اقبال کا کارنامہ اردو نظم میں

آل رضا رضا

اقبال کا کارنامہ اردو نظم میں

آل رضا رضا

MORE BYآل رضا رضا

    نظم کی اصطلاح پہلے تو شاعری کے لئے استعمال ہوتی تھی اور اس کے مقابلے میں نثر کو رکھا جاتا تھا۔ پھر یہ غزل کے علاوہ شاعری کی دوسرے اقسام کے لئے استعمال ہونے لگی مگر جدید تناظر میں نظم وہ صنف سخن ہے جو نہ قصیدہ ہے نہ مثنوی، نہ مرثیہ، نہ شہر آشوب، نہ واسوخت، نہ رباعی۔ ایک صنف سخن کی حیثیت سے یہ نظیر اکبرآبادی کے یہاں نمایاں ہے اور آزاد اور حالیؔ کے زمانے سے اس کی روایت کا استحکام ہوتا ہے۔ یہ مخصوص صنف نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی مخصوص ہیئت ہے۔ چنانچہ ترکیب بند، ترجیع بند، مستزاد، قطعہ، مسمط (جس میں مثلث، مربع، مخمس، مسدس، مسبع، مثمن، متسع، معسر کی ہئیت شامل ہیں) اور اس کے علاوہ مثنوی یا غزل کی ہیئت میں نظمیں اور انگریزی ادب کے اثر سے نظم معریٰ اور آزاد نظم، سانیٹ، ترایلے، ہائیکو اور اب نثری نظم بھی اس ذیل میں آتی ہیں۔

    نظم کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غزل کے مقابلے میں ایک موضوع اور ایک مسلسل بیان ہوتا ہے۔ مسلسل بیان کی وجہ سے اشعار میں ربط اور تسلسل آجاتا ہے۔ کلیم الدین احمد نے نظم کے لئے ناگزیر ربط اور ناگزیر ترتیب کی شرط لگائی ہے مگر میرے نزدیک یہ نظم کا میکانکی تصور ہے۔ شاعری میں مسلسل پرواز بھی ہوتی ہے اور جستوں یا پروازوں کا ایک سلسلہ بھی۔ پھر انیسؔ کی طرح ایک پھول کے مضمون کو سورنگوں میں بھی باندھا جاتا ہے۔

    کلیم الدین احمد نے ارتقائے خیال کا بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن یہاں بھی شاعر کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے، کبھی دائیں بائیں، پھر خیال کو واضح کرنے کے لئے کبھی کبھی تکرار اور پھیلاؤ دونوں کی گنجائش ہوتی ہے۔ پونے تو ہر طویل نظم کو مختصر نظموں کا ایک مجموعہ کہا ہے۔ مغرب میں جس طرح نظم کا ارتقا ہوا ہے اس طرح ہمارے یہاں نہیں ہوا۔ اور اگرچہ قصیدہ، مثنوی، مرثیہ کا رواج ہمارے یہاں شروع سے رہا ہے مگر غزل زیادہ مقبول رہی ہے۔ اس لئے غزل کی ہیئت اور غزل کے اسلوب دونوں کا ہماری نظم کے ارتقا پر اثر ہوا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارے یہاں نظم میں خاصی آزادی اور خاصا تنوع ہے اور اس کو ملحوظ رکھے بغیر ہم اس صنف کے سرمائے سے پورا انصاف نہیں کر سکتے۔

    اقبالؔ کو نظم کی جو روایت ملی تھی اس کے سرمائے میں نظیرؔ کی نظموں کے، حالیؔ، آزادؔ، اسماعیل ؔ میرٹھی اور اکبرؔ کے فن کی روایت تھی۔ پھر یہ پیامی، مقصدی، اصلاحی اور اخلاقی شاعری کا دور تھا اور براہ راست بات کہنی ضروری سمجھی جاتی تھی۔ اقبالؔ نے اگرچہ شاعری کی شروعات رواج کے مطابق غزل سے کی مگر بہت جلد نظموں کی طرف متوجہ ہوئے کیونکہ پیامی نقطہ نظر سے یہ صنف اظہار خیال کے لئے زیادہ کارآمد تھی۔ انہوں نے فارسی کی طرح اردو میں طویل نظمیں نہیں لکھیں مگر اردو میں ان کی مختصر اور نسبتاً طویل نظموں کی تعداد کیفیت اور کمیت دونوں کے لحاظ سے اتنی ہے کہ وہ اب تک نظم کے سب سے بڑے شاعر کہے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اردو نظم کو جو وسعت، گہرائی، بعد اور فکری رفعت عطا کی ہے اس سے انکار کفر ہوگا۔

    انہوں نے اگرچہ غزل کو بھی صحیفہ کائنات بنایا مگر در اصل وہ نظم کے شاعر ہیں اور ان کے یہاں غزلوں کے مقابلے میں نظموں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر مطبوعہ اردو کلیات کا جائزہ لیا جائے تو بانگ درا میں پہلے دور میں ۴۹ نظمیں اور ۱۳ غزلیں ہیں۔ دوسرے حصے میں ۲۴ نظمیں اور ۷ غزلیں اور تیسرے حصے میں ۷۱ نظمیں اور ۸ غزلیں ہیں۔ گویا بانگ درا میں نظموں کی تعداد ۱۴۴ اور غزلوں کی تعداد ۲۸ ہے۔ یعنی پانچ گنی سے کچھ زیادہ۔ بال جبریل ۷۶ غزلیں دو حصوں میں اور ۶۲ چھوٹی بڑی نظمیں ہیں۔ ضرب کلیم بیشتر چھوٹی نظموں پر مشتمل ہے اور یہاں غزلوں کی تعداد بہت کم ہے۔ صرف ۵ غزلیں ہیں اور ۱۳۹ نظمیں۔ محراب گل افغاں کے افکار میں غزلوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے مگر اس میں ایک گیت کا تجربہ بھی ملتا ہے۔ ظریفانہ کلام کا تجزیہ میں نے نہیں کیا ہے اس میں غزلیں زیادہ ہیں مگر قطعات بھی ملتے ہیں۔

    ارمغان حجاز میں اردو حصہ مختصر ہے اس میں ۹ نظمیں ہیں اور ملازادہ ضیغم لولابی کی بیاض کے عنوان سے ۱۸ غزلیں اور ایک ترجیعی مستزاد۔ غرض اردو کلیات میں ۳۵۴ چھوٹی بڑی نظمیں اور ۱۲۷ غزلیں ہیں یعنی تگنی سے کچھ کم۔ شروع میں اقبالؔ نے مسدس کو بہت زیادہ برتا۔ بانگ درا کی پہلی پانچ نظموں کے علاوہ آفتاب صبح، موج دریا، نالہ فراق، وطنیت، شکوہ اور جواب شکوہ مسدس کی ہیئت میں ہیں۔ متروک کلام میں بھی پہلی وہ نظم جس کی وجہ سے ان کی شہرت ہوئی یعنی ’نالہ یتیم‘ مسدس کی ہیئت میں ہے۔ اقبالؔ یوں تو غزل، مثنوی، مسدس، قطعہ، سب ہیئتوں کو برتتے ہیں لیکن شروع سے ان کی مرغوب ہیئت ترکیب بند رہی ہے۔

    صاحب بحر الفصاحت تو مسدس کو بھی ترکیب بند کا ایک روپ مانتے ہیں۔ غزل کی ہیئت ان کے ترانہ ہندی میں ملتی ہے جس میں مطلع کے علاوہ مقطع بھی موجود ہے اور جس میں تخلص لایا گیا ہے۔ ترکیب بند میں اقبالؔ نے ہربند میں مساوی تعداد کی اشعار کی پابندی نہیں کی جس کی سب سے دلچسپ مثال حضور رسالت مآبؐ میں ہے جو جنگ طرابلس کی یادگار ہے۔ اس کے پہلے بند میں تین اور دوسرے تیسرے میں چار چار اشعار ہیں۔ شمع و شاعر میں جو ترکیب بند ہے، ہر بند ایک قطعہ کی ہیئت میں ہے اور والدہ مرحومہ کی یاد میں مثنوی کی ہیئت میں۔ یعنی قید کے اندر خاصی آزادی برتی گئی ہے، اوریہ آزادی اقبالؔ کے فنی شعور کا مزید ثبوت ہے۔

    اگرچہ اقبالؔ کی زیادہ تر نظمیں مختصر ہیں مگر نسبتاً طویل نظموں کی تعداد بھی خاصی ہے۔ نالہ یتیم، یتیم کا خواب، ہلال عید سے، اشک خوں، اسلامیہ کالج کا خطاب، پنجاب کے مسلمانوں سے اور فریاد امت جس کا صرف ایک بند بانگ درا میں ملتا ہے، بانگ درا میں شامل نہیں کی گئیں۔ لیکن بانگ درا میں بھی تصویر درد، شکوہ و جواب شکوہ، شمع و شاعر، والدہ مرحومہ کی یاد میں، خضر راہ اور طلوع اسلام، بال جبریل میں مسجد قرطبہ، ساقی نامہ، ذوق و شوق، مکالمہ پیر رومی و مرید ہندی اور ارمغان حجاز میں ابلیس کی مجلس شوریٰ جیسی طویل نظموں کی قابل لحاظ تعداد ہے۔

    ایک اور دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ جس طرح فارسی میں تسخیر فطرت کے ذیل میں پانچ نظمیں آتی ہیں جن میں سے ہر نظم اپنی جگہ مکمل ہے۔ مگر موضوع کو آگے بڑھاتی ہے۔ اسی طرح بال جبریل میں لینن، فرشتوں کا گیت اور فرمان خدا فرشتوں کے نام اگرچہ الگ الگ نظمیں ہیں، مگر ان میں ایک ربط مل جائے گا۔ دعا اور مسجد قرطبہ، قیدخانہ میں معتمد کی فریاد، عبدالرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت، ہسپانیہ اور طار ق کی دعا میں بھی ایک رشتہ ہے۔ گویا نظموں میں ایک آزاد رشتے، ہستیوں کے تنوع اور موضوعات کی رنگا رنگی تینوں اقبالؔ کی امتیازی خصوصیات ہیں۔

    کلیم الدین احمد نے اقبالؔ ایک مطالعہ میں اقبالؔ کی چند طویل نظموں اور چند مختصر نظموں کا تجزیہ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اقبالؔ کی نظموں میں اس طرح ربط و تسلسل اور ارتقائے خیال نہیں ملتا جس طرح ہمیں مغربی شعرا کی نظموں میں ملتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر بعض اشعار حذف کر دیے جائیں یا ان کی ترتیب بدل دی جائے تو اس سے کوئی خاص فرق نہ پڑے گا بلکہ نظم بہتر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بعض موضوعات یعنی خودی، عشق، فقر کی تکرار پر بھی اعتراض کیا ہے اوراس کے ساتھ اقبالؔ کے یہاں خطیبانہ اسلوب پر بھی۔ انہوں نے خاص طور پر طلوع اسلام اور مسجد قرطبہ کی ساخت پر اعتراض کیا ہے اور خضر راہ میں صرف شروع کے چند بندوں میں شعریت دیکھی ہے۔

    اگر شاعر کے ادبی نقطہ نظر، نظموں کے موضوع اور اقبالؔ کے ادبی ماحول اور ابلاغ کی ضروریات کو ملحوظ رکھا جائے تو کلیم الدین احمد کے اکثر اعتراضات بے جا معلوم ہوتے ہیں۔ اقبالؔ کی شاعری مقصدی شاعری ہے، اسے موچی دروازے کی شاعری کہہ کر اس کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ فیضؔ نے کیا ہے۔ یا بیشتر منظوم کلام کہہ کر جیسے حامد کاشمیری نے کیا ہے۔ یہاں صرف یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ شاعری ہے یا نہیں، یہ شاعری خطیبانہ بھی ہو سکتی ہے۔ اچھی شاعری بھی اور اعلیٰ شاعری بھی یعنی یہا ں تجربہ ہے یا محض پیام۔ ایک اچھے نقاد کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ اس شاعر سے ذہنی ہمدردی کا ثبوت دے جس کا وہ مطالعہ کر رہا ہے۔ کلیم الدین احمد کے یہاں اسی ذہنی ہمدردی کا ثبوت نہیں ملتا۔

    ذہنی ہمدردی کے بعد مسلمہ معیاروں کی روشنی میں تجزیے اور تبصرے کا مرحلہ آتا ہے۔ یہاں کسی عالمی روایت کی روشنی میں تجزیہ کافی نہیں۔ شاعر کی اپنی روایت اور ادبی ماحول کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے اور اس روایت کے ساتھ ہی عالمی روایت پر نظر معنی خیز اور مفید ہو سکتی ہے، اس کے بغیر نہیں۔ کلیم الدین احمد مشرقی اور ہندوستانی روایت کا سرے سے لحاظ نہیں رکھتے۔ ان دو مرحلوں کے بعد یعنی Appreciation یا ترجمانی یا تحسین کے بعد محاکمے کا مرحلہ آتا ہے اور یہاں نقاد کو اختیار ہے کہ وہ شاعر یا اس کے کارنامے کو اپنے تنقیدی شعور کے مطابق پرکھے۔

    کلیم الدین احمد کے تنقیدی افکار کو میں اہمیت دیتا ہوں، اس لئے کہ ان میں ایک عالمی معیار کا احساس ملتا ہے مگر ان کے یہاں بڑی کمی یہ ہے کہ وہ اردو کے ادبی روایت اور اقبالؔ کے ادبی ماحول کو نظرانداز کر دیتے ہیں گویا اقبالؔ کو صرف مغربی عینک سے دیکھتے ہیں۔ اردو شاعری کا ارتقا اس طرح نہیں ہوا جس طرح انگریزی شاعری کا ہوا ہے۔ مغرب میں نشاۃ الثانیہ کے بعدجدیدیت کا آغاز ہوا۔ ہمارے یہاں یہ اثرات اٹھارہویں صدی کے آخری نصف سے ملتے ہیں اور انیسویں صدی میں فروغ پاتے ہیں۔ آزادؔ، حالیؔ، اسماعیلؔ میرٹھی اور اکبرؔ کے یہاں براہ راست شاعری زیادہ ہے، کیونکہ ان کے یہاں ایک مقصد، ایک پیام سے گہرا شغف ہے۔

    اقبالؔ بہر حال سرسید کی اصلاحی تحریک کے پیداوار ہیں۔ اس نکتے کو ملحوظ رکھے بغیر ان کی شاعری کے ساتھ انصاف نہیں ہو سکتا۔ پھراس زمانے میں وقتی اور ہنگامی موضوعات پر نظمیں لکھنے کا رواج بہت تھا اور آج بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ اقبالؔ کے یہاں بھی یہ رنگ ہے۔ مگر اس پراعتراض کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان نظموں میں شاعری دیکھی جائے اوریہ حقیقت ہے کہ ان کے یہاں شریعت ایک نمایاں پہلو کی حیثیت سے شروع سے ملتی ہے۔ ہاں کسی نظم میں پیام کی لے ضرور زیادہ بلند ہوگئی ہے مگر ہر جگہ ایسا نہیں ہے۔

    خطیبانہ شاعری کے متعلق بھی یہاں چند باتیں کہنا ضروری ہے۔ آج اگر ہم بالواسطہ شاعری کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں توا ن کے یہ معنی نہیں کہ ہم براہ راست شاعری کو سرے سے نظرانداز کر دیں۔ اس رنگ کی شاعری دنیا کے ہر ادب میں ملتی ہے اور اس کا سرمایہ بھی خاصا ہے، ایک دور میں اس کی اہمیت بھی مسلم ہے۔ شاعری کی دوسری آواز کی اہمیت کو ایلیٹ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ خطیبانہ شاعری صرف خطاب کی شاعری نہیں ہے اس میں ایک فنی دروبست بھی ہے جس کی ایک روایت ہے۔

    شکوہ یا طلوع اسلام میں جو خطابت ہے اس کی شعریت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ شکوہ کے موضوع سے اختلاف یا تصویر درد کے موضوع سے اتفاق اور اقبالؔ کے نقطہ نظر کی آفاقیت یا محدودیت کا سوال نہیں ہے، اس کی شاعرانہ حیثیت کا سوال ہے۔ کوئی مسلک چاہے کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو اگر شاعرانہ اظہار نہیں رکھتا تو اس مسلک کی وجہ سے شاعری عظیم نہیں ہو سکتی۔ اس طرح نمایاں شعری اظہار کسی بھی مسلک کی خاطر ہو اپنی شاعری کی وجہ سے عظیم ہے۔ اس کی آفاقیت اس کے تجربے کی آفاقیت میں ہے، اس کے صحیح ہونے میں نہیں۔ قرین قیاس اور اپنی شعری صداقت کے مطابق ہونے میں ہے۔

    اقبالؔ کے یہاں بانگ درا کی نظموں میں حیرت انگیز تنوع ملتا ہے۔ پہلی با ت تو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہاں مختصر نظموں اور طویل نظموں دونوں کا معیار نہ صرف اپنے پیش روؤں سے بلند ہے بلکہ ان میں اقبال کے الفاظ میں کامیاب شاعری اور معیاری شاعری دونوں کے نمونے مل جاتے ہیں۔ مختصر نظموں میں ہمالہ، مرزا غالبؔ، خفتگان خاک سے استفسار، عقل و دل، ایک آرزو، جگنو، نیا شوالہ، داغ، کنار راوی، محبت، حقیقت حسن، چاند اور تارے، کوشش ناتمام، انسان، ایک شام، ستارہ، گورستان شاہی، فلسفہ غم، چاند، بزم انجم، سیرفلک، حضور رسالت مآبؐ میں، ارتقا، شیکسپیئر اور طویل نظموں میں شکوہ جواب شکوہ، شمع و شاعر، والدہ مرحومہ کی یاد میں، خضر راہ، طلوع اسلام کی نمایاں شعریت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ بعض طویل نظموں کی ساخت یکساں طور پر چست نہیں ہے اور ان میں ڈھیلے پن کا احساس ہوتا ہے یا بہکنے کا۔

    بال جبریل میں طارق کی دعا، لینن، فرشتوں کا گیت، فرمان خدا، الارض للہ، لالہ صحرا، فرشتے آدم کو رخصت کرتے ہیں، روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے، جبریل و ابلیس، اذاں، شاہیں، مختصر نظموں میں نمایاں اہمیت رکھتی ہیں اور طویل نظموں میں مسجد قرطبہ، ساقی نامہ، ذوق و شوق، پیر رومی و مرید ہندی، ضرب کلیم میں لا الہ الا اللہ، علم و عشق، مدنیت اسلام، مرد مسلماں، زمانہ حاضر کا انسان، پردہ تخلیق، نگاہ، شعاع امید، اہرام مصر، فنون لطیفہ، شاعر، ہنر و مردان ہند، ذوق نظر، ابی سینا، اوغافل افغان اور ارمغان حجاز میں طویل نظم ابلیس کی مجلس شوری کے علاوہ مسعودمرحوم اور حضرت انسان قابل قدر ہیں۔ گویہ حقیقت ہے کہ ابلیس کی مجلس شوریٰ ان کی بہترین نظموں میں شمار نہیں کی جا سکتی۔ اس میں اقبال ابلیس سے زیادہ نمایاں ہیں۔

    اقبالؔ کی بعض طویل نظموں شکوہ، جواب شکوہ، شمع و شاعر، والدہ مرحومہ کی یاد میں، خضر راہ، طلوع اسلام، مسجد قرطبہ، ساقی نامہ، ذوق و شوق اور ابلیس کی مجلس شوریٰ کا تجزیاتی مطالعہ کئی اشخاص نے کیا ہے۔ اس سلسلے میں کلیم الدین احمد اور مسعود حسین خاں کے نام اہمیت رکھتے ہیں۔

    مجھے اس سلسلے میں صرف یہ کہنا ہے کہ خضر راہ سے پہلے کی نظموں میں غزل کے اسلوب کا اثر زیادہ ملتا ہے۔ اوریہ طلوع اسلام میں بھی سرایت کئے ہوئے ہے۔ خضر راہ تنظیم کے لحاظ سے ایک چست نظم ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ اس کے بندوں میں اشعار کی ترتیب ناگزیر نہیں ہے تو یہ بات صحیح ہے مگر ہربند میں ایک موضوع کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور شاعر اور خضر دونوں کی شخصیت اور مزاج کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ سید سلیمان ندوی کو خضر راہ میں جس رنگینی اور کیفیت کی کمی نظر آئی تھی اس کی اقبالؔ نے بڑی اچھی توجیہ کی تھی۔ اس توجیہہ سے اقبالؔ کی فنی بصیرت ظاہر ہوتی ہے اور شاعری کی تیسری آواز سے آگہی بھی۔ اس آواز کی طرف توجہ اقبالؔ کے مکالموں میں بھی ظاہر ہوتی ہے جو مختلف نظموں میں بکھرے پڑے ہیں لیکن جس نقطہ عروج پر رومی و مرید ہندی اور جبریل و ابلیس میں نظر آتا ہے۔

    یہ بات قابل غور ہے کہ بانگ درا کی نظموں میں مجموعی طور پر شاعری میں حکمت، بال جبریل کی نظموں میں حکمت میں شاعری اور ضرب کلیم کی نظموں میں نکتہ سنجی و بلاغت کی شاعری ملتی ہے۔ اس مجموعے میں بیشتر بہت مختصر نظموں کی تعداد کا یہی جواز ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقبالؔ کی بیشتر نظمیں کسی فوری واقعے یا کسی خارجی امر سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہیں۔ مگر نظم اس فوری تاثر سے بلند ہو کر ایک ایسی نظر یا نظریے کی حامل ہوگئی ہے جس میں ایک دیرپا آفاقی یا ابدی کیفیت آگئی ہے۔ ترانہ ہندی، حضور رسالت مآبؐ میں، زہد اور رندی، طلبہ علی گڑھ کالج کے نام، موٹر، اسیری، دریوزۂ خلافت، ابی سینا اس کی واضح مثالیں ہیں۔ نظموں میں تمثیلی حکایات کی وہ روایت جو در اصل رومی کی ہے اور جسے اردو میں حالیؔ، شبلیؔ اور اکبرؔ نے کامیابی سے برتا ہے، اقبالؔ کے یہاں بھی جلوہ گر ہے۔ چنانچہ روہیلہ، محاصرۂ اورنہ، جنگ یرموک کا ایک واقعہ اپنی فنی دروبست کی وجہ سے بھی ممتاز ہیں۔

    شخصی مرثیوں کی روایت ہمارے یہاں حالیؔ سے شروع ہوئی۔ حالیؔ کے بعد چکبستؔ نے اسے آگے بڑھایا۔ اقبالؔ کا کارنامہ اس سلسلے میں خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ نظم مرزا غالبؔ، غالبؔ کے حالیؔ کے مرثیے کے اثرات ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ غالبؔ کے تخیل کی خلاقی اور گوئٹے کی ہمنوائی کی طرف اشارے کی وجہ سے بھی اہم ہے۔ اگرچہ ہم اسے مرثیہ نہیں کہیں گے یہ ایک تاثر ہے لیکن داغ فلسفۂ غم، ہمایوں، والدہ مرحومہ کی یاد میں اور مسعود مرحوم قطعی طور پر شخصی مرثیے کے ذیل میں آتے ہیں۔ ان مرثیوں میں مرنے والے کی صفات اور اس کی رحلت پر الم کی عکاسی کے علاوہ زیادہ توجہ فلسفہ موت و حیات پر ہے جس کی وجہ سے ان میں ایک بلندی اور گہرائی آجاتی ہے۔ اس لئے والدۂ مرحومہ کی یاد میں اور مسعود مرحوم نہ صرف ان کی نظموں میں ایک امتیازی شان کی حامل ہیں بلکہ ان کے مطالعے کے ساتھ ذہن خود بخود بعض مغربی شعرا مثلاً شیلے، ٹینی سن اور ارنلڈ کے مرثیوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ مسعود مرحوم چونکہ آخری دور کی نظم ہے اس لئے اس میں پختگی اور ارتکاز زیادہ نمایاں ہے۔

    خالص فنی نقطہ نظر سے اقبالؔ کی چند اہم نظموں کے متعلق کچھ اشارے یہاں ضروری معلوم ہوتے ہیں تاکہ اقبالؔ کے ارتقائے ذہن کے متعلق کوئی قطعی بات کہی جا سکے۔ ان کی پہلی اہم نظم ہمالہ کو لیجئے۔ یہ مسدس کی ہیئت میں ہے اور اس میں آٹھ بند ہیں۔ نقش اول میں تین بند زیادہ تھے جو بانگ درا میں حذف کر دیے گئے ہیں اور یہ نظم اس طرح خاصی چست ہوگئی۔ نظم ہمالہ کی عظمت کے تاثر سے شروع ہوتی ہے، اس کے مناظر کے حسن کا احساس دلاتی ہے، طور سینا، دستار فضیلت، کلاہ مہر عالم تاب، ثریا، کوثر و تسنیم جیسے الفاظ و تراکیب ایک رفعت کا احساس دیتے ہیں۔ منظر نگاری میں حسن بھی ہے اور برگزیدگی بھی، اور یہ سب تصویریں بالآخر ماضی کے ایک سنہرے دور کی یاد تک لے جاتی ہیں جسے رجعت پرستی نہیں کہا جاسکتا ہاں Nostalgia کا نام دیا جا سکتا ہے۔

    مسدس ہماری بہت مقبول ہیئت ہے اور مرثیوں کا بیشتر سرمایہ اسی ہیئت میں ہے۔ اس میں پہلے چار ہم قافیہ مصرعوں اور پھر دوکسی اور قافیے میں مصرعوں کی قید ہے اور اس طرح گویا خیال کی سیڑھیاں سی بنتی جاتی ہیں، مسلسل روانی نہیں آپاتی۔ مجھے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرثیوں کی مقبولیت کے دور میں مسدس کی ہیئت پر زیادہ توجہ میں کچھ مجلسی آداب کی رعایت بھی تھی یعنی ہر مصرعے کی طرف سامعین کی توجہ دلانا ہوتی تھی اور ٹیپ کے شعر میں گویا پہلے چار مصرعوں کی بات مکمل کرکے سننے والے کے ذہن کو آگے کے لئے تیار کرنا ہوتا تھا یعنی آگے چلیں گے دم لے کر۔ حالیؔ کے مسدس میں اگرچہ فنی چستی زیادہ ہے مگر ٹھہر ٹھہر کر بات کرنے کا انداز بھی ہے۔ بہر حال اقبالؔ نے جواب شکوہ کے بعد مسدس کی ہیئت نہیں برتی اور انہیں ترکیب بند میں زیادہ سہولت محسوس ہوئی جس میں انہوں نے غزل اور مثنوی دونوں کی ہیئت سے کام لیا ہے اور بندوں کی اشعار کی تعداد میں بھی خیال کے اعتبار سے کمی بیشی ہے۔

    ہمالہ ان کی بہترین نظموں میں شامل نہیں کی جا سکتی مگر اچھی نظموں میں ضرور شمار کی جائے گی۔ بانگ درا کی ایک اور مختصر نظم ’ایک آرزو‘ کو لیجئے جو قطعہ کہی جا سکتی تھی مگر انہوں نے آخری شعر میں دو الگ ہم قافیے مصرعے شامل کرکے اسے قطعے سے الگ کر دیا اور ایک بند کی شکل دے دی۔ اس نظم میں اقبالؔ کا سحرکار تخیل جو تصویریں تراشتا ہے وہ ان کے مزاج میں رومانیت کی لے کی بڑی اچھی مثالیں ہیں۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ ہمالہ کی لہجہ کی رفعت کے بجائے یہاں لہجہ میں ایک نرمی اور لطیف سرشاری کا احساس ہوتا ہے۔ سکوت جس پر تقریر فدا ہو، ندی کے صاف پانی کی تصویر لینا، پانی کا موج بن کر کہسار کا نظارہ کرنا، پانی کو گل کی ٹہنی کے جھک کر دیکھنے میں کسی حسین کے آئینہ دیکھنے کا منظر اور شام کی دلہن کی آرائش و زیبائش، نظم کا خاتمہ اس کو محض ایک رومانی نظم کے بجائے بیداری کا ایک پیام بنا دیتا ہے اور اس طرح اقبالؔ کے عمومی رنگ سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے کیونکہ اقبال کی خلوت بھی بالآخر ایک نئی جلوت کے لئے تیاری ہوتی ہے۔

    ’ایک آرزو‘، ہمالہ‘ سے زیادہ گٹھی ہوئی اور چست نظم ہے اور اس کے خاتمہ میں فطرت کا حسن انسان کے لئے ایک نئی زندگی کا علمبردار بن جاتا ہے۔ منظرنگاری اپنی جگہ حسین ہوتے ہوئے ایک مقصد رکھتی ہے۔ یہ بات بانگ درا کی ایک اور نظم بزم انجم میں اور کھل کر سامنے آتی ہے۔ اس ترکیب بند میں پہلے بند میں پانچ، دوسرے میں چار اور تیسرے بند میں چھ شعر ہیں۔ نظم میں ابتدا، وسط اور تکمیل کے ذریعہ ایک پوری داستان بیان ہوئی ہے۔ منظرنگاری اپنی جگہ ایک دلکشی رکھتی ہے۔ تاروں کے ذریعہ سے پیام کا جواز دوسرے بند میں ہے کیونکہ تاروں کو انسان قسمت کا آئینہ سمجھتا آیا ہے۔ اقبالؔ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تغیر کے قائل ہیں گو اس کے ساتھ تسلسل کا احساس بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ جذب باہمی والی بات اقبالؔ کی فکر میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شروع میں استعارات کے ذریعہ سے مکمل فضا بندی کرنے کے بعد باقی دو بندوں میں فلک اور تاروں کی زبان میں وضاحت اور سلاست و روانی پر زیادہ زور ہے۔ اس طرح اقبال ؔ کا ارتقا مسلم ہوتا ہے۔

    اگر ہم بانگ درا کی ان نظموں کا مقابلہ بال جبریل کی دو اہم نظموں جبریل و ابلیس اور لالہ صحرا سے کریں تو ایک طرف اقبالؔ کی نظم گوئی کا اگلا قدم سامنے آجاتا ہے جس میں ڈرامائی اور علامتی دونوں اسالیب کی معراج ملتی ہے۔ دوسرے اقبالؔ نے جس طرح کفایت الفاظ اور بلاغت کے رمز سے آگاہی حاصل کی ہے اس کی روشن مثالیں سامنے آتی ہیں۔ شمع و شاعر اور خضر راہ میں جو کردار ہیں ان پر اقبالؔ کا سایہ گہرا ہے۔ مگر جبریل وابلیس میں اقبالؔ نظر نہیں آتے۔ جبریل وابلیس ہی اپنی آن بان سے نظر آتے ہیں۔ خضر راہ میں زندگی کے بارے میں دو بندوں میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ جبریل و ابلیس کے ایک مصرع میں آگیا ہے۔ درد و داغ، سوز و ساز، آرزو و جستجو زندگی پر بھرپور تبصرہ ہے۔ اس نظم میں ڈرامے کی ساری شان جلوہ گر ہے اور اس کے ساتھ ابلیس کے کردار کی معنویت بھی۔ آخری بند میں گوئٹے کے مینی فیسٹو کے اثرات ضرور ملتے ہیں مگر خواجہ منظورحسین کا یہ قول دہرانا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ نظم گوئٹے کی نظموں کے مقابلے میں رکھی جا سکتی ہے۔

    لالہ صحرا کے متعلق بہت کچھ لکھا گیا ہے اس لئے اس پر تفصیل سے اظہار خیال کی ضرورت نہیں۔ یہ کہنا کافی ہے کہ یہ ایک مکمل علامتی نظم ہے۔ لالہ صحرا کی علامت شاہین سے زیادہ فکر انگیز اور بصیرت افروز ہے۔ کلیم الدین احمد کواس میں اقبالؔ کے ایگو کی دخل اندا زی ناگوار ہے۔ مگر تقابل کے لئے اس کا وجود ضروری تھا۔ ضرب کلیم کی نظموں میں سب سے بلند شعاع امید ہے۔ یہ اگرچہ ہمالہ کی یاد دلاتی ہے مگر اس کے براہ راست بیان کے مقابلے میں شعاع امید کی بالواسطہ صناعی بہتر ہے۔ کچھ لوگوں کو آخری شعر سے پہلے کے دو شعروں میں ایک انحراف دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ افرنگ کی مشینوں کے دھویں سے سیہ پوش اور مشرق کی عالم لاہوت کی سی خاموشی کا پہلے جو ذکر آیا ہے اس سے یہاں مطابقت ملتی ہے۔ پھر شعاع امید جو مشرق کے ہر ذرے کو جہاں تاب کرنے کا عزم کر چکی ہے اور ہندوستان کی عظمت کو جانتی ہے، ان دو اشعار کے بغیر اپنے مشن کو کیسے پورا کرتی۔ نظم کے آخری شعر کی اہمیت یہ ہے کہ ہندوستان کی بیداری کو دنیا کی ہر شب کو سحر کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔

    اسلوبیات اور ساختیات کے بعض عالموں نے اعداد و شمار کے ذریعہ سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اظہار کا معیاری فارم نثر ہے۔ شاعری اس معیاری فارم سے انحراف یا اس میں وقفوں کا نام ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق کلاسیکی شاعری میں نثر کے معیار سے انحراف کا تناسب نسبتاً کم ہے۔ اس لئے ہمارے یہاں سہل ممتنع پر زور دیا گیا تھا۔ رومانی شاعری میں زیادہ اور جدید شاعری میں اس سے زیادہ۔ اگر اقبالؔ کی نظموں کی لفظ شماری اس اصول کے مطابق کی جائے تو میرا خیال یہ ہے کہ کلاسیکی معیار کے مطابق انحراف زیادہ نہ ملے گا۔ مگر بعض نظموں میں رومانی اور جدید شاعری کے مطابق انحرافات بھی مل جائیں گے۔ اقبالؔ اگرچہ اپنے فن میں کلاسیکی نظم و ضبط کے قائل ہیں مگران کے یہاں رومانی لے اور جدید اثرات کے نقوش اتنے واضح ہیں کہ وہ قدیم ہوتے ہوئے جدید اور جدید ہوتے ہوئے قدیم کہے جا سکتے ہیں۔ تجربہ کرنے والے شعرا کی اہمیت مسلم مگر بڑی شاعری میں قدیم و جدید کا ایک اجتماع ہوتا ہے اور اسی سے اس کی آفاقیت کے متعلق حکم لگایا جاتا ہے۔

    اقبالؔ نے نظم کو بڑی حد تک براہ راست فارم کے سلسلے میں ہچکچاہٹ کا شکار اور الفاظ کے استعمال کے سلسلہ میں بے احتیاط پایا۔ انہوں نے اسے مختلف تجربات کے ذریعہ خاصا بالواسطہ، الفاظ کے معاملہ میں خاصا باشعور، اور مکالماتی اور ڈرامائی پہلو کے لحاظ سے خاصا سرمایہ دار چھوڑا۔ انہوں نے تشبیہات کی آرائش و زیبائش سے بھی کام لیا اور استعارات کی معنی آفرینی اورحسن آفرینی سے بھی اور آخر میں علامتی اظہار پختگی اور Epigram کی دیدہ دری سے بھی۔ غزل سے ان کی نظم گوئی ضرور متاثر رہی مگر اس نے آخر میں اس سے آزادی حاصل کرنے کا ثبوت ضرور دیا۔ اس نے مختصر اور طویل دونوں طرح کی نظموں کے ذریعہ سے نظم کے فارم کی طرف ہماری رہنمائی کی۔ اقبالؔ کی نظم مغربی نظم سے متاثر ضرور ہے مگر طواف شمع سے آزاد اور اپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہے۔ اقبالؔ سےاردو نظم بلوغیت کی منزل میں داخل ہوتی ہے۔ یہ ہماری شاعری میں پابند شاعری کی معراج ہے۔ آزاد نظم کی کہانی اس کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکی۔

    اقبالؔ نے بہت سی بحر یں استعمال کی ہیں۔ بانگ درا میں ان کا تنوع زیادہ ہے مگر گیان چند جین کے یہ خیالات درست نہیں کہ بال جبریل میں حجازی لے کی وجہ سے چند بحروں پر ہی توجہ رہی۔ در اصل بانگ درا کی شاعری ہر طرح کے تجربات کی شاعری ہے۔ اس میں عمومیت زیادہ ہے۔ بال جبریل اور ضرب کلیم کی شاعری مخصوص سمتوں اور مخصوص زاویوں کی شاعری ہے جس کی بلندی میں کلام نہیں۔ ان مخصوص سمتوں کے لئے مخصوص بحروں کا استعمال سمجھ میں آتا ہے۔ اقبالؔ کے مطالعے میں ان کی مذہبی حسیت کی وجہ سے بعض تہذیب کے فرزند اس کے شاعرانہ اظہار سے انصاف نہیں کر پاتے۔ بالکل اسی طرح جس طرح بعض اہل مسجدان کے مذہبی تصورات کی وجہ سے ہی ان کی شاعری کو اہمیت دیتے ہیں۔ اسی طرح بالواسطہ شاعری کی برتری کو تسلیم کرتے ہوئے ساری دنیا کے ادب میں براہ راست شاعری کے خاصے نمایاں سرمائے کو نظرانداز کرنا اور اس وجہ سے اقبالؔ کی شاعری کے مقصدی حصے کو شاعری نہ سمجھنا بھی کفران نعمت کے مترادف ہے۔ اقبال شناسی ہی نہیں حسن شناسی اور فن شناسی ہی در اصل حسن اور فن کے ہر معجزے کے عرفان کا نام ہے۔ بقول اقبال،

    تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا

    ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY