اسلامی ادب کا مسئلہ

سلیم احمد

اسلامی ادب کا مسئلہ

سلیم احمد

MORE BYسلیم احمد

    ادب اسلامی کی تحریک جتنے زور سے شروع ہوئی تھی اتنے زور سے چلی نہیں۔ بس کچھ دن دوڑنے کی کوشش کرکے بیٹھ گئی اور اب تو کوئی اس کا نام بھی نہیں لیتا۔ ترقی پسند تحریک کی طرح یہ بھی صرف ماضی کے حوالے کی ایک چیز ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن ترقی پسند تحریک اور ادب اسلامی کی تحریک میں بڑا فرق ہے۔ ترقی پسند تحریک ایک بین الاقوامی تحریک تھی جبکہ ادب اسلامی کی تحریک برصغیر سے باہر موجود نہ تھی۔ دوسرے ترقی پسند تحریک میں نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کے بہت بڑے بڑے ادیب شامل تھے، جبکہ ادب اسلامی کی تحریک میں ادبی لحاظ سے کوئی قابل ذکر نام نہیں تھا۔

    تیسرے ترقی پسند تحریک زمانے کے فیشن کے مطابق تھی، جبکہ ادب اسلامی کی تحریک اس سے لڑنے کی ایک تحریک تھی۔ ان سب باتوں کی وجہ سے ادب اسلامی کی تحریک کا ترقی پسند تحریک سے مقابلہ کرنا ایک فضول سی بات ہے۔ ترقی پسند تحریک سے ہمارے جو بھی اختلافات ہوں لیکن ادب اسلامی کی تحریک اس کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ترقی پسند تحریک نے قابل توجہ ادب پیدا کرکے دکھایا جبکہ ادب اسلامی کی تحریک کی ادبی پیداوارنہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ حقائق تلخ ہیں لیکن ہمیں اسلامی ادب پیدا کرنا ہے تو اپنی کمزوریوں کو مان کر چلنا پڑےگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ اس میں ہمیں اب تک کوئی کامیابی کیوں نہیں ہوئی ہے؟

    قابل ذکر ادیبوں میں صرف محمد حسن عسکری ایسے تھے جنہوں نے پاکستان بنتے ہی پاکستانی اور اسلامی ادب کی ضرورت پر زور دیاتھا اوراس سلسلے میں دو ایک مضامین بھی لکھے تھے۔ عسکری صاحب ایسے آدمی تھے کہ جب وہ کوئی بات کہتے تھے تو ان کے مخالف بھی ان کی بات سنتے تھے اور ان کی کہی ہوئی بات ادبی حلقوں میں بحث ومباحثہ کا موضوع بن جاتی تھی۔ چنانچہ عسکری صاحب نے جب اسلامی ادب کی بات اٹھائی تو ادبی حلقوں میں خاصا ردعمل پیدا ہوا اور فراق گورکھپوری صاحب تک کواس کے جواب میں کچھ لکھنا پڑا۔ ڈاکٹر احسن فاروقی بھی بولے اور غالب والے آفتاب احمد صاحب نے بھی بحث میں حصہ لیا۔ اپنا ذکر اگر کوئی خودنمائی نہ سمجھا جائے تو میں نے بھی اس سلسلے میں ایک مضمون لکھا لیکن ادب اسلامی کی تحریک والے اس ردعمل سے الگ تھلگ رہے اور دراصل انہیں پتا ہی نہیں تھا کہ ادبی حلقوں کا ردعمل کیا معنی رکھتا ہے۔ نتیجہ تو اس ردعمل کابھی کچھ نہیں نکلا لیکن ادب اسلامی کی تحریک والے اگر اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تو اس سے کچھ فائدہ اٹھا سکتے تھے، جو افسوس کہ انہوں نے نہیں اٹھایا۔

    ادب اسلامی والوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ یہ اسلام کے سلسلے میں چاہے جتنے پرجوش ہوں لیکن ان کی ادبی تربیت ناقص تھی۔ ادب کیا ہوتا ہے، کیسے تخلیق ہوتا ہے، ادبی اقدار اور غیرادبی اقدارمیں کیا فرق ہوتا ہے؟ ہماری تہذیب میں اسلامی ادب کی کیا خصوصیات رہی ہیں؟ ان معاملات سے انہیں چنداں دلچسپی نہیں تھی۔ ان معاملات پر غور کرنے، انہیں سمجھنے اور ان کا جواب معلوم کرنے کے بجائے ادب اسلامی والوں نے ترقی پسندوں کی نقالی کو کافی سمجھا اور’’سرخ سویرا‘‘ کی جگہ ’’سبز سویرا‘‘ اور اشتراکی انقلاب کی جگہ اسلامی انقلاب کے الفاظ لکھ کر انہوں نے سمجھا کہ وہ پالا جیت لیں گے۔ بدترین بات یہ ہوئی کہ ترقی پسند ادب سے انہوں نے ادب کے بارے میں تو کچھ نہ سیکھا، نعرے بازی البتہ سیکھ لی۔ پھر نعرے بازی کی وجہ سے ادیب ترقی پسند تحریک کو رد کرتے تھے توادب اسلامی والوں کی کون سنتا۔

    معاف کیجئے، میری تنقید سخت ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ادب اسلامی تحریک کی ناکامی کو اسلامی ادب کی ناکامی نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک اسلامی ادب کے تصور میں بڑی جان ہے اور اگر اسے صحیح طور پر سمجھ کر اسی کے لیے کام کیا جائے تو بڑا کام ہو سکتا ہے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ سوچنے والے اس تصور پر سوچیں اور خاص طور پر وہ ادیب جواسلام پر یقین رکھتے ہیں لیکن کوئی نمونہ پیش نظر نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی ادب پیدا نہیں کر سکتے یایہ نہیں جانتے کہ اسلامی ادب پیدا کرنے کے لیے انہیں کیا کرنا چاہئے۔ وہ اس تصور پر غور کریں اور پھر اس کے بعد ممکن ہے کہ باہمی تبادلہ خیال کے لیے زمین ہموار ہو سکے۔

    اسلامی ادب کیا ہے؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک طرف واضح طور پر اسلام کو سمجھ لیں اور دوسری طرف یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ادب کیا ہوتا ہے۔ پڑھے لکھے لوگوں میں اس قسم کی بات کرنا ہے تو بری بات لیکن میں اپنے اس احساس کو کیا کروں کہ ہماے یہاں بہت سی الجھنیں ان ہی تصورات کو واضح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے پید ا ہوتی ہیں۔ اسلام اور ادب کو سمجھنے سے میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان کی تشریح وتفسیر کے مختلف مکاتب کی بحثوں میں الجھ جائیں۔ کیونکہ بدقسمتی سے اسلام اور ادب دونوں جھگڑے کے چھلے ہیں اور ہم اختلافات میں جائیں تو باہر نکلنے کا رستہ مشکل سے ہاتھ آتا ہے۔

    میرا مطلب دونوں کے صرف ایسے تصور سے ہے جو عمومی اور مشترک ہو اور اسی پر زیادہ سے زیادہ اتفاق کیا جائے، مثلا ًاسلام کے بارے میں ہم ایک عمومی بات یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ چار چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ (۱) عقائد (۲) عبادات (۳) اخلاقیات (۴) ایمان۔ ایمان ایک داخلی کیفیت ہے اور عقائد، عبادات اور اخلاقیات اس کی خارجی شکلیں ہیں۔ عقائد میں توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان بنیادی ہیں اور اخلاقیات کا تعلق انسانوں کے ان باہمی تعلقات سے ہے جوان عقائد سے پیدا ہوتے ہیں۔

    عبادات کا تعلق خدا اور انسان کے رشتے سے ہے۔ لیکن خدا اورانسان کا یہ رشتہ علامتی طور پر اسلام میں انسان اور کائنات اور انسان کے رشتے اپنے دائرے میں لے لیتا ہے۔ مثلاً نماز کو لیجئے۔ نماز میں اولین چیز ہے نیت۔ یہ ایک داخلی چیز ہے۔ نیت یہ کی جاتی ہے کہ یہ نماز اللہ کے لیے ہے لیکن نماز باجماعت کا حکم ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک اجتماعی چیز ہے یعنی نماز کے ذریعے انسان ایک طرف خدا سے رشتہ قائم کرتا ہے، دوسری طرف انسانوں سے۔ نماز میں تیسری چیز وقت کی پابندی ہے اور وقت سورج، چاند، ستاروں کی گردش سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے اس کا مطلب ہوا کائنات سے انسان کا رشتہ۔

    اب ہم نماز کے ذریعے تین رشتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ (۱) انسان اور خدا کا رشتہ (۲) انسان اور کائنات کا رشتہ (۳) انسان اور انسان کارشتہ۔ یہ سب رشتے مل کر ایک مخصوص طرز احساس پیدا کرتے ہیں اور یہ طرز احساس ہماری ساری زندگی میں جاری وساری ہوتا ہے۔ اسلامی تہذیب اسی طرز احساس سے پیدا ہوتی ہے اور اپنے جملہ مظاہر میں اسی کا اظہار کرتی ہے۔ مطلب یہ نکلا کہ اسلام ایک تصور حقیقت ہے جو خدا، کائنات اور انسان کے رشتے پر محیط ہے اور ایمان کی داخلی کیفیت کے ذریعے ایک طرز احساس میں ظاہر ہوتا ہے اور یہی طرز احساس اسلامی طرز احساس کہلاتا ہے۔ تفصیلات میں جائے بغیر شاید یہ ایک ایسا عمومی تصور ہے جس پر سارے مسلمانوں کا اتفاق ہو سکتا ہے۔

    ادب کے بارے میں ہم ایک ایسی عمومی بات کہنے کی کوشش کریں گے جس میں اختلافات کی کم سے کم گنجائش ہو۔ ادب تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے (۱) مواد (۲) ہیئت اور (۳) تصور ادب۔ اوریہ تینوں چیزیں اپنا اظہار کرتی ہیں الفاظ کے ذریعے۔ مواد سے مراد ذہنی، جذباتی، حسی، تخئیلی تجربات ہیں۔ یہ تجربات تین چیزوں کے بارے میں ہوتے ہیں اور انہی کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں، یعنی خدا، کائنات اور انسان۔ دوسرے لفظوں میں یہ تجربات خدا اور انسان، کائنات اور انسان کے تعلق سے پیدا ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں مثبت اور منفی رویوں کا اظہار کرتے ہیں، مثلاًخدا سے انکار بھی خدا سے ایک تعلق اور خدا کے بارے میں ایک رویہ ہے۔

    ہیئت سے مراد وہ سانچے ہوتے ہیں جن میں یہ تجربات تشکیل پذیر ہوتے ہیں۔ یہ سانچے وہ بھی ہو سکتے ہیں جو کسی ادبی روایت میں اجتماعی طور پر موجود ہوں اور وہ بھی جو انفرادی طور پر خود ایجاد کریں۔ تصور ادب سے مرا د وہ تصور ہے جو ہر لکھنے والے کے ذہن میں ادب کی ماہیت، مقصد اور طریق کار کے بارے میں موجود ہوتا ہے۔ جب یہ تینوں چیزیں طرز احساس سے مل کر الفاظ میں اپنا اظہار کرتی ہیں تو وہ ادب کہلاتا ہے۔

    اب اسلامی ادب کے معنی ہوئے، وہ ادب جو خدا، کائنات اور انسان کے رشتوں کے بارے میں اسلامی طرز احساس کا اظہار کرے۔ اسلامی طریقت کی اصطلاحوں میں اس بات کو زیادہ ٹھوس طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان اصطلاحوں کی رو سے بنیادی حقیقت واحد ہے۔ التوحید واحد لیکن اس حقیقت کے کئی درجے ہیں۔ بنیادی حقیقت ہر درجے میں ظہور کرتی ہے لیکن ہر درجے سے ماورا بھی ہے۔ یہ غیب سے ماورا درجہ عالم لاہوت کہلاتا ہے۔ ظہور کے اعتبار سے اس کا پہلا درجہ جس میں ہیئت یا شکل کوئی نہیں ہوتی لیکن وہ تعینات کے قریب ہوتا ہے۔ اس درجے کا نام عالم جبرو ت ہے۔ پھر ہیئت کا درجہ آتا ہے۔ اس کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ ظہور لطیف کا ہوتا ہے جسے عالم ملکوت کہتے ہیں۔ دوسرا حصہ ظہور کثیف کا ہوتا ہے جسے عالم ناسوت کہتے ہیں۔

    اب انسان تمام درجوں کا جامع ہے۔ اس میں بھی سب درجات ہوتے ہیں اور انہیں قلب، روح، نفس اور جسم کی اصطلاحوں میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ ادب سے اس کا تعلق یہ ہے کہ ادب حقیقت کے کسی درجے سے بھی متعلق ہو سکتا ہے۔ اگر اس کا تعلق بہ یک وقت کئی درجوں سے ہے تو وہ بہت بلند ادب ہے۔ اگر کسی ایک درجے سے ہے تو اس درجے کے لحاظ سے اس کی قدروقیمت کا تعین ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارا موجودہ ادب اس معیار کے لحاظ سے اس لیے پست درجے کا ہے کہ عالم ناسوت اور نفس کے ارذل حصے سے تعلق رکھتا ہے۔

    اسلامی طریقت کی اصطلاحوں میں، میں نے جو یہ دو ایک باتیں کہی ہیں ان کی تشریح کے لیے تو دفتر چاہئے لیکن آسانی کے لیے ان سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی ادب وہ ہے جس میں اسلام کے عناصر چہارگانہ کے بارے میں مثبت خیالات، جذبات، محسوسات اور رویوں کا اظہار کیا گیا ہو، یعنی جو ادب انسانوں پر اسلامی عقائد، عبادات، اخلاقیات اور ایمان کے خارجی اور داخلی اثرات ظاہر کرے۔ اپنے مضمون ’’نظریاتی ریاست میں ادیب کا کردار‘‘ میں ہم یہ باتیں قدرے وضاحت سے لکھ چکے ہیں۔ ان باتوں کو ٹھیک طرح سمجھ لیا جائے تو ہم نہ صرف ماضی کے اسلامی ادب کو پوری طرح سمجھ لیں گے بلکہ مستقبل میں بھی اعلیٰ اور معیاری اسلامی ادب تخلیق کر سکیں گے۔ اس ضمن میں وہ بات جو ہم اپنے مذکورہ مضمون میں نہیں کہہ سکتے تھے اس کا ذکر بھی ضروری ہے۔ خدا، کائنات اور انسان یاقلب، روح اور نفس کے بارے میں ہمارے جو بھی تجربات ہوں، ان کا تعلق ادب کے مواد سے ہے۔ مواد کے ادب بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ادبی ہیئت میں جمالیاتی معیارات کے مطابق لفظی تشکیل کی صورت اختیار کرے۔ یعنی اس مواد کے لیے ادبی ہیئت اور جمالیاتی معیار ضروری ہے۔ اب جہاں تک ہیئت کا تعلق ہے، میں اجتماعی اور انفرادی ہیئتوں کا ذکر کر چکا ہوں۔

    اجتماعی ہیئت سے مراد وہ ہیئتیں ہیں جو معاشرے میں پہلے سے موجود ہیں اور انفرادی ہیئتوں سے وہ ہیئتیں مراد ہیں جنہیں ادیب انفرادی طور پر ایجاد کرے۔ مثال کے طور پر غزل، رباعی، مثنوی وغیرہ نظم میں اور داستان اور حکایت وغیرہ نثر میں اجتماعی ہیئتیں ہیں جو معاشرے میں روایتی طور پر چلی آ رہی ہیں۔ اس کے مقابلے پر آزاد نظم، نثری نظم، ناول اور افسانہ وغیرہ جدید اور انفرادی ہیئتیں ہیں جنہیں ادیبوں نے مغرب کے زیر اثر اختیار کیا ہے۔ اسلامی ادب ان سب ہیئتوں کو کام میں لا سکتا ہے بشرطیکہ وہ مواد کی ضرورت کے مطابق ہوں۔ یہ بات میں نے اس لیے کہی کہ جدید ہیئتوں کی طرف بعض اسلام دوست لوگوں کے رویے سے یہ غلط فہمی نہ پیدا ہوکہ اسلامی ادب کے تصور سے ان کا کوئی تصادم موجود ہے۔ وہ رویے ایسے لوگوں کی ذاتی پسند یا ناپسند سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے بلکہ بعض اوقات تو مجھے یہاں تک گمان ہونے لگتا ہے کہ موجودہ زمانے میں ہمارے تجربات کا صحیح ترین اظہار جدید ہیئتوں میں ہی ہو سکتا ہے۔

    اب رہ گئی بات جمالیاتی معیارات کی۔ ان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک کومیں داخلی جمالیات کہوں گا، دوسری کو خارجی جمالیات۔ خارجی جمالیات سے مراد وہ سارے معیارات ہیں جنہیں روایتی زبان میں صنائع بدائع کا استعمال کہا جاتا ہے۔ یعنی تشبیہ، استعارہ، لفظی رعایتیں، محاورہ اور روزمرہ کا صحیح استعمال وغیرہ۔ داخلی جمالیات کی تشریح ذرا مشکل ہے۔ کسی خوبصورت چیز کو دیکھ کر ہمارا پورا وجود متاثر ہوتا ہے اور پورے وجود میں عقل، جذبات، حسیات اور جبلتیں سب شامل ہیں۔ ان سب چیزوں کو ملاکر جو چیز پیدا ہوتی ہے وہ جمالیاتی احساس کہلاتی ہے۔ ہمار ا جمالیاتی احسا س کیا ہوتا ہے، یہ ہمارے مجموعی طرز احساس پر مبنی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم ایسا ہی جمالیاتی احساس رکھتے ہیں، خدا، انسان اور کائنات کے بارے میں جیسا ہمار ا احساس ہوتا ہے۔ ادب میں یہ دونوں معیارات بہ یک وقت کام کرتے ہیں یعنی ادب پارے کی خارجی شکل اور اس کی داخلی روح انہی سے پیدا ہوتی ہے۔ ادب ان دونوں معیارات کے بغیر ادب نہیں بن سکتا۔ اسلامی ادب کو ان معیارات کے بغیر ادب نہیں کہا جا سکےگا۔

    میرے خیال میں ا س موضوع سے متعلق جو باتیں مجھے کہنی ہیں وہ میں نے سب کہہ دی ہیں۔ ان میں اختصار تو ضرور ہے لیکن بات چل نکلے تو جو باتیں اختصار سے کی گئی ہیں ان پر تفصیلی گفتگو بھی ہو سکتی ہے بلکہ تفصیلی گفتگو کے بغیر بہت سی باتیں صاف نہیں ہوں گی، بلکہ میرے ذہن میں ایک سوال یہی ہے کہ یہ جو ہماری غزل میں گل، بلبل، صبا، گلستان یا ساقی، مے خوار، جام، شراب اور اسی طرح صحرا، خار، کارواں، جرس، میر کارواں وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کے معنی کیا ہیں؟ ہم میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ مثلاً فیض صاحب کے یہاں سحر یا شب کے معنی کیا ہیں لیکن کیا اسی طرح لوگوں کو وضاحت سے معلوم ہے کہ سحر اور شب کے معنی روایتی غزل میں کیا ہیں۔ اسی طرح ہماری نثر میں جو قصے بیان ہوئے، مثلاً باغ وبہار، قصہ گل بکاؤلی، کیا یہ سب جنوں اور پریوں کی بےکار داستانیں ہیں یاان کے کچھ معنی بھی ہیں۔ اسلامی ادب کی تفصیلی تشریح اس قسم کی تفصیلات کے بغیر نہیں ہو سکےگی۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY