Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مجروح سلطانپوری ایک شاعر، ایک مقدمہ

صہیب فاروقی

مجروح سلطانپوری ایک شاعر، ایک مقدمہ

صہیب فاروقی

MORE BYصہیب فاروقی

    ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح

    اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

    مجرُوح لکھ رہے ہیں وہ اہلِ وفا کا نام

    ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہگار کی طرح

    حضرات، خاکسار آج مجرُوح سلطانپوری صاحب کے یومِ پیدائش پر اُن کی شہرۂ آفاق غزل کے مطلع اور مقطع کو اپنے زاویے سے سمجھانے کی جسارت کر رہا ہے۔

    پہلے مطلع پر نظر ڈالیں، ”ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح۔۔۔ اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح۔“ اس شعر سے خاکسار نے یہ اخذ کیا ہے کہ مجرُوح صاحب خود کو بازار میں سیل پر رکھی اُس چیز کی مانند سمجھتے ہیں جس پر ہر آتا جاتا خریدار ایک نظر ڈال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ نہ کوئی پوچھتا ہے، نہ خریدتا ہے۔۔۔ بس قیمت پوچھ کر اگلے اسٹال کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ گویا اُن کا دل بھی اب

    ”Buy 1 Get 1 Free“ کی آفر کا منتظر ہے۔

    اب مقطع کو خاکسار کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کیجیے،

    ”مجرُوح لکھ رہے ہیں وہ اہلِ وفا کا نام۔۔۔ ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہگار کی طرح۔“ مجرُوح صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وفاداروں کی فہرست تیار ہو رہی ہے، اور وہ بھی امیدواروں کی قطار میں کھڑے ہیں، مگر اُس ”گناہگار“ کی مانند جس کا نام کبھی نہیں پکارا جاتا۔ جیسے کلاس مانیٹر اچھے بچوں کے نام لکھ رہا ہے، اور مجرُوح صاحب اُن کے پیچھے کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا اٹھا کر کہہ رہے ہیں، ”سر! میرا نام بھی لکھ لیجیے!“ مگر استاد صاحب (یا یوں کہیے کہ زمانہ) صرف اچھے بچوں کے نام لکھ رہا ہے، مجرُوح صاحب کا نام ”بلیک لسٹ“ میں ڈال دیا گیا ہے۔

    اس بے رحم سماج کا رویہ ہم پولیس والوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے، ہے نا؟ آپ کہیں گے کہ مجرُوح صاحب کے ذکر کے ساتھ پولیس والوں کا کیا تعلق۔ تو جناب، بات دراصل یوں ہے کہ محمد سلطان عرف مجرُوح سلطانپوری صاحب کے والد محترم جناب اسرار الحسن خان پولیس محکمے میں ملازم تھے، اور اسی لیے مجرُوح صاحب اس ”اہلِ وفا“ والی طرزِ زندگی۔۔۔ یعنی بلیک لسٹڈ نظم و ضبط میں جینا۔۔۔ خوب جانتے تھے۔

    خیر، یہ تو پولیسیا تشریح ہو گئی، جسے کوئی سنجیدگی سے لینا پسند نہیں کرے گا۔ لیکن اگر کوئی سنجیدہ مجرُوح شناس ان اشعار کی تشریح کرے، تو یوں کرے گا کہ مجرُوح صاحب کو اپنی قدر و قیمت کا احساس تو ہے، مگر زمانہ صرف تماشا دیکھ رہا ہے۔۔۔ دل کو کوئی نہیں خریدتا۔ ہر نگاہ میں ”خریدار“ کی ہوس ہے، مگر کوئی سچا خریدار نہیں۔ اُن کی خلش یہ ہے کہ اُن کی محبت اور ذات بازار کی چیز بن کر رہ گئی ہے، جسے ہر کوئی دیکھتا ہے، مگر اپناتا کوئی نہیں۔ اور چاہت و وفا کے باوجود اُن کا نام عزت کی فہرست میں نہیں آتا، بس مجرموں کی قطار میں کھڑا رہ جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ یہ اشعار بظاہر مزاح اور طنز میں لپٹے ہیں، مگر اصل میں ایک حساس دل کی بے قدری، سماج کی بے اعتنائی اور محبت کی ناقدری کا نوحہ ہیں۔ یہ ہنسی میں چھپا وہ درد ہے جو سب سے زیادہ گہرا اور تنہا ہوتا ہے۔

    جناب! میرے نزدیک مجرُوح سلطانپوری صرف ایک نغمہ نگار یا شاعر نہیں تھے۔ وہ ہماری زندگی، ہماری محبت اور ہمارے معاشرے کے جذبات کے عکاس تھے۔ اُن کے گیت اور اشعار آج بھی اتنے ہی جاندار اور قابلِ تعلق ہیں جتنے اُن کی زندگی میں رہے ہوں گے۔ بغاوت ایک قلمکار کا فطری وصف ہے، جو آج کل کے قلمکاروں میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اگر دکھائی بھی دیتا ہے، تو صرف ٹی آر پی یا وائرل ہونے کی حد تک۔ مجرُوح سلطانپوری کی آزاد ہندوستان میں گرفتاری کسی قلمکار یا فنکار کی اظہارِ آزادی کا پرچم بلند کرنے والی گرفتاری تھی۔

    اس تحریر کا مقصد مجرُوح صاحب کی سوانح عمری لکھنا ہرگز نہیں ہے۔ وہ سب تو اُن پر پی ایچ ڈی کرنے والوں نے اپنے ناموں سے پیٹنٹ کروا ہی رکھا ہے۔ یہ سب آپ کو کتابوں اور انٹرنیٹ پر دانشوروں اور بلاگرز کی ”انٹلیکچوئل پراپرٹی“ کے ٹیگ کے ساتھ مل جائے گا۔ میں جو پولیس کے زاویے سے اُنہیں پڑھا اور سمجھا ہے، وہ آپ کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہوں۔ مگر خاکسار کی پولیسیا نظر کا برا نہ مانیے گا۔ جہاں آپ کو طنز نظر آئے، شاید وہاں کوئی سچائی چھپی ہو۔۔۔ کیونکہ جناب، زندگی کی ایف آئی آر میں سچائی ہی آخری گواہ ہوتی ہے۔

    اُن کی زندگی، اُن کے کردار اور اُن کی لازوال میراث کو سمجھنے میں جو پہلی بات مجھے اپیل کرتی ہے، وہ اُن کی باغی فطرت ہے۔ والد نے داخلہ ایک مدرسے میں کروایا، جہاں سے انہوں نے اردو، عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ بچپن سے گانوں کا شوق تھا، اس لیے گانے کی کلاس بھی جوائن کر لی۔ مگر والد سخت گیر تھے۔ گانا چھڑوا کر یونانی کالج میں داخلہ دلوا دیا۔ سخت والد اور حکیمی کی تعلیم کے باوجود، اُن کی باغی اور شوقین طبیعت کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بچپن سے شاعری اور گانے میں اپنی دلچسپی کو نہیں چھوڑا۔ انہوں نے 'ناصح' کے بعد 'مجرُوح' تخلص اپنایا اور حکیمی کو کم اہمیت دیتے ہوئے پورے ہندوستان میں مشاعروں کے ذریعے اپنی شناخت بنائی۔

    جیسے بازار میں کوئی سستی چیز رکھی ہو۔۔۔ ہر کوئی دیکھ لیتا ہے، چھو بھی لیتا ہے، مگر خریدنے کی ہمت کم ہی کرتا ہے۔ مجرُوح صاحب نے اپنے گیتوں اور اشعار میں ٹھیک اسی طرح عام آدمی کی چھوئی ان چھوئی جذبات کو اٹھایا۔

    اُن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ معمولی زندگی کی عام باتوں کو بھی شاعری اور گیتوں میں اس طرح پرو دیتے تھے کہ وہی معمولی بات اچانک گہرے معنی کا آئینہ بن جاتی۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کی تخلیقات ہر طبقے کے دل میں جگہ بنا لیتی تھیں۔۔۔ گویا اُن کے گیت کسی وی آئی پی پاس سے نہیں، بلکہ جنرل ڈبے کی ٹکٹ سے سفر کرتے تھے۔

    اُن کے فلمی گیتوں میں محبت بھی تھی، درد بھی، ہنسی مذاق بھی اور سماج کو آئینہ دکھاتا پیغام بھی۔ سننے والا چاہے عاشق ہو، عاشقہ ہو یا پھر کوئی بس اسٹینڈ پر کھڑا ٹکٹ چیکنگ انسپکٹر۔۔۔ ہر کسی کو لگتا تھا کہ یہ گیت اُسی کے لیے لکھا گیا ہے۔

    ہی تو مزہ تھا۔۔۔ اُن کے گیت محض گیت نہیں ہوتے تھے، بلکہ زبانی چارج شیٹ کی مانند ہوتے تھے۔ گویا، مجرُوح صاحب الفاظ کے تھانے میں بیٹھے ایس ایچ او تھے۔۔۔ جہاں ہر گیت میں ایک ”FIR of sabaq“ درج کر دی جاتی تھی۔ فرق بس اتنا تھا کہ یہ ایف آئی آر سن کر لوگ تھانے سے بھاگتے نہیں تھے، بلکہ گنگناتے ہوئے گھر لے جاتے تھے!

    چند مثالیں ملاحظہ ہوں،

    ”تیرے میرے ملن کی یہ رینا“، یہ گانا بنیادی طور پر وہ لمحہ ہے جب نائٹ ڈیوٹی کرنے والا افسر، تھکی ہوئی آنکھوں کے ساتھ، چارج لسٹ پڑھتا ہے اور کہتا ہے، ”اب تمھارے حوالے وطن ساتھیوں“، اور نئی شفٹ کا افسر ہلکی سی جمائی کے ساتھ اشارہ کرتا ہے، ”ٹھیک ہے، باقی میں سنبھال لوں گا۔“ محبت کا ملاپ اور پولیس ڈیوٹی کے حوالے - دونوں راحت، بوجھ اور ایک غیر مرئی تھکاوٹ پیش کرتے ہیں جو گرم سورج کی روشنی کی طرح ہر رگ میں دوڑتی ہے۔

    ”چُرا لیا ہے تم نے جو دل کو۔۔۔“ اب یہ گیت تو سراسر تعزیراتِ ہند کی دفعہ 379 (چوری) کا کیس بنتا ہے۔ ذرا سوچیے، اگر پولیس اس معاملے کو سنبھالتی تو ایف آئی آر کچھ یوں درج ہوتی، شکایت کنندہ کہتا ہے کہ ملزمہ نے مال (دل) واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے اور بس ”قسم سے“ کی گردان لگا رکھی ہے۔ اب اس پر عدالت بھی یہی کہے گی،

    ”Evidence is circumstantial but song is evergreen.“

    یعنی، مجرُوح صاحب کے گیت صرف فلمی نغمے نہیں تھے، بلکہ پولیس ڈائری میں درج مختلف کیس اسٹڈی کی مانند تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں چالان نہیں کٹتا تھا، بلکہ لوگ گنگناتے گنگناتے دل کے قیدی بن جاتے تھے۔

    اب ذرا اُن کی اسلوب کی تین بڑی خصوصیات کو ایک پولیس میں کے زاویے سے دیکھیے،

    ١۔ سادگی: مجرُوح صاحب کی سب سے بڑی طاقت یہی تھی۔۔۔ مشکل الفاظ کا کوئی دکھاوا نہیں۔ بالکل ویسے جیسے پولیس کی زبان ہوتی ہے، ”نام بتاؤ، پتہ بتاؤ، سچ بولو۔“ سادہ الفاظ، مگر اثر بجلی کی مانند۔ نہ کوئی الجھن، نہ کوئی قانونی دفعہ۔۔۔ بس سیدھی دل پر ضرب۔

    ٢۔ جذباتی گہرائی: ہر شعر اور گیت میں محبت، درد اور زندگی کی سچائی کا امتزاج۔ یہ بالکل ویسا ہے جیسے کسی کیس فائل کے اوپر ہنسی مذاق درج ہو، مگر صفحے پلٹتے ہی اندر سے ادھوری محبت، ٹوٹا ہوا اعتماد یا انصاف کی پکار نکل آئے۔ یعنی ہنسی میں لپٹا ہوا رونا۔۔۔ جسے مجرُوح صاحب بخوبی جانتے تھے۔

    ٣۔ ثقافتی وابستگی: اُن کی تخلیقات میں ہندوستانی تہذیب اور روایت کی خوشبو تھی۔ جیسے کوئی داروغہ یہ کہے، ”وراثت صرف پدری جائیداد سے نہیں بنتی، بلکہ ڈیوٹی کے پسینے سے کمائی جاتی ہے۔“ مجرُوح بھی یہی مانتے تھے۔۔۔ کہ اصل ادب وہی ہے جو عوام کے دلوں میں اپنی محنت سے جگہ بنائے۔

    مجرُوح کی میراث ہمارے درمیان ہمیشہ زندہ رہے گی، اور آنے والی نسلیں بھی اُن کے گیتوں اور اشعار کے ذریعے زندگی کی خوبصورتی کو محسوس کریں گی۔ اُن کے نغمے ہمیں بار بار یہ یاد دلاتے ہیں کہ سچی عظمت صرف صلاحیت کی بلندیوں میں نہیں، بلکہ سماج اور زندگی کے لیے اُس جذبے میں چھپی ہوتی ہے جو الفاظ کو انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنا دے۔

    اور جناب، یہی اُن کی سب سے بڑی ”چارج شیٹ“ ہے۔۔۔ جس میں اُن کے خلاف کوئی الزام نہیں، بلکہ صرف تعریف درج ہے۔ الفاظ کا جادو امر ہے، اور مجرُوح سلطانپوری اُس جادو کے سب سے روشن ستارے ہیں۔

    یعنی۔۔۔ ”کیس فائل بند، لیکن ثبوت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔“

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے