ارتقا کے عوامل اور قوتوں کو جس طرح زبان دی گئی اور جیسے ان کی صورت گری کی گئی ہے، اُس کے لیے ناول نگار کی ستائش ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر دیکھیے، زوال آمادہ سماج کے کردار ورچن کی سائیکی کو اس میں جس طرح پیش کیا گیا ہے وہ بیک وقت فرد اور سماج دونوں کی شخصیت کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح ایک موقعے پر ترقی کی راہ پر گامزن سماج کا ایک کردار پورن اُس سے جو کچھ کہتا ہے، وہ ایک فرد کا نہیں، بلکہ وقت کے ایک اصول کا اور کائناتی قوتوں کا کلامیہ ہوجاتا ہے:

    تمھارے جسموں میں آلکس ہے اور تمھاری آنکھوں میں نیند ہے اور تمھارے دریا سست ہوچکے ہیں۔ کوئی بھی زمین کا پتر نہیں ہوتا۔ نرا اُس میں پیدا ہوجانے سے وہ تمھاری نہیں ہوجاتی جب تک کہ اس کی خدمت نہ کرو۔ اس کی چاکری نہ کرو۔ (’’بہاؤ،ص۶۳)

    اسی طرح ایک اور واقعے پر جب ہم غور کرتے ہیں تو اس کے کچھ اور معنی کھلتے ہیں۔ ورچن ترقی کرنے والے سماج میں رہ کر اپنی بستی میں واپس آتا ہے اور پاروشنی اُس کے انتظار میں کسی سے شادی نہیں کرتی۔ وہ آتا ہے تو دونوں کا بیاہ ہوجاتا ہے، لیکن سہاگ رات محبت کے خوابوں کی تعبیر نہیں بن پاتی۔ اس کا احساس پاروشنی کے ساتھ ساتھ ورچن کو بھی ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ورچن کے جسم میں وہ طاقت ہی نہیں تھی جو اُن کے جیون میں اور اس رشتے میں روشنی پیدا کرتی۔ اب ذرا دیکھیے، کیا یہ نکتہ صرف ایک فرد کی جنسی کم زوری کا مسئلہ ہے؟ ہرگز نہیں، بلکہ یہ اُس سماج کا اضمحلال ہے جو زوال آمادہ ہے۔ مستنصر حسین تارڑ نے قوتِ حیات کی اس کمی کو لطافت اور باریکی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یوں اضمحلال کا یہ استعارہ فرد سے لے کر سماج تک بامعنی ہوجاتا ہے۔

    ڈی ایچ لارنس نے نقاد کے کام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کسی فنی تخلیق پر کوئی محاکمہ یا تنقید کرتے ہیں تو اس کی بنیاد وہ اثرات ہوتے ہیں جو وہ تخلیق ہمارے خالص اور زندہ جذبات پر مرتب کرتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مستنصر حسین تارڑ کا ناول ’’بہاؤ‘‘ ہمارے خالص اور زندہ جذبات کو متحرک کرتا ہے، زندگی، وقت اور کائناتی عناصر کے بارے میں کچھ سوچنے اور ایک نئی نگاہ سے انھیں دیکھنے کا زاویہ فراہم کرتا ہے۔ یہ کام ایک کامیاب ناول ہی کرسکتا ہے۔ چلیے، تارڑ کے پاس کم سے کم ایک ناول تو ایسا ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY